امن کی بھارتی خواہش ۔۔۔ ہندی فلموں تک محدود

1,228

بچے کی ابتدائی تربیت اسکے گھر سے شروع ہوتی ہے ۔ اسے ہوش سنبھالتے ہی یہ بتا دیا جاتا ہے کہ کون تمہارا کیا لگتا ہے ؟ کس کے ساتھ تمہارا کیا رشتہ ہے اور تمہیں کس کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے ۔ اچھے اور برے رشتہ داروں میں فرق بتا دیا جاتا ہے ، دوست اور دشمن میں فرق سکھادیا جاتا ہے ۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ جو بات ذہن میں ڈال دی جاتی ہے اور اسے روزانہ یاد کروایا جاتا ہے تو وہ کبھی نہیں بھولی جاتی ۔ جیسے ایک بچے کو چھوٹے ہوتے بتایا جائے کہ بیٹا یہ تمہارا ہمسایہ تمہارا دشمن ہے، یہ تمہارے حق میں بھی بولے گا تو بھی تمہارا دشمن ہے لہذا اسکی بات کو کبھی سیریس مت لینا اور کبھی اسکے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش مت کرنا ۔ وہی بات وہی تربیت اسکے ساتھ پروان چڑھتی ہے اور وہ آگے آنے والی زندگی میں یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتا کہ جو میرے آباؤ اجداد نے کہا وہ ٹھیک تھا یا جو آج میرے سامنے حالات ہیں وہ ٹھیک ہیں ؟ چاہے وہ حالات ان باتوں سے بہتر ہوں جو اسے کہا گیا ہو لیکن اسکے ذہن میں اپنے آبائو اجداد کے احکامات ہی مندر کی گھنٹیوں کی طرح بجتے رہتے ہیں اور اسے محتاط کرتے رہتے ہیں ۔

ان دنوں ہندوستان اور پاکستان کے سفارتی ، سیاسی ، ثقافتی اور عسکری معاملات شدید خراب ہیں ۔ دونوں ممالک کی طرف سے بیان بازی تعلقات کو خراب کیے جا رہی ہے۔ معاملات میڈیا کی توسط سے سب کو پتا چلتے ہیں کہ جنگ کی سی صورت حال میں داخل ہو چکے ہیں ۔ دونوں ممالک بات تو امن کی کرتے ہیں لیکن امن قائم کرنے کا جب وقت آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں کوئی نہ کوئی بہانہ لے کر ۔ آئی ایم اے ( انڈین ملٹری اکیڈمی) میں کمیشن افسر کی بھرتی کے لیے عمر کی حد 17 سال سے 22 سال تک مقرر کی گئی ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ جو افسر اس عمر کے درمیان بھرتی ہوگا اسکو بی ایم ٹی ( بیسک ملٹری ٹریننگ ) اور پی ایم ٹی ( پروفیشنل ملٹری ٹریننگ ) میں اس قدر مولڈ کر لیا جائے کہ وہ جب ملٹری اکیڈمی سے پاس آئوٹ ہوکر نکلے تو اسکے ذہن میں صرف ایک بات ہو کہ پاکستان ہمارا دشمن ہے اور ہم کبھی دوست نہیں بن سکتے۔ آئی ایم اے کی پیداوار کبھی بھی نہیں چاہتی کہ پاکستان اور انڈیا کے معاملات ٹھیک طرح سے آگے چلیں ۔ ٹیکنالوجی ،دفاعی پیدوارا ور ہتھیاروں کی خریدوفروخت میں مشغول انڈین آرمی یہ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ جو ہتھیار وہ ملک کے بجٹ کا بڑا حصہ کھا کر خریدتے ہیں اسکو زنگ آلود کیا جائے اور اسکا استعمال نہ کیا جائے ۔

ایک بزنس مین بزنس کی بات کرے گا ، ایک مصور اپنی مصوری کو دیکھے گا ، ایک آرٹسٹ اپنے جیسے آرٹسٹ کو دیکھے گا اور اسکے ساتھ تعلقات کو فروغ دے گا ۔ لیکن ایک فوجی جسکے ذہن میں یہ ڈال دیا گیا ہو کہ تمہارا کام ہی گولی چلانا ہے اور پاکستان کا فوجی جہاں نظرآئے اسے گولی مار دوکیونکہ وہ تمہارا دشمن ہے تووہ ہمیشہ گولی کی ہی بات کرے گا۔ وہ کبھی امن کی طرف نہیں آئے گا ۔ بھارت پوری دنیا میں خود کو امن کا دیوتا ثابت کرنے کے لیے پوری دنیا میں جو امن کا ڈھونگ رچاتا ہے اسکا ثبوت کل پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ میں دے چکے ہیں۔ اسکا ری ایکشن انڈیا کیا دے گا؟ یہ ہم جانتے ہیں ۔

