چندہ برائے محلہ ٹرانسفارمر تا ڈیم فنڈ

1,908

جب بھی کوئی مخلص شخصیت اس مملکت خداداد کو نصیب ہوئی تو مخلوقات الباکستان میں سے لاشعور اور منافقین کے ایک ٹولے نے انکی قدر نہیں کی۔ اب آپ عزت مآب جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کو ہی دیکھ لیجئے جنھوں نے اپنی حدود سے بڑھ کر اپنے ملک کی عوام کی خدمت بارے کچھ کرنے کی نا صرف کوشش کی بلکہ بہت کچھ کر دکھانے کی ٹھان رکھی ہے۔ یہاں تک کہ ہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی منجی رکھ کر پہرا دینے تک کے بیان دے چکے ہیں۔ لیکن اس سے نکمے ناقدین کے پیٹ میں مروڑ سے اٹھنا شروع ہوگئےہیں کہ یہ شخص بجائے اپنا کام کرنے کے “ایکسٹرا” کیوں کررہا ہے ؟شائد وہ خائف ہیں کہ ان کی موجودگی میں انصاف کا بول بالا نہ ہوجائے اور ان کے لیے بس تاحیات شرمندگی ہی مقدرنہ رہ جائے۔

شک گزرتا ہے کہ جو انتشار پسند، عدل و انصاف کے پیکر چیف جسٹس صاحب کی کاوشوں بارے متنازع باتیں پھیلاتے ہیں وہ محب وطن پاکستانی ہی نہیں، تبھی تو ان پر آرٹیکل چھ لگانے کا عندیہ دیا گیا اور صحیح دیا گیا۔ لیکن ناچیز کو تو حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر ڈیم فنڈ میں موبائل میسج کے ذریعے 20 روپے عطیہ کی کاوش پر ہی معلوم ہوا کہ وہ تو پہلے سے ہی 15 روپے کا کمپنی سے مقروض ہوچکا۔ خیر جیب میں ہاتھ ڈالا 20 روپے نکلے توخوش ہوگیا ۔ بھلا ہو چیف جسٹس کا کہ انہوں نے موبائل لوڈ پر ٹیکس ختم کروا دیا .گاؤں کی ایزی لوڈ پلس کریانہ اسٹور پر گیا، وہاں 20 روپے لوڈ کرنے کا کہا مگر دوکاندار نے پہلے حقارت بھری نگاہوں سے گھورا بعد ازاں انکار میں سر ہلایا ،استفسار کرنے پر علم ہوا یہاں سے 20 روپے کا لوڈ نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے 30 روپے اور درکار ہونگے جو میرے پاس نہیں تھے۔ اس وقت قاضی صاحب کی یاد نے ستایا کہ کاش انہیں یہ سب معلوم ہوتا۔۔! بدنصیبی کہ اگر وہ لوڈ کر بھی دیتا تو ڈیم فنڈ میں جمع کرنے سے قبل ہی یہ رقم کمپنی والے اپنے قرض کی مد میں وصول کرلیتے اور خاکسار اس کارخیر میں اپنا رتی بھر حصہ ڈالنے سے قاصر ہی رہتا۔

واپسی پر اپنی بےروزگاری بارے سوچ سوچ کر مایوسی کے سائے منڈلا رہے تھے مگر اچانک حاسدین کے ٹولے سے ملاقات ہوگئی۔ دل میں سوچا خود تو کچھ ڈیم فنڈ میں جمع کرنے کی استطاعت نہیں رہی کیوں نہ ان لوگوں کو گزارش کی جائے، لیکن یہ اپیل سنتے ہی لعل پیلے ہوگئے اور ان کے چہروں سے رنگ اڑ گیا ۔انہوں نے ہمیں یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ ”محلے کے ٹرانسفارمر سے لے کر ڈیم فنڈ تک کا چندہ اگر عوام نے ہی دینا ہے تو پھر ہم یہ ٹیکس کس لئے دیتے ہیں اور وہ کہاں جاتا ہے؟’ ان کے اس سوال کے جواب میں بولتی بند ہوگئی اور میں پتلی گلی نکل لیا۔۔۔۔گھر پہنچا تو والد صاحب پھٹی پرانی دھوتی کندھے سے اتارتے ہوئے مایوسی کے عالم میں ٹوٹی ہوئی منجی پر لیٹ رہے تھے۔ پہلے سے علم تھا کہ آج اس چند مرلہ زمین کی پیشی تھی جس پر علاقہ کی بااثر شخصیات نے زبردستی قبضہ کرکے گھر تعمیر کر لیئے ہیں اور معاملہ کئی سال سے عدالتوں میں لٹکا ہوا ہے۔ زمین کی قیمت سے زیادہ پیسے پیشیوں کے خرچ کی وجہ سے لگ گئے اور عدالتوں میں پیشیاں بھگتے بھگتے پریشانی اور اذیت کے سبب ابو جان کو شوگر کیساتھ ساتھ دل کا عارضہ بھی لاحق ہوگیا ہے۔ اب اتنے پیسے بھی نہیں کہ انکا علاج کروایا جاسکے، مگر کبھی تو عدالت سے انصاف ملے گا کی امید پر بابا جان اس ادھیڑ عمری میں بھی ہماری بھوک کا پیٹ بھرنے اور اگلے ہفتے عدالتی پیشی کا خرچ بنانے کی خاطر مزدوری کرتے ہیں۔

