!یہ کھیل آسان نہیں میاں

1,551

پاکستان ایسے ملک میں کہ جہاں جمہوریت کی بنیادیں نہایت کمزور و کھوکھلی ہیں وہاں عوامی ادارے عموماً اہمیت نہیں رکھتے۔ ایک مناسب سی دلیل ہے کہ بھئی اگر رکھتے ہوتے تو جمہوریت مظبوط نہ ہوتی؟ خیر، قومی اسمبلی کا پہلا فورمل اجلاس گزشتہ دنوں ہوا۔ عام انتخابات کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا جب پارلیمان کا ایوانِ زیریں ایوان محسوس ہو رہا تھا، کجا کہ مچھلی منڈی۔

اس سے پہلے کہ تقاریر کی طرف آیا جائے، بات کرلی جائے اجلاس کی صدارت کی جس کے فرائض ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کر رہے تھے۔ چونکہ یہ حکومتی سال کا پہلا فورمل اجلاس تھا بہت ہی مناسب رہتا اگر اسپیکر اسد قیصر خود اسمبلی میں موجود ہوتے۔ حکومتی جماعت کا اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ خاصا کمزور تھا۔ جب ایوان میں اتنی تگڑی اور تجربہ کار اپوزیشن موجود ہوتو اس کو ڈیل کرنا کسی ناتجربہ کار شخص کا کام سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس سے پہلے اجلاسوں میں صاف نظر آیا کہ اسد قیصر کی گرفت ایوان پر خاصی کمزور ہے اور کانفیڈینس کی خاصی کمی دکھائی دیتی رہی ہے ۔

جس قسم کے اجلاس کی توقع ہم کر رہے تھے، اس سائز کی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے، اس توقع کے برعکس ہی اجلاس کی کارروائی اختتام کو پہنچی۔ روایت کے مطابق منی بجٹ پر بحث کے لئے قائدِ حزبِ اختلاف اپنی نشست سے اٹھے اور انہوں نے 36 منٹ پر محیط ایک مناسب طول وعرض کی لکھی ہوئی تقریر کی۔ ان کی تقریر کے دوران حکومتی نشستوں کی جانب سے ہوٹنگ بھی کی گئی جو کہ ان کے ناتجربہ کار ہونے کی عکاس تھی اور جو کہ نہیں کی جانی چاہئے تھی کیوں کہ حکومتیں ہمیشہ اسپیس دیا کرتی ہیں۔ ہوٹنگ کے دوران ڈپٹی اسپیکر صاحب ہونق بنے جملے بازی سنتے رہے۔

بجٹ کے بعد عموماً جس قسم کی طنز کے نشتروں سے بھرپور تقاریر قائد حزبِ اختلاف کی طرف سے کی جاتی ہیں، شہباز شریف کی تقریر اس روایت سے ہٹ کر تھی۔ وہ مکمل طور پر مفاہمت کے موڈ میں تھے۔ ان کی تقریر کا بیشتر حصہ اسی چیز پر محیط تھا کہ میرے بڑے بھائی صاحب نے یہ کیا، وہ کیا وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی طور پر شہباز شریف کی تقریر اس چیز کا واضح پیغام تھی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری تقریر میں پانامہ کیس کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا نہ ہی وہ جمہوریت کے ریٹورک کی طرف آئے۔ یہ بات بہت پہلے سے ہی واضح ہو چکی تھی کو وہ ترقی کا بیانیہ لے کر آگے بڑھیں گے، مزاحمت ان کے بس کا روگ قطعی طور پر نہیں ہے اور کل انہوں نے اس پر مہر بھی ثبت کر دی۔ ان کی تقریر کے خدوخال میں کمی کی وجہ یہ بھی ہے کو وہ پہلی دفعہ قومی اسمبلی آئے ہیں۔ ورنہ پنجاب اسمبلی شہباز شریف کے لئے ایسی ہی تھی جیسے کہ پارٹی کی اندرونی میٹنگ ہو۔ انہیں اس پارلیمان میں ایڈجسٹ ہونے کے لئے ابھی کچھ اور وقت درکار ہو گا۔

