قانون کی پٹائی

2,687

چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں کم و بیش پندرہ وکلاء نے کمرہء عدالت میں پنجاب پولیس کے ایک اے ایس آئی کی درگت بنائی اور اسے پیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ ہمارے ملک میں قانون کی کتنی عزت ہے یہ وڈیو اسکا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئیے اس وڈیو کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک پولیس والے کی پٹائی ہونے پر زمین پھٹی اور نہ آسمان کیونکہ پولیس والے انسان نہیں ہوتے بلکہ انہیں حیوان تصورکیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں احتجاج کا حق ہے اور نہ کوئی تنظیم بنانے کا۔ آپ ایک پولیس والے کے ساتھ چاہے جتنی بھی زیادتی کر لو چراغ تلے اندھیرا کے مصداق اسکے حق میں کوئی آواز نہیں اٹھے گی۔صرف ایک عدد ایف آئی کا اندراج ہوگا اور کیس عدالتوں کی راہداریوں میں گم ہوجائے گا۔

اسکے برعکس اگر کسی پولیس والے کے ہاتھوں وکیل کی پٹائی ہوئی ہوتی تو ہر شہر کی شاہراہیں کالے کوٹوں سے بھری ہوئی جبکہ عدالتیں خالی نظر آتیں۔ ہڑتالیں، احتجاج اورجلاؤ گھیراؤ جیسے ہربے استعمال کیے جاتے یہاں تک کے پولیس افسران کو مجبوراََ متعلقہ پولیس ملازم کو معطل کرنا پڑتا، انکوائری سٹینڈ کرنی پڑتی اور اسکے خلاف ایف آئی آر کا اندراج بھی کیا جاتا۔

وکلاء کے ہاتھوں ایک پولیس والے کی پٹائی والے اس واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔مثلاََ اگر پٹائی کرنے پر ایک پولیس والا معطل ہوسکتا ہے اور اسکے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے تو کیا وکلاء آسمانی مخلوق ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے پر انکے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی؟۔ کیا بارکونسلوں کا کام صرف اور صرف وکلاء کو لائسنس کا اجراء ہے۔ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر کسی وکیل کا لائسنس معطل کرکے اسکے خلاف انکوائری کیوں شروع نہیں کی جاتی؟۔ اس سے قبل بھی بے شمار ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ وکلاء نے پولیس ملازمین ، افسران حتی کہ ججوں کو بھی تھپڑوں اور جوتوں کا نشانہ بنایا لیکن وہ وکلاء آج بھی انہی عدالتوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔ انکے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ باامر مجبوری اگر کوئی ایکشن لیا جاتا ہے تو بات صلح صفائی تک جاکر ختم ہوجاتی ہے۔

بی اے کی ڈگری لینے کے بعد اگر آپ لاء کا امتحان پاس کرلیںاور وکالت کی پریکٹس شروع کردیں تو آپ نہ صرف اپنے محلے کے چوہدری بن جاتے ہیں بلکہ قانون کی دھجیاں اڑانے ، ناجائز تجاوزات لگوانے، ہر دونمبر کام کروانے ، بے دھڑک افسران کے کمروں میں گھسنے اور ان سے جائز و ناجائز کام کروانے کا آپکو لائسنس بھی مل جاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہر وکیل برا ہے بے شمار اچھے وکیل بھی موجود ہیں مگر 2007ء میں شروع ہوئی چیف جسٹس بحالی تحریک نے وکیل برادری کو انصاف دلانے والوں کی بجائے ایک ڈنڈا بردار فور س بنا دیا ہے۔ یہ واحد ایسی برادری ہے جو شاید خود کو قانون سے بالا تر تصور کرتی ہے۔

درج بالا واقعہ کے ردعمل میں متعلقہ وکلاء کے خلاف دہشت گردی دفعات کے تحت ایک عدد ایف آئی آر کا اندراج اسلام پورہ تھانے میں ہوچکا ہے تاہم ان قوانین میں پائے جانے والے سقم، قانونی موشگافیوں اور عدالتی نظام کی کمزوریوں کی بدولت دہشت گردی کی ان دفعات کو ثابت کرنا ممکن نہیں رہے گا دوسری طرف مارکھانے والے پولیس ملازم کو دی جانے والی دھمکیاں بھی کارگر ثابت ہوں گی ۔

اگرچہ سپریم کورٹ نے اس واقع کا نوٹس لے لیا ہے مگر سوا ل یہ ہے کہ کیا وہ پولیس افسر جسکی پٹائی ہوئی اور دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ، کیا اسے انصاف مل پائے گا؟ کیا عدالت عالیہ پندرہ عدد وکلاء کو سز ا دے پائے گی۔ کیا بار کونسل لاہور ان پندرہ وکیلوں کے لائسنس کینسل کرے گی؟یہ چند ایسے چبھتے سوال ہیں جس کا جواب نفی میں ہے۔ کیوں؟ بالفرض عدالت عالیہ ان وکیلوں کو سزا سنا دیتی ہے اور لاہور بار کونسل ان سب کا لائسنس کینسل کردیتی ہے تو ایسی صورتحال میں وکلاء برادری کو اپنا رعب و دبدبہ ختم ہوتا ہوا محسوس ہوگا۔ وہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ انکی اجارہ داری کو زوال آئے لہذا اپنے کالے کوٹوں والے بھائیوں کی حمایت میں تمام وکلاء برادری سڑکوں پر نکل آئے گی اور وہ دھماچوکڑی مچائے گی کہ حکومت کو جان کے لالے پڑجائیں گے۔ حالات بگڑتے دیکھ کر اپوزیشن بھی میدان عمل میں کود پڑے گی اور نئے پاکستان کا سورج ہمیشہ کے لئے غروب ہوجائے گا۔

چیف جسٹس صاحب چونکہ ان تمام حالات کا ادراک رکھتے ہیں لہذا وہ حالات اس نہج تک پہنچنے ہی نہیں دیں گے کہ وکلاء برادری جو کبھی اپنے چیف جسٹس کی بحالی کے لئے نکلی تھی ،اب اسکے خلاف نکلے۔ لہذا سوموٹو نوٹس کا ممکنہ نتیجہ یہ ہو گا کہ فریقین میں صلح ہوجائے گی اور سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔ لیکن قانون کی عزت پر جو بِٹا لگا ہے وہ کبھی بھی دھل نہیں پائے گا۔ خواہ پرانا پاکستان ہو یا نیا پاکستان قانون کی پٹائی ہوتی رہے گی اور انصاف کے علمبردار اتنی مارکٹائی کے باوجود بھی سرعام دندناتے رہیں گے۔

Endeavoring writer, poet, blogger and columnist

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.