شاہ محمود قریشی کی تقریر، بھارت کا رد عمل اور اقوام متحدہ کا کردار

1,561

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری تھا ۔ یہ جنرل اسمبلی کا73واں اجلاس تھا ۔ تحریک انصاف کے مخالف اجلاس سے قبل شدید تنقید کر رہے تھے کہ جنرل اسمبلی میں نہ تو کشمیر کی بات ہوگی نہ بھارتی جارحیت کی اور نہ ہی فلسطین یا ناموس رسالت ﷺکا کوئی تذکرہ ہوگا۔ مجھ جیسے غیر سیاسی افراد کی اس بارے میں رائے تھی کہ اس اجلاس میں بھی پاکستان کی پوزیشن وہی ہوگی جو اس سےقبل کے اجلاسوں میں ہوتی تھی ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اس بار بھی دبے لفظوں میں بھارتی جارحیت کی مذمت کریں گے،اسلام کی تو شاید بات ہی نہ کی جائے کہ کہیں دنیا پھرسے ہمیں بنیاد پرست اور دہشت گرد نہ سمجھ بیٹھے۔ امریکا کیخلاف بھی جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا کیوں کہ پاکستان کی پوزیشن ایسی نہیں کہ امریکا جیسی سپر پاور سے تعلقات خراب کئے جائیں ۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تقریر کا آغاز کیا تو شاید پوری قوم ہی حیرت میں مبتلا ہوگئی ہوگی۔ جنرل اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کا وزیر خارجہ اپنی قومی زبان اردو میں تقریر کر رہا تھا ۔ شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں پاکستان اور کشمیر سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی ۔ شاہ محمود قریشی نے دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی اُس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے ، پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔

وزیر خارجہ نے دنیا کے سامنے پاکستان کی امن دوستی اور بھارت کی امن دشمنی کو بھی کھل کر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔ جنرل اسمبلی سے بلند ہونے والی اس آواز نے بھارت کے ایونوں میں یقینا ہل چل مچا دی ہوگی۔ شاہ محمود قریشی نے دنیا کو بتایا کہ کس طرح بھارت اپنے دہشت گردوں کو استعمال کر کے پڑوسی ممالک کا امن خراب کرتا ہے ۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے واضح طور پر بھارت کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ اور مستونگ میں بم دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا ۔
وزیرخارجہ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ناموس رسالت ﷺکا مسئلہ بھی اٹھایا اور ہالینڈ میں حالیہ دنوں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے حوالے سے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے منصوبے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

بھارت نے اقوام متحدہ میں شاہ محمود قریشی کے بیان کا جواب ایک بار پھر اپنی جارحیت سے دیا ۔بھارت نے اپنے اقدام سے دنیا کو بتا دیا کہ شاہ محمود نے جو کہا سو فیصد درست کہا ۔شاہ محمود قریشی کی تقریر کے اگلے ہی روز بھارت نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکے ہیلی کاپٹر کو ملٹری ہیلی کاپٹر کہہ کر فائرنگ کا نشانہ بنا دیا ۔ جبکہ راجہ فاروق حیدرکے ہیلی کاپٹر کا رنگ سفید تھا جو اس بات کی دلیل تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر ملٹری نہیں سولین ہے ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں میں تعزیت کے لئے گئے تھے۔ راجہ فاروق حیدر تعزیت کر کے واپس آرہے تھے کہ بھارت نے ان کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنادیا ۔حملہ میں وہ بال بال بچ گئے ۔

کشمیر میں بھارتی جارحیت اور پیلٹ گن سے کی جانے والی دہشت گردی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔شاہ محمود قریشی نے بھارت کا یہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا تو اگلے ہی روز بھارت نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا دیا ۔بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی اس کارروائی کا مطلب واضح ہے کہ بھارت خطے میں امن نہیں چاہتا۔ نہ ہی بھارت کو یہ بات برداشت ہے کہ اس کی دہشت گردی کا کوئی ذکر بھی کرے ۔

اقوام متحد ہ کو اب بھارت کیخلاف سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کرناہوں گے۔ اقوام متحدہ کو کشمیر میں اپنی قرارداد کے مطابق ریفرنڈم کرانا ہوگا۔اقوام عالم کو بھارت کےامن دشمن رویہ پر اسے تنہا کرنا ہوگا ۔اگر اقوام متحدہ نے کشمیر میں بھارتی جارحیت اور بھارتی جنگی جنون کیخلاف ایکشن نہ لیا تو خطے کا امن خراب ہوسکتا ہے ۔ پاکستان اپنے دفاع کا مکمل اختیار رکھتا ہے اور پاکستانی افواج میں وطن کے دفاع کی بھرپور صلاحیت موجود ہے ۔بھارت کو یہ بات بھی سمجھنا ہوگی کی پاکستان کی مسلح افواج تنہا نہیں ہیں ۔ پاکستان کا ایک ایک شہری اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہے اور وقت پڑنے بھارت کو اس کی جارحیت کا موثر جواب دیا جائے گا ۔

اقوام متحدہ کو مسلم دنیا میں پروان چڑھتے اس تاثر کو کہ اقوام متحدہ مسلم ممالک کے حقوق کیلئے اقدامات نہیں کرتی کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔دنیا میں پائیدار امن کیلئے کشمیر کا مسئلہ حل کرانا ہوگا،بھارت کی آبی جارحیت کو بھی روکنا ہوگا۔اقوام متحدہ کو فلسطین کے مسئلے کو بھی سنجیدہ بنیادوں پر حل کرانا ہوگا۔ناموس رسالتﷺ اور تمام انبیا ؑ کی گستاخی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کرنا ہوگی ۔اقوام متحدہ کو امریکا پر بھی زور ڈالنا ہوگا کہ وہ مسلمان ممالک میں بے جا مداخلت نہ کرے ۔افغانستان اور عراق میں اقتدار مکمل طور پر ان کے عوام کے حوالے کیا جائے ۔اور امریکا عافیہ صدیقی سمیت تمام مسلمان قیدیوں کے حوالے سے ان کے ممالک کو مکمل تفصیلات فراہم کرے ۔مسلم ممالک کو اپنی اہمیت کو دنیا پر واضح کرنے کیلئے او آئی سی کو بھی فعال بنانا ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.