لاہور میں الیکٹرانک چالان

4,053

لاہور پاکستان کا وہ پہلا شہر ہے جو سیف سٹی سے سمارٹ سٹی بننے کی جانب گامز ن ہے. 2015میں اس وقت کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے لاہور شہر کو محفوظ بنانے کے لیے سیف سٹی پراجیکٹ کی بنیادی رکھی جس کا مقصد شہر کی سڑکوں ،چوکوں چراہوں، بس سٹاپس، ریلوے سٹیشنوں، کھیل کے میدانوں، سرکاری تنصیبات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ بنانا ، ٹریفک کے نظام اورپولیس کلچر میں جدت لانا تھا ۔ کراچی کے بعد لاہور وہ دوسرابڑا شہر ہے جسے سیف سٹی پراجیکٹ کی اشدضرورت ہے۔ لاہور تقریباًاس وقت سوا کروڑ کی آبادی کا شہر بن چکا ہے جس میں 84تھانے ہیں اور ان تھانوں میں 30ہزار کے قریب پولیس نفری ہے ۔ سواکروڑ کی آبادی والے شہرمیں 400شہریوں کی حفاظت پر ایک پولیس والا معمور ہوتا ہے جودہشت گردی کی شکار عوام کی حفاظت کے لیے نا ہونے کے برابر ہے، ایسی صورتحال میں پولیس کی ناکافی تعداد معاشرے میں طرح طرح کے ہونے والے جرائم کی سرکوبی کرنے میں کسی صورت مددگار ثابت نہیں ہوسکتی ۔ سیف سٹی کی سوچ کامشاہدہ کیا جائے تو اس خطرناک صورتحال میں ایسا ہی پراجیکٹ شہر یوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانے، ٹریفک اور پولیس کلچر کو بدلنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات مشہور تھی کہ سابق وزیراعلی دنیا میں جہاں کوئی اچھا پراجیکٹ دیکھتے وہ فوراً اس پراجیکٹ کو پنجاب میں لگانے کی کوشش کرتے۔ لاہور سیف سٹی پراجیکٹ بھی اسی کی ایک مثال ہے ۔

سیف سٹی پراجیکٹ اپنی نوعیت کا منفر د پراجیکٹ ہے جو ایک بار اسے دیکھتا ہے، اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ حال ہی میں موجودہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار صاحب نے لاہورپنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ہیڈآفس کا دورہ کیا تو انہوں نے لاہور سیف سٹی پراجیکٹ کی افادیت سے متاثر ہو کر پنجاب کی ہرڈویژن ہیڈ کوارٹر میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کر نے کا حکم جاری کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس علی اکبر قریشی لاہور شہر کے مسائل پر بہت توجہ دے رہے ہیں ۔ جسٹس صاحب نے تمام سرکاری محکموں کو حکم جاری کیا کہ مال روڈ کوماڈل روڈ بنایا جائے ۔ جس پر ایل ڈی اے، ٹیپا، سٹی ٹریفک پولیس،واپڈا، پی ٹی سی ایل اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کو اپنے محکمانہ کاموں کی ذمہ داری نبھانے کا حکم دیا گیا ۔ سب سے پہلے مال روڈ پرلٹکتی تاروں اور تمام بڑے بڑے بل بورڈز اتارنے کا حکم دیاگیا پھرسٹی ٹریفک پولیس کوموٹرسائیکل سواروں کو ہیلمٹ کے بغیر مال روڈ پر موٹر سائیکل چلانے پر پابندی لگا نے کا حکم صادرکیا گیا۔ اسی دوران جسٹس صاحب نے لاہورسیف سٹیزاتھارٹی ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا جس میں پراجیکٹ حکام نے انہیں مکمل بریفنگ دی. اس بریفنگ کے بعد معززجج صاحب نے اگلے دن ہی حکم جاری کیا کہ سٹی ٹریفک پولیس ہیلمٹ اور سیف سٹیز اتھارٹی ای چلاننگ شروع کرے۔

24ستمبر بروز پیر سے لاہور میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے الیکٹرانک چلاننگ شروع کردی ہے ۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر شہریوں کو گھروں میں ای چالان موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ سیف سٹی حکام کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 5ہزار چالان جاری کئے جارہے ہیں جبکہ 50 ہزار چالان روزانہ بھیجنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسکے علاوہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت ابتدائی طور پر صرف (ریڈ سگنل) سرخ بتی پرقانون کی خلاف ورزی کرنے والے موٹرسائیکل سوار کو 200 جبکہ کار اورجیپ کو پانچ سو جرمانہ بھیجا جا رہا ہے۔ ای چلاننگ کے تحت ہونے والے جرمانے کی رقم دس دن کی مقررہ مدت میں ادا کرنا لازمی ہوگی وگرنہ جرمانے کی رقم دوگنا ہو جائیگی۔

ای چلاننگ کا آغازپنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اورلاہور سٹی ٹریفک پولیس کے اشتراک سے کیا گیا۔ ای چالان پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی 4ت صاویر موجود ہوتی ہیں جس میں گاڑی کے تمام ڈائریکشن واضح ہوتی ہیں جس کی ذریعے یہ پتہ لگ جاتا ہے گاڑی یا موٹر سائیکل نے کس وقت کون سی قانونی خلاف ورزی کی۔

image]

جرمانہ ابتدائی طور پر بنک آف پنجاب میں جمع ہو گا بعد ازاں جرمانے کی رقم جمع کروانے کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان کو بھی سسٹم میں شامل کرلیا جائیگا۔ اس کے علاوہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی بہت جلد ایک اپیلی کیشن متعارف کروانے جارہی ہے جس کے ذریعے یہ پتہ لگایا جاسکے گا کہ آیا گاڑی کا چالان ہوا ہے یا نہیں۔ چالان گاڑی کے مالک یعنی جس کے نام گاڑی رجسٹرڈ ہوگی اس کے پتے پر ارسال کیا جائے گا اور وہی اس چالان کو ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ گاڑی کو فروخت کرنے کی صورت میں گاڑی کی محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ میں مالکانہ حقوق کی منتقلی ضروری ہوگی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ای چلاننگ کے آغاز کے بعد سیف سٹی حکام کا کہنا ہے شہریوں کی جانب سے زیبرا کراسنگ اور سگنل کی خلاف ورزی میں واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور شہری اس ای چلاننگ کو کافی پسند بھی کررہے ہیں۔

مصنف ایک نجی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.