پاکستان میں تجارت کو ریگولیٹ کرنے کا نسخہ

1,889

جب سے ہوش سنبھالا ہےیہی سنتے آئے ہیں کے حکومت عوام کے ساتھ بہت برا سلوک کر رہی ہے، ‘پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا’، ‘یہ افسر لوگ تو زمینی خدا بنتے جا رہے ہیں’، ‘ ہمارے ملک میں کرپشن بے تحاشا ہے’ وغیرہ وغیرہ اور ایسی ہی بیسیوں باتیں کراچی تا راولپنڈی (کیونکہ میں نے ابھی تک پاکستان کا یہ ہی حصہ صحیح سے دیکھا ہے) سنتے آئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام سرکار کے ساتھ غلط بیانی کرتی ہے۔

بچپن میں سنا تھا کے کسی زمانے میں اقبال نے ‘شکوہ’ کے عنوان سے نظم لکھنے کے بعد خود ہی ‘جوابِ شکوہ’ بھی لکھ ڈالی۔ ماضی میں مجھ ناچیز نے بھی تنقید، شکوے، شکایات کو بذریعہ تحریر اربابِ اختیار تک پہنچانے کی کوشش کی،مگر بذاتِ خود اُن مسائل کا حل جان کر انہیں ضبطِ تحریر میں لانے کی جسارت نہ کر سکا، لیکن آج اقبال کی تقلید میں اپنا جواب بھی داخل کرنے کی ادنٰی سعی کروں گا۔

عوام کی بات درست بھی معلوم ہوتی ہے کہ ملک میں خرابی روزبروز بڑھتی جا رہی ہے، جی بالکل درست، لیکن کبھی تنقید کرنے والوں نے صدقِ دل سے مسائل کا حل کرنے کی طرف سوچا اور خصوصاً اپنے ذہنی خاکے کو عملی شکل دینے کی کوشش کی؟ یقیناً بہت سارے لوگ لاجواب ہوں گے۔

چوری پر شور مچانے والوں نے کبھی اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھا ہو تو معلوم ہوگا کہ ہر دوسراشخص کسی نہ کسی طریق یا شکل میں چور بازاری میں عملاً شریک ہے۔ وہ بقول حسن نثار، ہماری قوم کا اصل مسئلہ ‘اخلاقیات’ کا ہے۔

اصل میں ہمارے ملک کا کاروبار اور تجارت کا نظام ہی درست نہیں ہے، مثلاً باہر عَرب ممالک میں اگر کسی نے حجام کی دُکان ہی کیوں نہ کھولنی ہو اُس کو ‘شرکہ’ یعنی کے COMPANY سب سے پہلے بناناپڑتی ہے اور کمپنی کے ‘کفیل’ یعنی کے ڈائریکٹرز وغیرہ کو کمپنی کے تمام حسابات، کھاتوں، اجازت نامہ جات، انشورنس، ٹیکس، آڈٹ وغیرہ کے معاملات کا دھیان رکھنا ہوتا ہےاور کفیل یعنی مالک کاروبار کے اچھےبُرے اورصحیح غلط کے لئے خود پیش ہونا پڑتا ہے۔

اگر کسی وجہ سے اُس کمپنی یا شرکہ کے معاملات میں کوئی بے ضابطگی دریافت ہو تو وہ صرف کفیل کو پکڑتے ہیں، نہ کے اُس کے ملازمین کو دھر لیں، نیز وہاں شرکہ کا کفیل اپنے ملازمین کی کارگزاریوں کے لئے بھی جوابدہ ہوتا ہے. مثلاً کوئی ملازم منشیات نوشی کرتا ہوا پکڑا جائے تواس معاملے میں بھی کفیل کو شامل تفتیش کیا جاتا ہے۔ کفیل اپنے ملازمین کی صحت و علاج معالجے کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔

اگر وہ ادارہ خریدوفروخت کا کام کرتا ہو تو وہاں خریدوفروخت کا مکمل اور قانون کے مطابق ریکارڈ مرتب کرنے اہتمام کرتا ہے۔ وہ ادارہ مستنداور قانونی طور پر صاف ستھرا کام کرنے والے فروخت کار یا صنعت کاروں سے خریداری کرتا ہے اور صحیح طریقے کے مطابق فروخت کرتے ہوئے گاہک کو پکا بل (TAX INVOICE) دیتے ہیں۔

