8 اکتوبر2005 جب باغ خزاں ہوا

887

یہ اکتوبر دو ہزار پانچ کی اک صبح تھی جس نے پاکستان کے زیر انتظا م آزادکشمیر کے ہر باسی کے شب و روز بدل دیے. اتنا ہی نہیں ہمارے تو وقت زمانہ اور صدی بھی بدل گئی تھی ۔ آٹھ اکتوبر کی صبح آنے والے زلزلے نے آزاد کشمیر ، شمالی علاقہ جات سمیت خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ اس زلزلے میں آزاد کشمیر کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہوا. اسی ہزار سے زائد نفوس لقمہ اجل بنے ۔ اس میں بڑی تعداد تعلیمی اداروں میں موجود طلبا کی تھی جو شاید ہماری اک نسل تھی۔ وہ مٹی کے ڈھیر اور کچے پکے گھروں ،سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کی منہدم چھتوں تلے دبے نفوس تھے جو دارلفا کو چل دیے تھے ۔ ہمارے گاوں مٹی ہو گئے تھے. یہ الفا ظ ہم ہر برس ہی دہراتے ہیں اور ان کے دہرانے میں ہر سال ہم اپنی اکتوبر دو ہزار پانچ کی تصویر دیکھتے ہیں اور اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب ہم تقریبا ایک صدی پیچھے چلے گئے تھے ۔

یہ وہ وقت تھا جب ہم اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے، مفلوک الحال ہوئے اور کسی مسیحا کے منتظر تھے ۔ شہروں سمیت گاوں دیہات بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ گاؤں میں مٹی کے بنے کچے اور پکے گھر بھی زمیں بوس ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے کسی مسیحا کے منتظر تھے۔ ابتدائی طور پر بے گھر افراد کو فوری گھر مہیا کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے اور ہماری خوب امداد بھی ہوئی۔ باغ مظفر آباد سمیت کئی شہر انفراسٹرکچر کے لحاظ سے نقشے سے ہی مٹ گئے ۔ زلزے سے متاثرہ شہروں میں باغ شہرانفراسٹرکچر کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور ضلعی انتظامیہ کا مکمل سیٹ اپ تہس نہس ہو گیا. دارلحکومت مظفر آباد میں ضلعی انتظامیہ کے کچھ دفاتر محفوظ رہے اور کچھ نہ کچھ انتظامی سیٹ اپ باقی رہا۔ ان تباہ حال شہروں کو واپس شہر کا نقشہ دینے کے لئے بڑی امداد مختلف ممالک سمیت قومی سطح پر مختلف اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی جو کہ موصول کرنے والوں کی جانب سے پوری طرح صرف ہی نہ گئی ۔ اس قیامت کے گزر جانے کے بعد عالمی برادری نے تعمیر نو کیلئے ساڑھے چھ ارب ڈالر کی خطیر رقم مہیا کی ۔اس امداد سے باغ شہر کی تعمیر نوکیلئے 30 ارب روپے کا ماسٹر پلان تیار ہوا جو کہ مقامی اداروں کی سمجھ میں نہ آ سکا اور اسے ناکارہ قرار دیا گیا ۔

امداد کی تقسیم کے وقت کئی طبقات نے جنم لیا اور ایک دائرے میں گردش کرنے والی امدادی رقوم اور امدادی اشیا نچلی سطح تک منتقل ہوتے ہوئے اپنی اصل صورت میں نہ رہیں ۔ نتیجے میں جوترقیاتی اور بحالی کے منصوبے معینہ مدت میں مکمل ہونے تھے وہ اس سے کئی گنا زیادہ مدت میں بمشکل تکمیل کو پہنچے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال ضلع باغ کا مرکزی اور سہولیات کے لحاظ سے واحد جدید ہسپتال کی تعمیر ہے جو کہ کچھ ماہ پہلے تکمیل کو پہنچا اور اب آپریشنل کر دیا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ باغ شہر میں ضلع انتظامیہ کےدفاتر بھی تیرہ سال گزر جانے کے باوجود تکمیل کو نہ پہنچ سکے اور تا حال اکتوبر کا ستم بیان کرتی شیلٹروں میں قائم عدالتیں اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر دفاتر اب منہ چڑانے لگے ہیں۔

اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں مواصلاتی کمپنیوں کا جال تیزی سے پھیلا اور مواصلات سمیت کئی شعبوں میں بہتری آئی ۔ لیکن آزاد کشمیر کے متاثرہ شہروں کی از سر نو تعمیر کے لئے جو پلان ترتیب دیے گئے تھے وہ عملی طور پر کہیں نظر نہیں آئے. اگرچہ آن کی آن میں نئی عمارتیں تعمیر ہو گئیں مگر اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلہ میں ہمارا انفراسٹرکچر جس حساب سے تباہ ہوا تھا اس کے بارے میں گمان کرنا بھی محال تھا کہ یہ کبھی دوبارہ تعمیر ہو پائے گا۔ امداد سے مختص شدہ رقوم آزاد کشمیر کے متاثرہ شہروں میں نہ ہی بھرپور انداز سے صرف کی گئی اور نہ ہی شہروں کی تعمیر میں منصوبہ بندی کا پہلو مد نظر رکھا گیا۔

اسےبدقسمتی ہی کہیے کہ اگر آزاد کشمیر اس قدرتی آفت کا شکار نہ ہوتا تو امور کی جانب کسی کی توجہ نہ جاتی ۔ بیرونی امداد سے بجلی پانی اور دیگر بنیادی ضرورت کے منصوبےشروع کیے گئے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد اس کی بحالی کے عمل کےدوران کچھ مثبت پہلو بھی نظر آئے ہیں جس میں مواصلات کے شعبے میں بہتری سمیت مرکزی شاہرات کو ریاست کی قومی شاہرات کا درجہ دینا اور انکی ازسر نو تعمیر ہے ۔

ایک ایسا سانحہ جس میں ہمارے اپنے ہم سے جدا ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ معذور ہوئے ۔ اس کے بعد آج اگر زلزلے سے متاثرہ آزاد کشمیر میں نظام زندگی پہلے سے بہتر سطور پر چل رہا ہے تو یہ ضروران شہیدوں کی قربانی کے بعد ممکن ہوا ہے جو اس ناگہانی آفت کی نظر ہوئے ۔ ہم سے مٹی کے کچے گھر چھن گئے، پیارے بھی نہ رہے لیکن حد نظر سے آگے زندگی اب بھی رواں دواں ہے …. مگر اکتوبرکا وہ دن جب میرا باغ خزاں ہو ا یاد ضرور آتا ہے۔

ایک نجی ٹیلی وژن مین بطور رپورٹر کام کر رہے ہیں
نمل یونیورسٹی اسلام آباد سےماس کیمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Riaz ratvi کہتے ہیں

    میرے خیال میں.کل پولیس کے افسر کو سرعام رسوآھوتے دیکھا آج پورا دن ٹیلی پر پروگرام دیکھتا رھا کہ خبر آئے گئ کہ جناب محترم چیف جسٹس صاب از خود نوٹس لیں گئے اور زمہ داروں کو کہٹرے میں لائیں گئے . لیکن جب خبر نہ دیکھی تو سوچا شائد دنیا نیوز پیپر والوں سے غلطی ھو گئ ھو دوبارہ خبر پڑھی غور کیا تو پتا چلا یہ تو وکل بھائ ھیں
    تو سوچا شائد عدالت نے وکیلوں کو اختیار دے رکھا ھو کہ آپ سرعام اسے کام کریں تا کہ آپ کا تمام لوگوں پر خوب رعب جمعے

تبصرے بند ہیں.