عمران خان بگڑی قوم پر سختی کریں مگر۔۔۔

19,876

یہ بہار کے موسم کی خوشگوار شام تھی۔ میں نے مری جانے کا پروگرام بنا لیا۔ سب کچھ اپنے شیڈول کے مطابق ہوا اور ٹھیک دو دن بعد میں مری روانہ ہوگیا۔ یہ میرا مری کا دوسرا ٹرپ تھا۔ راستے میں زندگی کے بہت سے خوشگوار رنگوں کو دیکھا اور محسوس کیا یقیناً یہ ہر لحاظ سے ایک انتہائی خوشگوار سفر تھا۔ تین دن کے اِس سفر میں ہر طرح کی موج مستی کرنے کے بعد واپس لوٹنے کا وقت آگیا۔ واپسی کا سفر اتنا بھیانک ہوگا یہ میں نے سوچا نہ تھا۔ راستے میں ایک گاڑی والے کی موٹر سائیکل والے سے ٹکر ہوگئی۔ دونوں کی رفتار انتہائی مناسب تھی لیکن اِس حادثے میں موٹر سائیکل سوار کے سر پر چوٹ لگنے سے موقع پر موت واقع ہوگئی۔ یہ منظر میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ میں ایک شخص کو اپنے سامنے مرتا دیکھ کر بہت افسردہ ہوچکا تھا۔ وقت گزرتا چلا گیا اور میں اس حادثےکو بھول گیا۔ ابھی میں نے اِس حادثے کو بڑی مشکل سے بھلایا ہی تھا کہ ملک میں‘‘ہیلمٹ ’’ کی گونج سنائی دینے لگی۔ میں نے کچھ لوگوں کو اِس کےدفاع میں بولتے سُنا جبکہ کچھ لوگوں کو تنقید کرتے سُنا اور پھر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ بے شک زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور انسان صرف اور صرف تدبیر کرتا ہے.

کاش! مری کے اُس حادثے میں اُس شخص نے تدبیر کی ہوتی اور ہیلمٹ پہنا ہوتا تو آج شائد وہ زندہ ہوتا۔ اب آپ اِس بات کو ایک دوسرے زاویے سے سوچ کر دیکھیں۔ ہمارے ملک میں کرپشن عام ہے۔ حکمران تو دور کی بات عام آدمی بھی قانون کی پاسداری نہیں کرتا۔ ہمارے معاشرے میں ایک بگاڑ پیدا ہو چکا ہے اور اِس بگاڑ کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہر شخص خود کو قانون سے بالا تر سمجھتا ہے۔ میں نے میڈیا پر یہ کہتے سُنا ہے کہ اگر غریب آدمی اتنے کا چالان بھرے گا تو اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا۔ میرا اُن تمام لوگوں سے کہنا ہے کہ جس عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لئے آپ نے ووٹ دیا ہے اب اُس کے فیصلوں کی عزت کرنا بھی سیکھیں۔ بات امیر یا غریب کی نہیں ہے۔ بات قانون کی ہے آپ جب قانون کا احترام کریں گے ، قوانین پر عمل کریں گے تو آپ چاہے امیر ہوں یا غریب کوئی آپ کا چالان نہیں کرے گا۔ آپ دُنیا کا کوئی بھی ترقی یافتہ ملک اُٹھا کر دیکھ لیں اس ملک میں لوگ آپ کو قانون کی پاسداری کرتے نظر آئیں گے اور اس کی وجہ وہاں کے سخت قوانین اور ان پر سختی سے عمل درآمد ہے۔

ہمیں یہ کھلے دل سے ماننا ہوگا کہ ملک میں جو فضا بن چکی ہے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہو چُکا ہے اس کا خاتمہ صرف اور صرف سخت قوانین ہیں۔ ہمارے ملک میں پندرہ پندرہ سال کے بچے شہر کے اندر تیز رفتاری سے موٹر سائیکل چلاتے نظر آتے ہیں۔ گاڑیوں کی نمبر پلیٹ ایک عام مسئلہ ہے۔ اس ملک میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانا لوگ اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ایک ہزار میں سے صرف اور صرف چند لوگ ہیلمٹ پہنے نظر آتے ہیں۔ موٹر سائیکل کی یہ خطر ناک سواری کئی جانوں کا ضیا کر چکی ہے۔ آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا ہمیں چاہیے کہ خود کو بدلیں۔

انسان کے لئے اس کی جان سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے۔ اگر جان ہے تو جہان ہے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ملک میں بنائے گئے قوانین کا احترام کریں ۔ اس میں فائدہ صرف اور صرف ہمارا ہے۔ کیونکہ قوموں کی ترقی سے ہی ملک ترقی کرتے ہیں۔ میرا عمران خان صاحب کو ایک مشورہ ہے کہ بے شک آپ میں کچھ کرنے کا جذبہ ہے لیکن جب بگڑے ہوئے بچے پر بہت زیادہ سختی کی جائے تو وہ اُکتا جاتا ہے ۔ اس ملک کے لوگ بھی بگڑے ہوئے بچوں سے کچھ کم نہ ہیں اگر آپ ایک دم اِن پر سختی کریں گے اور بوجھ ڈال دیں گے تو پھر یہ آپ سے اُکتا جائیں گے۔ سالوں لگ گئے اِس بگاڑ کے پیدا ہونے میں ۔ اِس لئے لوگوں کو تھوڑا وقت دیں ۔ آپ سختی کریں لیکن اتنی جتنی سہی جا سکے ۔ تاکہ مسئلہ بھی ختم ہو جائے اور لوگ بھی آپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Akhter khan کہتے ہیں

    bhut sahi baat ki ha apny khas kar blog ki closing bhut zabardast hai.

تبصرے بند ہیں.