اگر اداراتی فروخت کا سلسلہ ہو تو اپنی اشیاء کی قیمت بنک کے واسطے سے وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح خریدوفروخت کے دوران تمام اقسام کے حکومتی محصول اور واجبات صحیح صحیح اکٹھے کرتے اور صحیح انداز میں جمع کرواتے ہیں۔ ادارے اپنی ٹیکس ریٹرن اپنے درست وقت پر بغیر غلط بیانی کے فائل کرکے اپنا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ جس کے بدلے ادارے بھی انکی امداد، رہنمائی، رعایات اور سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

اب اگر پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ یہاں پر تقریباً تمام ہی تجارت اور کاروبار غیررجسٹر شدہ اورغیرقانونی انداز میں چل رہے ہیں۔ جی ہاں، ہمارے ملک میں اکثریتی دکاندار حضرات کے پاس سیل ٹیکس نمبر ہی نہیں ہے، ماسوائے چند اور کارپوریٹ شعبے کے جو کہ ہمارے ملک کی کاروباری برادری کا عشر عشیر بھی نہیں۔ زیادہ تر خریدوفروخت بغیر رسید (TAX INVOICE) کے ہوتی ہے اور جس کا جہاں اور جیسے جی چاہے خریدوفروخت شروع کر دیتا ہے۔

میرے شہر کی ہی اگر بات کریں تو یہاں کی غلہ، فروٹ اور سبزی منڈی میں شاید ہی کسی آڑھتی کے پاس سیل ٹیکس نمبر ہو اور شاید ہی زندگی میں کبھی اُس آڑھت نے رجسٹرڈ خریدوفروخت کی ہو۔ بنک کے ذریعے ادائیگی کا تو نہ ہی پوچھیں زیادہ تر کاروبار نقد رقوم سے بغیر کسی ریکارڈ کے ہوتا ہے۔ چلیں مان لیا کی سبزی منڈی کے کاروبار کی نوعیت ایسی ہے وغیرہ وغیرہ، اسکو سیل ٹیکس ایکٹ کے تحت نہیں چلایا جا سکتا،مگر میرا ماننا ہے کی اِس کاروبار کو بھی قانونی تقاضوں کے مطابق چلایا جا سکتا ہے۔ اس موضوع کی وسعت کو دیکھتے ہوئے میں تفصیلاً آئندہ لکھنے کی کوشش کروں گا کہ کیسے زمیندار آڑھتیوں کو سیل ٹیکس انوائس کے ذریعے فروخت کریں اور آڑھتی بولی پر مال بیچتے ہوئے بھی قانونی تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔

لیکن دکاندار طبقہ خصوصاً تقسیم کار، برآمدکنندہ اور تھوک کا کام کرنے والے تاجر اس پر بہت آسانی سے عمل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنے ملک کے ساتھ صحیح معنوں میں مخلص ہوں۔ چلیں مانا کہ آپ کو یہ کام نہیں آتا تو جناب آپ سیکھ کر تو دیکھیں، آپ حکومت اور ایف بی آر کو کہہ کر تو دیکھیں، آپ شارٹ کٹ اور چور بازاری کے بجائے نظام کے مطابق چل کر دیکھیں، میرا ماننا ہے کہ اگر آپ بے ایمانی اور غلط بیانی سے کام نہیں لے رہے تو کوئی بھی کرپٹ افسر آپ کو بلیک میل نہیں کر پائے گا۔

ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کو چایئے کہ وہ کاروباری طبقہ کی ضروریات کر مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع مگر آسان سافٹ ویئر سسٹم یعنی ERP SYSTEM مرتب کرے جو کہ دیگر قومی و مجاز اداروں کے نظام کے ساتھ مربوط ہو۔ جس میں ایس ای سی پی، کسٹم، انکم ٹیکس، سیل ٹیکس، ای او بی آئی، سوشل سیکورٹی اور اسی طرح کے دیگر ادارے شامل ہوں، اور ادارے کا اپنا حساب کتاب جیسے کہ اکاونٹس، آڈٹ، سٹاک، سیل، پرچیز اوراخراجات وغیرہ بھی صحیح انداز میں محفوظ ہو سکیں، اور جوکاروباری اداروں کے تمام عوامل اور معاملات کو اپنے حیطہ عمل میں لے سکتا ہو۔

