یعنی یقیں سے ہو مفر، گویا گماں کی خیر ہو!

1,055

پاکستان میں آج کل حالات کچھ عجیب ہیں، پہلی نگاہ میں تو سمجھ ہی نہیں آتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے دماغوں کو اتنی زیادہ الجھنوں میں الجھا لیا ہے کہ ہم کوئی نہ کوئی چھپا نقطہ تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں اور سامنے کی بات مکمل طور پر مِس کر جاتے ہیں۔ لیکن دراصل اس میں ہمارا اپنا قصور اتنا کوئی خاص نہیں ہے، ہم نے ستر سالوں میں جو ادوار دیکھے ہیں اس کے بعد حالات کاایسا ہونا کچھ لازمی سا ہی محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان کا منظر فی الحال کچھ اس طرح کا ہے کہ سیاست کی سکرین پر سکوت ہے اور کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آرہی لیکن اس کے باوجود سسٹم و حکومت ڈسپریشن کا شکار ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی فیصلہ سازی کی طاقت اتنی ہی کمزور آج بھی ہے جتنی اس وقت تھی جب یہ اپوزیشن میں تھے۔ حکومت پریشر برداشت کرنے میں شدت سے ناکام ہے حالانکہ ابھی دباؤ اس قسم کے نہیں جس طرح کے آنے والے وقتوں میں ہوں گے۔ ابھی تو حکومت کو محض ایک مہینہ ہوا ہے اور اپوزیشن اور اس حجم کی اپوزیشن ذرا خاموش ہے اور حکومت کو پالیسی بنانے کا ٹائم دینے کے موڈ میں ہے۔ جب حکومت اپنے تین ماہ کے ہنی مون پیرئیڈ سے نکل کر سامنے آئے گی تب دباؤ اور تنقید کا اصل مرحلہ شروع ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ سکون کے دنوں میں افراتفری کی شکار حکومت کس طرح ان معاملات کو ڈیل کرے گی؟ قدرت کا قانون صاف اور واضح ہے کمزور لوگ کبھی طاقتور عہدے نہیں چلا سکتے۔ ہارون رشید نے تو اقتدار پر ایک خوبصورت جملہ بھی کہا تھا کہ اقتدار دراصل شیر کی سواری ہے،جو شیر پر قابو پالیتا ہے وہ حکومت کرتا ہے وگرنہ وہ شیر کا شکار بن جایا کرتا ہے۔

آج کل ایک موضوع جو پچھلے کچھ روز سے زیرِ گفتگو ہے وہ ہےپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کا۔ عہدہ خاصا طاقتور ہے کہ آڈٹ کا اختیار مکمل نہیں تو کافی حد تک اس کمیٹی کے سپرد ہوتا ہے۔ اسی کمیٹی کے روبرو آڈیٹر جنرل اور تمام وفاقی سیکریٹری پیش ہوا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اس کی مدد سے حالات سنوارے بھی جا سکتے ہیں اوربگاڑے بھی جا سکتے ہیں۔ اپوزیشن کا اصرار ہے کہ جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے اس کمیٹی کا چیئر مین اپوزیشن سے ہونا چاہئے اور جیسا کہ میثاقِ جمہوریت میں درج ہے کہ پی۔ اے۔ سی کا چئیرمین اپوزیشن سے ہو گا لہذا ایسا ہی ہونا چاہئے جبکہ حکومت والوں کا کہنا ہے کہ

“One cannot be a judge in his own case.”

منظر خاصا پُرلطف ہے۔ ایک طرف وہ اپوزیشن جس کے اپنے دس سالہ ادوار کا آڈٹ ہونا ہے وہ یہ چاہتی ہے کہ ان کا بندہ اس کمیٹی کے سر پر بٹھا دیا جائے۔ جب کہ حکومت جس کے سربراہ جناب وزیرِ اعظم عمران خان صاحب آئی۔ بی چیف سے پہلی ملاقات میں انہیں شریف و زرداری حکومتوں کے کرپشن اسکینڈلز اور جائیدادوں کا کھوج لگانے کا ٹاسک دے چکے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ چیئر مین ان کی حکومت سے ہو۔ جہاں تک میثاقِ جمہوریت کا تعلق ہے تو ان سیاسی جماعتوں کو تھوڑی سی شرمندگی ہونی چاہئے۔ میثاقِ جمہوریت جو کہ در اصل جمہوریت کو مظبوط کرنے کے لئے ہونا چاہئے تھا، سیاسی جماعتوں نے اس معاہدے کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا ۔ویسے بھی میثاقِ جمہوریت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کا اس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ اس میں فریق نہ تھی۔ ماضی میں اگر دیکھا جائے تو خورشید شاہ نے حقیقتاََ کئی ارب روپے کے معاملات اپنے لوگوں کی محبت میں داخل دفتر کئے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان اس کمیٹی کے خاصے ایکٹو چیئرمین رہے اور بیوروکریسی کو اپنے دور میں خاصا ٹف ٹائم بھی دیا لیکن چوہدری صاحب نے بھی اپنی “اصل سپورٹ” اور پارٹی قائد کی محبت میں دونوں کے ہی کچھ کیسز تخت تلے چھپا دیے۔

