پنجاب پولیس کو مثالی کیسے بنایا جائے؟

1,628

نئی حکومت کے آنے کے بعد پنجاب پولیس کو مثالی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں سابق آئی جی خیبر پختونخواہ کی سربراہی میں ایک کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے جو پنجاب پولیس کو ایک مثالی پولیس بنانے کے لئے گائیڈ لائنز مہیا کرے گا۔ اس کمیشن نے پنجاب کے تمام اعلیٰ افسروں سے بھی تجاویز طلب کی ہیں۔ اسی سلسلہ میں چند گزارشات ہم بھی پیش کیے دیتے ہیں شاید ان سے پولیس کی بہتری کا کوئی پہلو نکل آئے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کوئی نوکری کیوں کرتا ہے؟ ظاہر ہے پیٹ کی خاطر. لیکن اگر پولیس کی نوکری کرنے سے ایک پولیس والے کا اپنا اور خاندان کا پیٹ ہی نہ بھر پائے تو لازماََ وہ چور راستے ڈھونڈے گا۔ لہذا سب سے پہلے تو پولیس والوں کی تنخواہیں اور مراعات کم از کم عدلیہ یا سول سیکریٹریٹ کے ملازمین کے برابر کی جائیں۔ یہاں کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ کچھ عرصہ پہلے خادم اعلیٰ نے بھی تو پولیس کی تنخواہیں بڑھائیں تھیں مگر پولیس جوں کی توں ہی رہی تو عرض ہے کہ پولیس کو ٹھیک کرنا ہے تو پہلے اسکے تمام ضروری لوازمات پورے کرنے پڑیں گے۔ اگرچہ خادم اعلیٰ پنجاب نے پولیس کی تنخواہیں بڑھائیں تھیں مگر سیاسی اثرورسوخ سے آزاد نہیں کیا تھا کیونکہ کسی علاقے کا ایس ایچ او بھی ایم این اے اور ایم پی اے کی مرضی کے بغیر نہیں لگتا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پنجاب پولیس کو مثالی پولیس بنانا ہے تو پہلے اسے سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کیا جائے جیسا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کیا۔

سوم، پولیس ملازم جب ڈیوٹی پر آتا ہے تو اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ گھر واپسی کب ہوگی جسکی وجہ سے اسکی گھریلو زندگی پر انتہائی برا اثر پڑتا ہے ۔ ماں، باپ ، بیوی، بچے ، دوست اور عزیزو اقارب کسی کو وقت نہیں دے پاتا حتی کہ کسی کی شادی کی تقریب میں شمولیت کرنی ہو یا کسی عزیز کے جنازہ میں شرکت کرنی ہو تو بیچارا ہاتھوں میں عرضیاں پکڑے افسروں کے دفاتر کے چکر لگا رہا ہوتا ہے۔ جس انسان کی اپنی فیملی لائف اتنی ڈسٹرب ہو وہ دوسروں کو کیا تحفظ فراہم کرے گا۔ لہذا پہلے پولیس والے کو گارنٹی دیں کہ اسے صرف آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرنی ہے اور ہر ہفتے ایک چھٹی بھی ملے گی اور ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد یا چھٹی والے دن اسے کسی صورت بھی ڈیوٹی پر نہیں بلایا جائے گا تو دیکھئے گا پولیس کا کلچر کیسے بدلتا ہے۔

سرکای چھٹیوں کے دوران جب تمام سرکاری محکموں کے ملازمین چھٹیوں پر ہوتے ہیں تو پولیس ملازمین تب بھی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف دوسرے سرکاری ملازمین ہفتے اور اتوار کی چھٹیوں کے علاوہ بھی ایک سال میں چوبیس چھٹیاں انجوائے کرتے ہیں مگر بیچارے پولیس ملازم کو ہفتہ وا ر ہی ریسٹ مل جائے تو وہ غنیمت جانتا ہے ۔ مزید یہ کہ دوسرے سرکاری ملازمین کی طرح پولیس ملازم کو بھی سال میں چوبیس چھٹیاں گزارنے کا حق حاصل ہے مگر اپنا یہ حق حاصل کرنے کے لئے بھی اسے کئی طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ایک چھٹی لینے کے لئے دس جگہوں سے درخواست فارورڈ کروا کر چھٹی ملتی بھی ہے تو محرر آڑے آجاتا ہے کہ نفری کی کمی کی وجہ سے آپکی روانگی نہیں ہوسکتی ۔اس سے معلوم ہوا کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کا ایک بڑا اور چوتھاعنصر نفری کی کمی ہے۔ لہذا پولیس کی کارکردگی کی بہتری کے لئے پولیس ملازمین کی اتنی تعداد میں بھرتی ضروری ہے کہ نفری میں کمی کی شکایت نہ رہے۔