آج کل موبائل اور کمپیوٹر کا دور ہے۔ دس پندرہ ہزار کے کمپیوٹر پر یہ سافٹ ویئر انسٹال ہونے کی قابلیت رکھتا ہو، اور سب سے بڑھ کر یہ نظام مفت اور OPEN SOURCE ہو۔ اس کو بنوانا بھی آج کل کوئی مشکل کام نہیں ہے۔انٹرنیٹ پر باآسانی بے شمار آزاد مصدر ای آر پی نظام دستیاب ہیں۔ اُن میں سے چند ایک کی نمایاں خصوصیات کو یکجا کر کے ایک قابل استعمال نظام بنایا جا سکتا ہے۔ چلیں مان لیا آپ کے پاس پروگرامرز وغیرہ دستیاب نہیں ہیں، تو جناب ہمارے ملک میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلباء فارغ التحصیل ہو رہے ہیں، اگر آپ ان کے آخری تعلیمی سال میں اس منصوبے پر کام کروائیں تو انکا بھی بھلا ہو گا اور آپ کا بھی۔ ان کو انٹرنشپ یا پراجیکٹ میں سے ایک چیز چنناہوتی ہےڈگری حاصل کرنے کے لئے اور یہ انکے لئے تجربہ کے طور پر بھی کام آسکتا ہے۔ بس اس کام کے لئے آپ کو ایچ ای سی سے بات کرنا پڑے گی۔

رہی بات اسکو چلانے کا طریقہ سکھانے کی، تو جناب آپ اس کا ایک پورا نصاب اور کورس بنا کر ملک بھر کی جامعات میں متعارف کروا دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فنی تربیت کے ادارے اس کے کورس کروائیں تو یقیناً آپ بہت کم عرصہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ BS(AF), BS(BA), BS(COM) کے ساتھ ساتھ اگرMBA اور M.COM کے طلباء کو PROGRAM COURSE کے طور پر IRIS, E-FILING, WEBOC اور اسے طرح کے نظام چلانے کی مہارت فراہم کریں تو یہ ہمیشہ ان کی عملی زندگی میں کام آئے گی۔

اگرچہ FBR اور SECP اس سے ملتے جلتے نظام پر کام کر رہے ہیں لیکن اس سرگرمی میں طلباء، اساتذہ یعنی کہ Academia کی شمولیت دکھائی نہیں دیتی، نیز ذکربالا systems کوئی Training یا Demo Version بھی شاید دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے طلسم ہوشرباء بنے ہوئے ہیں۔ ایک mafia لوگوں کی لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کر رہا ہے۔

ہونا تو چاہیئے کے کسی بھی کاروباری شخص کو کسی دفتر نہ جانا پڑے بلکہ تمام طرح کی سہولیات اُس تک حکومت اور ادارے خود پہنچا دیں۔ کسی بھی قسم کی دفتری کاروائی کے لئے لوگوں کو دھکے نہ کھانے پڑیں اور نہ ہی سرکاری ملازمین لوگوں کو Blackmail کر پائیں۔

شہروز کلیم کل وقتی آزاد بلاگ مصنف ہیں، جو عمومی طور پر سماجی، دفاعی اور سیاست کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ قبل ازیں آپ کے مضامین معروف خبر رساں اداروں کے رسمی مواقع جال و بلاگز میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ انہیں ٹوئٹر@ShehrozKaleem پر فالو کرسکتے ہیں،ان کی مزید تحاریر کا مطالعہ ان کے ذاتی بلاگ https://www.shehroz.net پر بھی کیا جا سکتاہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Saj کہتے ہیں

    Good proposal, specially in age of flood of it students.

    1. شہروز کلیم کہتے ہیں

      آپ کا تبصرہ کرنے کا شکریہ

تبصرے بند ہیں.