اس صورتحال میں نتیجہ ڈیڈلاک ہی نکلتا ہے لیکن بقول فضل الرحمان ڈیڈلاک چونکہ آپشن نہیں ہے۔ اس کا مناسب حل یہ ہو سکتا ہے کسی آزاد اور غیر متنازعہ شخص کو پی۔ اے۔ سی کا سربراہ لگا دیا جائےپھر حکومت جب اپناسال مکمل کر لے تو چونکہ اس کے ان بارہ مہینوں کا آڈٹ درکار ہو گا تو اس وقت چیئرمین شپ اپوزیشن کو دے دی جائے۔ مسئلہ یہاں ایک اور بھی درپیش ہے کہ یہ ڈیڈلاک ختم کیسے کیا جائے گا؟ اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ “ٹاک” ہے اسی کی طرف حکومت اور اپوزیشن کو آنا پڑے گا۔ لیکن ٹاک ہوں گی کس طرح؟ وزیر اعظم عمران خان پارلیمان کو کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ اگر عمران خان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت مضبوط ہو اور اپنا وقت مکمل کرے توبہت ضروری ہے کہ عمران خان پارلیمان کو مضبوط کریں۔ بارہا لکھ چکا ہوں پارلیمان مضبوط تب ہی ہو گا جب وزیر اعظم پارلیمان میں آئیں گے۔

حکومت نے ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ کو لیز پر دینے کا خاصا اول جلول فیصلہ کیا لیکن یہ فیصلہ جس طرح کیا اس پر بھی خاصی ہنسی آتی ہے۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں پاکستانی ادارے زیادہ تر یونینز کے کنٹرول میں ہی رہتے ہیں اور یونینز ہی کل مالک کم از کم اگر ہوتی نہیں تو خود کو سمجھتی ضرور ہیں۔ حکومت نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے بغیر کسی ہوم ورک کے کر لیا؟ حکومت کو چاہئے تھا کو وہ اس فیصلے کے لئے اس ادارے کے ملازمین کو اعتماد میں لیتی اور اس کے بعد ہی کسی قسم کا قدم اٹھانے کا فیصلہ کرتی ،کجا کہ اچانک کوئی شوشہ چھوڑ کر ایک ردِ عمل کو دعوت دی جاتی۔ ساتھ ہی فواد چوہدری جو کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات ہیں نے اخلاقیات سے مکمل طور پر عاری ایک تقریر اسمبلی میں کی اور درجن سے زائد الزامات اپوزیشن کے سپرد کئے۔ ان الزامات میں غیر قانونی بھرتیاں اور کرپشن کے الزامات شامل ہیں۔ اس تقریر کا تجزیہ تین حوالوں سے کیا جا سکتا ہے۔ پہلا یہ کہ کیا الزامات سچ ہیں؟ تو اس میں تو کوئی شک نہیں کہ بےقاعدگیوں کی پچھلے ادوار میں ایک لمبی فہرست ہے۔ وہ کسی شاعر نے خوب کہا تھا،
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہںو ہوتا
ادارے ایک دم تباہ نہیں ہوا کرتے ایک طویل عرصہ ناتوجہی اور نافہمی درکار ہوتی ہے۔ دوئم : کیا وزیر اطلاعات نے محض الزام برائے الزام بات کی یا وہ واقعی کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں؟ اس صورت جواب یہ ہی آتا ہے کہ حکومت نے محض اپوزیشن کو ڈی گریڈ کرنے کے لئے الزامات لگائے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات کے مطابق ان کے پاس ثبوت موجود ہیں ایسے میں بات یہ ہے کہ وہ اگر اتنے ہی کمٹڈ ہیں ادارے ٹھیک کرنے کے حوالے سے تو وہ ان بےقاعدگیوں کے ریفرنسز نیب کو کیوں نہیں بھیجتے؟۔ جس آخری حوالے سے اس تقریر کا جائزہ لیا جا سکتا ہے وہ ہے اخلاقیات۔ مجھ ایسے لوگ تو پہلے دن سے متفق ہیں کہ آج کی سیاسی جماعتیں مکمل طور پر اخلاقیات سے خالی ہیں اور حکومتی جماعت اس میں سرِ فہرست ہے۔ انہوں نے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ہے۔ فیصلہ سازی کے حوالے سے اور بھی معاملات قلم طلب ہیں لیکن چونکہ اب وقت اور بلاگ کی طوالت کا دامن ختم ہو چکا ہے لہذا زندگی رہی تو باقی ذکر پھر سہی!

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.