پنجم، زیادہ تر سرکاری محکموں میں سرکاری ملازمین کی یونین اور تنظیمیں موجود ہیں جو انکے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور کسی زیادتی کی صورت میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں لیکن پولیس ملازمین کو نہ تو یونین بنانے کی اجازت ہے اور نہ ہی احتجاج کرنے کی اجازت۔ ایک پسے ہوئے شخص کو جب بولنے یا احتجاج کی اجازت بھی نہیں ہوگی تو اسکی فرسٹریشن بڑھے گی ۔ یہاں سوال اٹھے گا کہ پولیس ایک سیکیورٹی ایجنسی ہے جس میں یونین کی اجازت نہیں دی جاسکتی. بجا ہے مگر کوئی ایسا پلیٹ فارم بنا دیا جائے جہاں وہ اپنا احتجاج افسران بالا کو ریکارڈ کروائے تو اسکے خلاف کوئی محکمانہ کاروائی عمل میں نہ لائی جائے گی بلکہ اگر وہ سچا ہو تو اسکے ساتھ کی گئی زیادتی کا ازالہ کیا جائیگا۔

ششم، پولیس ملازمین کو اپنی ساری سروس کے دوران تین چیزوں کا شدت سے انتظار ہوتا ہے جن میں سے دو چیزوں یعنی چھٹی اور تنخواہ کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ تیسری چیز جسکا انتظار ایک پولیس ملازم کو ساری عمر رہتا ہے وہ اگلے عہدے پر ترقی ہے۔ پولیس کا سب سے نچلا رینک کانسٹیبل کا ہے جبکہ پنجاب پولیس میں ایک کہاوت زبان زد عام ہے کہ “‘کانسٹیبل سے چھوٹا رینک کوئی نہیں اور راجن پور سے آگے ضلع کوئی نہیں، لہذا اکھاڑ لو جو اکھاڑنا ہے” یہ ایک کہاوت پنجاب پولیس کے پسے ہوئے طبقے کی صحیح ترجمانی کرتی ہے۔ اس کہاوت کی گہرائی اور اس میں چھپے کرب کو پہچان لیا جائے تو کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔ داراصل پنجاب پولیس کا سسٹم طبقاتی نظام کی شکل اختیار کرچکا ہے جیسے ہندوؤں میں ذات پات کا نظام ہے۔اعلی افسران براہمن، رینکر ایس پیز اور ڈی ایس پیز شتری، انسپکٹر، سب انسپکٹراور اے ایس آئی ویش جبکہ کانسٹیبل بیچارے شودر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خال ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شودر یعنی کانسٹیبل کے عہدے کا پولیس ملازم شتری یعنی ایس پی یا ڈی ایس پی کے عہدے پر بھی پہنچ پائے۔ اس طبقاتی نظام کے خاتمے میں ہی پنجاب پولیس کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔

ہفتم، جسطرح پاک فوج کے ملازمین کومیڈیکل کی سہولیات میسر ہوتی ہیں اور انکے بچوں کو فری تعلیمی مواقع میسر ہیں ایسے ہی مواقع پولیس ملازمین کو بھی فراہم کیے جائیں۔ ایک فوجی اپنے ملک کی خاطر جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا تو اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اسے یقین ہے کہ پاک فوج اسکے بیوی، بچوں اور والدین کی دیکھ بھال کرے گی۔ جبکہ دوسری طرف پولیس ملازم کسی پولیس مقابلے میں جانے سے اس لئے بھی کتراتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو انکے بیوی بچوں کا کوئی والی وارث نہیں ہوگا ۔ الٹا اسکی بیوہ کو پنشن کے لئے بھی دفتروں کے دھکے کھانے پڑیں گے۔

ہشتم، آخر میں وہ الزام جو سب سے زیادہ پنجاب پولیس پر لگایا جاتا ہے وہ ہے کرپشن۔ تو جناب اوپر بیان کردہ تمام تر سہولیات کی عدم فراہمی کا نتیجہ یہ ناسور ہے۔ پہلے ان سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں پھر بھی اگر کوئی پولیس ملازم کرپشن کرے تو پھر اسے سولی پر چڑھا دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ کرپٹ صرف پولیس ہی نہیں ہمارا معاشرہ بھی کرپٹ ہے۔ مثلاََ اگر تھانے میں کسی مقدمہ کا اندراج ہوتا ہے تو دونوں فریقین سفارش یا پیسے سے پولیس ملازمین کو مجبور کردیتے ہیں کہ انکو سپورٹ کیا جائے۔

ٹریفک پولیس اگر روک لے توعوام دوسو کا چالان کروانے کی بجائے رشوت دینے کو ترجیح دیتی ہے۔ تاجر حضرات اپنی دکانوں کے سامنے ریڑھیاں اور ٹھیلے خود لگواتے ہیں جب پولیس والے انکو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو سفارش یا رشوت سے حل نکالا جاتا ہے۔لیکن یہ مسائل دنیا میں ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔پولیس ملازمین کو بہتر سہولیات مہیا کرکے ان تمام مصائب و مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اور صرف ڈنڈے کے زور پر پنجاب پولیس کو سیدھا کر لیا جائے گا تو یہ آپکی خام خیالی ہے۔

Endeavoring writer, poet, blogger and columnist

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.