یہ تو ہو گئی اپوزیشن کی بات، اجلاس میں قائد ایوان کا ہونا جمہوری روایات کو مستحکم کرنے لئے نہایت ضروری تھا۔ وزیر اعظم صاحب اپنی تقریروں میں یہ بات باور کروا چکے ہیں کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے اور پارلیمان کو مظبوط کریں گے۔ پارلیمان کو مظبوط صرف پارلیمان کے اندر سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس قسم کی سخت کاروائی متوقع تھی بہت ضروری تھا کہ وزیر اعظم عمران خان موجود ہوتے اور اپنی ٹیم کو لیڈ کر رہے ہوتے۔ اس سے اپوزیشن میں سخت مقابلے کا جوش بڑھتا اور ان کے اپنے ممبرز کا بھی مورال بلند ہوتا۔ جس سے پارلیمان میں “سوال” جنم لیتے اور سوال ہی دراصل کامیابی کا راستہ ہے۔

عموماً ہوتا تو یہ ہے کہ پوری اپوزیشن کی تقاریر کے بعد حکومت کی جانب سے جواب آتا ہے۔ لیکن اس بار حکومت نے قائدِ حزبِ اختلاف کی تقریر کے فوراً بعد ہی جواب دیا۔ شہباز شریف کے نرم طنز کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر تقریر کے لئے اٹھے اور انہوں نے آغاز ہی شہباز شریف کو نرم الفاط میں یہ سمجھانے سے کیا کہ حضور! قائد احزبِ اختلاف کے لئے بجٹ تقریر کے دن ہونا ضروری ہوتا ہے جو کہ آپ نہیں تھے۔ وزیرِ خزانہ کی تقریر دلائل سے بھرپور تھی چونکہ سوال اس قسم کے سخت نہ تھے جیسا کہ عموماً حکومتوں کے لئے ہوا کرتے ہیں لہذا انہوں نے بہت خوبصورتی سے قائدِ حزبِ اختلاف کی پوری تقریر کو نَل اینڈ وائڈ کر دیا۔

یہ تو تھی اجلاس کی کہانی مگر ایک سوچ جو کل سے مسلسل مجھے جکڑے ہوئے ہے کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے امن کے پیغام کے جواب میں جو دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور جس کا جواب وزیر اعظم نے غیر مناسب انداز میں دیا۔ اپوزیشن اس پر کچھ احتجاج کرے گی اور حکومت سے پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرے گی۔ وزیرِ خارجہ چونکہ موجود نہ تھے اس پر بحث نہیں تو کم از کم حکومت کی جانب سے ایک پالیسی بیان ہی سامنے آ جاتا۔ لیکن اپوزیشن کی جانب سے مکمل خاموشی رہی۔ اسد عمر نے کشمیر کی آزادی کا نعرہ مارا اور بس تمام شُد۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کے ہماری خارجہ پالیسی کہیں اور بنتی ہے۔ مگر اپوزیشن کو سوال تو ہر صورت اٹھانا چاہئے تھا۔

بھارت ایک نام نہاد سرجیکل اسٹرائک کی یاد میں دو روز کا جشن منانے جا رہا ہے، مختصر الفاظ میں وہ اپنے ہی لوگوں کے درمیان پرتشدد روایات کو پروان چڑھا رہا ہے۔ بھارت کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ پاکستان اور بھارت کا دنیاوی ترقی میں پیچھے ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہی ہے کہ ہم کبھی پرامن رہ ہی نہیں سکے اور امن کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ امید کرتا ہوں کہ حکومت فوراً اپوزیشن کو خارجہ معاملات کے حوالے سے اعتماد میں لے گی۔ کیونکہ سیاستدانوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ پارلیمان کے مظبوط اور مستحکم ہونے میں ہی ان کی بقاء ہے۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.