اکثر اوقات وہ ہندی فلمیں جو انڈین مشنز پر مبنی ہوتی ہیں، ان میں دکھایا جاتا ہے کہ پاکستان ایک دہشتگرد ملک ہے جو دہشتگردوں کو پناہ دیتا ہے اور ہندوستان میں کاروائیاں کرواتا ہے ۔ فلم میں آخر تک پہنچتے پہنچتے یہ پیغام دیا جاتاہے کہ ہم امن کے خواہاں ہیں ، ہم امن چاہتے ہیں اور مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن جیسے ہی فلم ختم ہوتی ہے تو وہ مذاکرات بھی فلم کی طرح ختم ہوجاتے ہیں ۔ افغانستان میں ’’را‘‘ اپناہیڈ کوارٹر قائم کیے ہوئے ہے اوردہلی میں ’’را‘‘ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک سپیشل بنچ تشکیل دیا گیا ہے جسکا مقصد صرف یہ ہے کہ’’سی پیک کو کیسے ختم کیا جائے ‘‘ ۔ وہی بنچ بلوچستان میں کاروائیاں کروانے کیلیے فنڈنگ کرتا ہے اور وہ اپنے جاسوس بھی بھیجتا ہے جسکی زندہ مثال ’’ کلبھوشن یادیو‘‘ ہے۔ سمجھ نہیں آتی یہ کس منہ سے امن کی بات کرتے ہیں ۔

پاکستان میں نئی حکومت آئی ، عمران خان نے اعلان کیا کہ ہندوستان ایک قدم بڑھائے ہم دو قدم بڑھائیں گے ۔ پروٹوکول کو توڑ تاڑ کر ہمارے آرمی چیف نے سدھو کو گلے لگایا ، کرتار پور بارڈر کھولنے کا وعدہ کیا ۔ لیکن ادھر سدھو کو گلے لگایا ادھر انڈیا نے ایل او سی پر فائرنگ کردی ۔ دونوں ممالک کے افواج ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دیتی ہیں ۔ لیکن پس کون رہا ہے ؟ ظاہر ہے عام عوام اورکاروباری طبقہ ۔ ماضی کے تمام اختلافات کو بھلا کر اگر انڈیا بھی امن چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کے ٹیبل پر آنا ہوگا ۔ جنگ سے معاملات حل نہیں ہوتے۔ جنگ سے ملک ترقی نہیں کرتےمگر امن کے ٹھیکے دار بنے انڈیا نے پہلے پاکستانی باورچیوں کے ویزے کینسل کیے اور اسکے بعد2018 GYPF- جو کہ چندی گڑھ میں ہو رہا ہے اسکے لیے 40 پاکستانیوں کو بھیجے گئے انویٹیشن کینسل کر دیے ۔ گلوبل یوتھ پیس فیسٹیول‘عالمی سطح کا امن کا مشن ہے جو ہر سال انڈیا میں منایا جاتا ہے جسکا مقصد یوتھ کو امن کی طرف لانا ہے ۔ امن کی بات کرنے والے اگر اس مشن میں پاکستانی ہی نہیں ہوں گے تو پھر یہ ڈرامہ کس بات کا ؟ اگر خطے میں امن چاہیے تو مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے ۔ جنگ صرف تباہی پیدا کرسکتی ہے ۔ ہتھیاروں سے امن نہیں پھیلتا، انتشار پھیلتا ہے ۔

بھارت بھی ایٹمی طاقت ہے اور ہم بھی ۔ دونوں میں سے کوئی ایک بھی پہل کرے گا تو دونوں ممالک صفحہ ہستی ہے مٹ جائیں گے ۔ کون بتائے گا کہ ہم جیتے یا انڈیا ؟ جیت کا جشن کونسا ملک منائے گا ؟۔اسکا جواب میں اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں ۔ فی امان اللہ

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.