!عدالتوں میں انصاف نہیں تھپڑ مل رہے ہیں

1,577

ہمارا موجودہ عدالتی نظام کا مقصد عوام الناس کو انصاف دینا نہیں بلکہ انہیں کنٹرول کرنا ہے. ہم سب کا اپنی زندگی میں کورٹ کچہری سے کسی نہ کسی وجہ سے واسطہ ضرور پڑتا ہے. اگر ہم بہت ہی خوش نصیب ہوں اور ہم اس دنیاوی قیامت سے بچ بھی گئے ہوں تو ہم اپنے ارد گرد بڑی آسانی سے کسی ایسے شخص کو تلاش كر سکتے ہیں جو ہمارے نظامِ انصاف کا مارا ہو- اس نظام میں انتہائی پچیدہ، طويل اور مہنگا رستہ اختیار کرنے کے بعد بھی انصاف ملنے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی- حتى کہ ایک پڑھا لکھا باعزت شخص بھی ایک سادہ سی عدالتی کام کے لیے بھی کچہری جانے سے پہلے دس بار سوچتا ہے-

“ہم لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا تاثر تودے رہے ہیں لیکن انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ،لوگ نظام سے بدظن ہورہے ہیں۔”

یہ حقیقت پر مبنی الفاظ ہیں مگر میرے نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار صاحب کے ہیں جنہوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار آج سے پانچ ماہ قبل بلوچستان ہائی کورٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا.پاکستانی شہری ہونے کے ناطے میں نے اس عدالتی نظام کو غور سے دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کی کہ آخر یہ نظام انصاف فراہم کرنے میں ناکام کیوں ہے اور مسائل کا علم ہونے کے باوجود بھی مسائل کو حل کیوں نہیں کیا جاتا؟ جواب میں مجھے اسکی ایک حیران کن اور نہایت سادہ سی وجہ سمجھ میں آئی اور وہ یہ کہ ہمارا عدالتی نظام اسوقت حکومت چلانے میں مصروف ہے!

اگر میں اپنی بات سادہ لفظوں میں سمجھاؤں تو اسوقت پاکستان میں زیادہ تر اہم ادارے اپنا نہیں بلکہ دوسرے اداروں کا کام کر رہے ہیں. مثال کے طور پر تیس جولائی کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پانی کے ذخائر کی تعمیر کے لئے حکومت اگر فنڈز اکٹھے کر سکتی ہے تو کرے، حکومت چاہے تو عدالت کے قائم کردہ فنڈ کو ٹیک اوور کر لے، یہ عدالت کے ججوں کا کام نہیں کہ فنڈز اکٹھے کریں۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ عدالت کا کام نہیں تھا تو ابتک سپریم کورٹ میں زیرِ التواء ہزاروں کیسز کو پشِ پشت ڈال کر کیوں سر انجام دیا جاتا رہا؟ اس کام کے لیے متعلقہ ادارے کو حکم بھی تو دیا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہ ہوا اور وہی ہو جو سب کے سامنے ہے .

محترم قارئین اس بھیانک پس منظر کو بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عدالتوں میں مظلوموں کو انصاف نہیں تھپڑ رسید کیے جا رہے ہیں. گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت کے دوران پولیس سے تعلق رکنے والے ملزمان کے وکیل ناظم اعوان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے گواہ محسن رسول کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں تھپڑ مار دیا۔ ملزمان کے وکیل نے محسن رسول کو سانحہ کے چشم دید گواہ افتخار پر جرح کے دوران تھپڑ مارا.

ناظم اعوان کی طرف سے مارا گیا یہ تھپڑ صرف محسن رسول پر ہی نہیں بلکہ اس نظامِ انصاف پر بھی زوردار طمانچہ ہے. وکلاء کی غنڈہ گردی سے کون واقف نہیں، انکی غنڈہ گردی سے نہ تو جج محفوظ رہ سکیں ہیں نہ ہی پولیس والے اور نہ ہی انصاف کے لیے در بدر ٹھوکریں کھانے والے مظلوم لوگ.

چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اپریل 2018 میں یتیم بچی بسمہ سے کیا گیا وعدہ وفا کریں. منصفِ وقت کو بلا خوف و خطر اور قرآن پاک کے فرمان پرعمل پیرا ہوتے ہوئے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے.

[4:135] Al-Nisā-النِّسَآء
“اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے۔”

انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں اور کالم نگاری کا شوق رکھتا ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Shirazi کہتے ہیں

    آپکے اس مضمون میں دئیے ہوے حقائق سے اختلاف ممکن نہیں۔ انصاف کا حصول انسان درکنار حیوان کا بھی حق ہے۔

    1. حافظ محمد زبیر کہتے ہیں

      جی ایسا ہی ہے. اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں انصاف پہ زیادہ توجہ دی جاتی ہے

تبصرے بند ہیں.