خزانہ خالی ہے

2,173

ہماری جتنی عمر ہے اس میں جتنی بھی حکومتیں بدلیں، سب کا ایک ہی رونا رہا کہ خزانہ خالی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ سیاستدان خزانہ کسے کہتے ہیں مگر پہلے دن سے ہی شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے۔ پاکستان کے خزانے کو آج تک کوئی نہیں بھر سکا۔ جو بھی آیا یہی کہا کہ خزانہ خالی ہے اور جب اسے حکومت سے کسی نہ کسی طرح ہٹایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کا اپنا خزانہ تو پہلے سے کئی گنا بھر گیا ہے۔

ہمارے ایک سابق صدر ایک متوسط درجے کے باپ کے بیٹے تھے جنہیں ضیا الحق نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ لگایا۔ اس دن سے ان کے اکاؤنٹس میں برق رفتاری سے اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ ایسے ہی جس کسی کو مالیات کا شعبہ سونپا گیا اس کا خزانہ بھرتا گیا مگر پاکستان کا خزانہ ہمیشہ خالی ہی رہا۔ حیرت کی بات ہے کہ جب خزانہ خالی ہے تو پھر اتنی تگ و دو کر کے ہر جائز نا جائز طریقہ استعمال کر کے حکومت میں آنے کا زور کیوں لگایا جاتا ہے؟

میں نے اور آپ نے بھی آج تک نہی سنا اور دیکھا ہو گا کہ فلاں وزیر اعظم نے پاکستان کے خالی خزانے کو اپنی ذاتی جائیداد سے بھر دیا۔ آج تک کوئی صدر، کوئی وزیر اعظم یا جرنیل یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا۔ اب تو نوبت چندہ مانگنے تک آ پہنچی ہے۔ ملک میں کوئی بھی کام کرنا ہے تو اس کے لئے فنڈ اکٹھے کئے جائیں، چندہ مانگا جائے۔ چندہ مانگنے کی بجائے اگر عوام سے یہ اپیل کریں کہ وہ ڈیم کے مقام پہ جا کر اپنے حصے کی مزدوری کریں تو اس سے زیادہ فائدہ ہو گا۔

عام پاکستانیوں نے شروع دن سے اتنی قربانیاں دی ہیں کہ اب ان کی قربانی دینے کی سکت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اب خاص پاکستانیوں کی باری ہے۔ سیکریٹری ،کمشنر، ڈی آئی جی ج اوررنیل جو ملک چھوڑ کے یہاں سے بہت سا خزانہ اپنے ساتھ لے جا چکے ہیں وہ اب ہمت کر کے آئیں یا انہیں واپس لایا جائے اور انکی قربانی د ی جائے تاکہ ڈیم بن سکیں ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر پاکستانی اس خالی خزانے والے ملک میں ایک دفعہ وزیر اعظم بنا دیا جائے تو ہر پاکستانی امیر ہو جائے گا۔ اور خزانہ پھر خالی رہے گا۔ ہاں اگر چندہ لینا ہے تو وزیر اعظم نہ بنائیں کیونکہ کوئی وزیر اعظم خالی خزانے سے بھلا چندہ کیسے دے پائے گا۔ اسے کوئی عوامی عہدہ دے دیں جہاں سے وہ عوام سے چندہ لے کر دے سکے۔

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Farid کہتے ہیں

    Biased and half literate, neem hakeem , keep prying into national matters assuming they get importance of some sort. They have no idea what they are talking about.
    This country has been robbed time and again. Let someone sort it out for us. Let someone work honestly.
    Stop your silly and out of place comments.

  2. ارشد فاروق بٹ کہتے ہیں

    عوام کو بے وقوف بنانا حکمرانوں کا متفقہ مشغلہ ہے۔ لیکن خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ عوام کو اذیت میں مبتلا کرنے والے کیا خود سکون کی زندگی گزار رہے ہیں؟ کاش حکمران یہ سمجھ سکیں

تبصرے بند ہیں.