اس پریشانی سے بچنے کیلئے ٹیلی ویژن آن کرنا چاہا تو امی نے بتایا کہ بیٹا بجلی نہیں ہے کیونکہ محلے کا ٹرانسفارم خراب ہوگیا ہے اور محلہ دار اس کو بنوانے کیلئے چندہ مانگنے بھی آئے تھے۔ پچھلی مرتبہ بھی پڑوسیوں سے ادھار لے کرچندہ ادا کیا تھا جسکا قرض ابھی تک نہیں اترا تو اس بار ادھار بھی نہیں ملنا تھا۔ خود کے پاس بھی کچھ نہیں تھا تو انہیں کہا تھوڑی دیر تک آجانا ابھی گھر میں مرد نہیں مزدوری پر گئے ہوئے ہیں۔ اتنے میں دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی تو امی فٹ سے بولیں بیٹا لگتا ہے کہ پھر سے وہ چندہ مانگنے والے آگئے ہیں۔ گھر کے حالات بھی سامنے تھے جیب میں بھی کچھ نہیں ماسوائے 20 روپے کے ۔ اللہ اللہ کرکے باہر نکلا تو علم ہوا ٹرانسفارمر کی خرابی دور کرنے کیلئے فی گھر 500روپے چندہ رکھا گیا ہے۔یہ سنتے ہی ہوش اڑ گئے انتہائی عاجزی سے عرض کیا یہ روز روز کے چندے ہم غریب لوگ کیسے اور کہاں سے ادا کریں۔۔۔؟ کونسلر، ناظم، ایم پی اے سمیت تمام منتخب کردہ نمائندگان اور حکومت کس لیے ہے؟ بس یہ بات ہی کہی تھی کہ دوسرے دن چندہ دینے سے انکار پر گھر کی بجلی منقطع کردی گئی ۔ تیسرے دن ابو نے مزدوری میں جو کچھ کمایا وہ چندہ جمع کرایا اور منت سماجت سے بجلی بحال کروا کر نظام چلایا۔

مخالفین کا خیال ہے کہ اگر قاضی صاحب دوسرے تیسرے کاموں کے بجائے پہلا کام جو ان کی اولین ذمہ داری بھی ہے کہ عدالتوں میں جلد انصاف کی فراہمی اور کیسز کو جلد از جلد نمٹانے اور بجائے محض میڈیا ہیڈلائینز میں ان رہنے کے سنجیدگی سے اپنی صلاحتیوں کو بروئےکار لاتے تو آج ہم جیسے کئی غریبوں کی کورٹ کچہریوں سے جان چھوٹ جاتی۔ رقبہ کی قیمت سے زائد رقم مقدمات پر نہ لگتی اور سکون کی زندگی بھی گزار رہے ہوتے۔ لیکن مخالفین تو پھر مخالفین ہی ہوتے ہیں انہوں نے تو ہر صورت سونے کو چاندی ہی کہنا ہے، جیسے کوا کالا نہیں سفید ہے۔ اس میں بھی ٹٹول ٹٹول کر نقص اور کیڑے نکالنے ہیں۔ تنقید جو کرنی ہے کیونکہ ان نکمے جاہل حاسدین میں ایسے ہیروز کی قدر و قیمت کہاں! اور انہیں کب کسی کی عزت افزائی اچھی لگتی ہے۔ پاکستان میں تو تب کی ترقی و خوشحالی، انصاف کا بول بالا وغیرہ وغیرہ کا نزول ہوچکا جب سے نئے پاکستان کو معرض وجود میں لانے کیلئے پہلی اینٹ رکھی گئی۔ جس سے ہماری عسکریت، عدلیہ اور حکومت ناصرف ایک صفحہ پر بلکہ مکمل کتاب کی ایک ستر یکجاء ہیں۔ لیکن قوم کی بدبختی کہ بغض بھرے ناقدین و حاسدین روڑے اٹکاتے ہوئے چندہ برائے محلہ ٹرانسفارمرتا ڈیم فنڈ پر طرح طرح کے واہیات اعتراضات کرتے ہیں۔

مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں جبکہ دنیا نیوز اور ایکسپریس کےلیے بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر، فیس بک اور ای میل پر رابطہ کیلئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.