ایک تھا محمد علی جناح

1,582

”ری وائسرا ئے ہندلارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا: مجھے صرف اس لئے ہندوستان بھیجا گیا تھاکہ میں ایک متحدہ ہندوستان ہی کو اقتدار
منتقل کروں. اس مقصد کے لئےمیں نے بہت کوشش کی دن رات ایک کر دیے لیکن میرے مقصد کی راہ میں ایک شخص چٹان کی طرح رکاوٹ بنا رہا اور وہ تھا محمد علی جناح”

لارڈ ماؤنٹ کے اس بیان کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کانگریس کو انگر یزحکومت کی پشت پناہی حاصل نہیں تھی۔ یہ بیان کانگریس کے موقف کی کھلی حمایت ہے۔ کانگریس کا بھی یہی موقف تھا۔

گاندھی نے کہا’’قرارداد پاکستان ایک پاپ ہے۔ یہ ہماری دھرتی ، ہماری گئوماتا کو چیرنے پھاڑنے کی اسکیم ہے۔ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیںگے‘‘۔ تمام ہندو رہنما مل کریہی راگنی الاپ رہے تھے۔ا س کے ساتھ وہ مسلمان جماعتیں جو پاکستان بننے کے خلاف تھیں وہ بھی اسی نظریے کی تائید کنندہ تھیں کہ ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوناچاہیے۔ گویا قائداعظم کا مقابلہ ایک نہیں تین طاقتوں سے تھا۔ شروع میں قائد اعظم بھی چاہتے تھے کہ ہندواور مسلمان متحد ہوکر انگریزوں کے خلاف تحریک چلائیں اورآزادی کے بعدمتحد ہ ہندوستان میں مل کر رہیں۔ آپ کو ہندو مسلم اتحاد کے سفیرکا لقب بھی اسی بے لوث غیر متعصبانہ سوچ رکھنے کی وجہ سے دیا گیا۔ ہر مذہب ،ہر مسلک، ہر طبقے کے لوگوں میں آپ یکساں مقبول تھے۔

ہندوستان کی بڑی سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے اسی مقبولیت کے پیش نظرآپ کوکانگریس میں شمولیت کی دعوت دی۔ آپ نے کانگریس میں شامل ہو کرکمال مہارت، ذہانت، بے باکی اور دلیری سے ہر طبقے اور قوم کے لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔ مگرجب قائد اعظم پر ہندوذہنیت آشکارا ہو گئی تو آپ نے کانگریس کو چھوڑ دیا اور سیاست سے کنارا کش ہو کرانگلینڈ چلے گئے۔ مسلم لیگ کے دور بیں رہنماؤں نے محسوس کیا کہ ذہین اور دلیر محمد علی کو مسلم لیگ میں شامل کرناچاہیے۔ آپ کی مقناطیسی شخصیت نے مسلم لیگ میں ایک نئی روح پھونک دی۔ پاکستان کا مقدمہ آپ نے اس انداز میں لڑا کہ غیربھی آپ کی عظمت کا اعتراف کرنے پرمجبور ہوگئے۔ ممتاز صحافی بیورلے نکلسن نے اپنی کتاب ’’ورڈکٹ آف انڈیا میںقائداعظم کوایشیا کی عظیم شخصیت کہا۔ ڈاکٹراجیت جاوید نے اپنی کتاب’’سیکولراینٖڈنیشلسٹ جناح ‘‘میں قائدکی جرأت اور ایمانداری کااعتراف کیا ہے۔

برطانیہ کے سابق وزیر ہندلارڈ پیتھک لارنس نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا نام ایک عظیم قوم کی تشکیل کرنے والے رہنما کی حیثیت سے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ بمبئی کے وزیر اعلٰی پی جی کھیر نے کہا:محمد علی جناح تاریخ ساز شخصیت تھے۔ان کی قوت فیصلہ،خود اعتمادی اور بے مثال وکالت نے ان کو ایک قابل رشک رہنما بنا دیا تھا۔ ان کی موت ہم سب کا اجتماعی نقصان ہے‘‘

بلبل ہند مسز سروجنی نائڈو نے کہا : اگر مسلم لیگ کے پاس ایک سو گاندھی ،ایک سو نہرو اورایک سوسردار پٹیل اورایک سو ابو الکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صر ف ایک جناح ہوتا تو پاکستان کبھی معرض وجود میں نہ آتا‘‘.عظیم قائد کویہ ایک بڑا خراج تحسین ہے۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس کے نہرو، گاندھی ، پٹیل اور آزادجیسے بڑے لیڈروں کی ذہانت کویکجا کر کے سو گنا کر دیا جائے توبھی وہ قائداعظم کی ذہانت کی گردکو نہیں پہنچ سکتے۔ سچ تو یہ ہے کہ قائداعظم کے سیاسی مخالفین بھی ان کی عظمت کو تسلیم کرتے تھے۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور بھارت کے چوٹی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے دورہ پاکستان کے وقت قائداعظم کے مزار پر حاضری دی تومحمدعلی جناح کے لئے مہمانوں کے لئے رکھی گئی کتاب میں لکھا’’وہ عظیم رہنماجس نے تاریخ رقم کی‘‘ ۔ عظمت وہ جسے غیر بھی تسلیم کریں ،جادووہ جو سر پرچڑھ کر بولے اورقائد کی عظمت کو بے لاگ حق گو، غیرجانبدار مخالفوںنے بھی تسلیم کیا ہے۔

قائداعظم سیلف میڈ آدمی تھے۔جب وہ تعلیم مکمل کر کے واپس آئے توان کے والد کا کاروبار ٹھپ ہو چکا تھا۔ سر پر قرضوں کا ایک انبار تھا۔ آپ نے ممبئی میں وکالت شروع کر دی۔ یہ ہندوستان کے چوٹی کے وکلا کا شہرتھا۔ پہلے تین سال تک یہ حال تھا کہ دفتر تک جانے کے لئے کرایہ نہیں ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ گھر سے دفتراور دفتر سے گھر پیدل آیا جایا کرتے تھے۔ مگر محنت اوراستقامت سے آپ نے وہ کر دکھایا کہ کوئی آپ کا ہمسر دکھائی نہ دیتا تھا۔

تحریک پاکستان میں ایک مایوس اور منتشرقوم کو لے کر اس وقت کی دنیا کی سپر پاورانگریز سرکاراورہندوستان کے کاروباری میدان پر چھائے ٹاٹا اوربرلا جیسے ہند وسرمایہ داروں سے مقابلہ کرنا آسان نہ تھا ۔ مگر اس سے زیادہ خطر ناک مرحلہ وہ تھا جب کئی مسلمان جماعتوں نے پاکستان کے نظریے کو جھٹلایا اور کانگریس کی حمایت کر دی۔ یہ ایک نہایت نازک اور نفسیاتی مسئلہ تھا۔ جس بات کو اپنے نہ مانتے ہوں اسے غیروں سے کیسے منوایا جاسکتا ہے۔ یہ قوم کو مخمصے میں ڈالنے اور بے یقینی کا شکار کرنے والی حرکت تھی۔ بے یقینی۔۔۔ جو یقینی شکست کی بنیاد ہوتی ہے۔ مگر قائداعظم کے عزم واستقلال اور مقناطیسی شخصیت نے سب کوشکست دی اورپاکستان حاصل کرلیا ۔ اللہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کو جنت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے،درجات بہت بلند کرے اورکروٹ کروٹ اپنے انعامات سے نوازے۔ آمین!
٭٭٭

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.