!مائیں سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔ مگر

9,117

ہر ٹی وی چینل پہ بیگم کلثوم نواز کی اچانک موت کی افسوس ناک خبر نے ہلچل مچا دی۔ اللہ پاک مرحومہ کے درجات بلند کریں اور پیچھے رہ جانے والوں کو صبر دیں کہ بلاشبہ یہ ایک بڑا دھچکہ ہے۔ مختلف طبقہ فکر کی جانب سے جس طرح رنج اور دکھ کا اظہار کیا گیا وہ بھی قابل ستائش ہے کہ انسانیت سے بڑھ کہ کچھ نہیں۔

کینسر جیسا موذی مرض بیگم کلثوم نواز کی جان لے گیا اور یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تین بار خاتون اول رہنے والی خاتون کی فیملی کو ان کے علاج کے لیے اپنے ہی ملک میں کوئی قابل اعتبار ہسپتال نہ ملا جہاں انکا تسلی بخش علاج ہو سکتا۔

سوشل میڈیا پہ کچھ نیوز فیڈز اور کمنٹس پڑھے تو کھلی منافقت پہ دل کٹ کے رہ گیا گیا۔ دہرے معیار اور منافقت مجھے بہت تکلیف دیتے ہیں۔ آنکھوں کے سامنے کتنی ہی روتی بلکتی مائیں آئیں جن کی اولادیں اس ملک پہ قربان ہوئیں اور جابر حکمرانوں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن، سانحہ اے پی ایس، اور زینب سمیت قصور میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے تمام بچے اور ان کی نڈھال اور روتی بلکتی مائیں۔۔۔ کیا وہ انسان نہیں تھے؟ کیسا المیہ ہے کہ اس وقت کے حکمرانو‎ں کی آنکھ سے احساس کا آنسو کیا ٹپکنا تھا ان کے منہ سے ندامت کا ایک جملہ تک نہ نکلا۔

مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں اور پاکستان کی دھرتی بھی تو ہماری ماں ہے، اسے سانجھا اور اپنا کیوں نہی سمجھا گیا؟ جو ملک کو نوچ کھسوٹ کے کھا گئے، جنہیں اپنی دھرتی ماں اور اس میں بستی کروڑوں ماؤں کا خیال نہی آیا، آج ان کے متوالوں کو مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں کا منترہ یاد آرہا ہے۔ ہاں ہوتی ہیں مائیں سانجھی میں بھی مانتی ہوں مگر سب کی صرف ایک خاندان کی نہیں۔۔۔!

خبروں میں سنا کہ مرحومہ آئرن لیڈی تھیں۔ انھوں نے جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دیں اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ ڈٹی کھڑی رہیں مگر کب اور کس سلسلے میں؟ بحیثیت پاکستانی صرف یہ جاننا ہے کہ کیا وہ حق اور سچ کے لیے ڈٹ کے کھڑی ہوئیں؟ کیا وہ تب اپنے شوہر کے شانہ بشانہ رہیں جب وہ ملک کا پیسہ لوٹ لوٹ کے بیرون ملک اپنے اکاونٹ بھر رہا تھا، جائیدادیں بنا رہا تھا، جب ان کے بچے بچپن میں ہی کھربوں پتی بن رہے تھے؟

جب وہ بیاہ کے آئی ہوں گی تو انہوں نے اپنی سسرال کی مالی حیثیت دیکھی ہی ہو گی اور پھر یہ بھی دیکھا ہو گا کہ اقتدار میں آ کے وہ کیا سے کیا ہو گئے۔ ہو سکتا ہے کہ مرحومہ کے شوہر نامدار پہ انکا بس نہیں چلتا ہو مگر اپنے بچوں کو حلال اور حرام کی تمیز سکھانے جیسا اہم فریضہ انہی کا ہی تھا۔ کیا وہ اتنی لاعلم تھیں کہ انھیں پتا نہی چل سکا کہ اندھا پیسہ کہاں سے آرہا ہے اور کب اور کیسے ملک سے باہر جاتا رہا۔

اگر سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انہوں نے آنکھیں بند رکھیں اور ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پہ ترجیح دی تو نا صرف انھوں نے اس دھرتی ماں پہ ظلم کیا بلکی اس ملک کے ان تمام بیٹے اور بیٹیوں جن کا حق کرپٹ خاندان ہڑپ کر گیا ان سب کی ماؤں پہ بھی ظلم کیا کہ بہرکیف مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔

معاف کیجیے گا یہ میری ذاتی رائے ہے اور ہو سکتا ہے آپ میں سے اکثریت کو یہ پسند نا آئے اور نا ہی آپ کا اس سے اتفاق کرنا ضروری ہے۔۔۔!

سوال یہ ہے کہ بااثر خاندان کی ماں، ماں اور مظلوم عوام کی مائیں کچھ نہیں۔۔۔ کیوں؟ ماں اگر سانجھی ہوتی ہے تو کیوں ان کے سر سے ردائیں چھینی جاتی ہیں، کیوں وہ سڑکوں پہ دھکے کھاتی ہیں کیوں ان پر سرے عام گولیاں برسائی جاتی ہیں۔۔۔؟ میری التجا صرف یہ ہے کہ ماں کو عزت دو چاہے وہ کسی کی بھی ہو، چاہے پھر وہ دھرتی ماں ہی کیوں نا ہو کیونکہ مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔

ایک چھوٹی سی التجا اور بھی ہے کہ ماں کو کبھی بھی مطلب نکالنے کے لیے، اپنی سیاست چمکانے، ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ ماں کا رتبہ بہت بلند ہے۔ وقت اور حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے مگر ماں ماں ہی رہتی ہے۔

بےشک دنیا عبرت کی جاہ ہے انسان جب اس دنیا سے جاتا ہے تو زادہِ راہ صرف نیک اعمال ہوتے ہیں، کوئی جائیداد، آف شور کمپنی اورفارن اکاؤنٹ ساتھ نہیں جاتا کہ کفن میں کوئی جیب نہی ہوتی۔۔۔!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تنزیلہ احمد نے مارکیٹنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھتی ہیں اور سماجی و سیاسی معاملات انکے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Syndi کہتے ہیں

    زبردست بلاگ لکھا ہے بھائی جی ۔ دل خوش کر دتا

  2. Shirazi کہتے ہیں

    کون اس حقیقت سے انکار کا سوچ یا جرآتکر سکتا ہے کہ مائیں سانجھی ہوتی ہیں اور پھر جہان فانی سے رخصتی پر تو لوگ قا تلوں کی بھی صرف خوبیوں کا تزکرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ دنیا داری کے تقاضے تو یقیناً ایسے بیانات اور رویوں سے پورے ہو جاتے ہیں لیکن وہ ذات جو دل و دماغ میں ان کہی گزری ہوئی خیال سے بھی مکمل طور پر واقف ہے وہ ذات پاک نہ تو جہان سے رخصت ہوے شخص کو معاف کرتی ہے نہ یہاں رہ جانے والےجھوٹ کو مخمل کے لحاف میں چھپانے والوں کو کلین چٹ دیتی ہے۔ کیونکہ اس ہستی پاک و عظیم کا وعدہ ہے کہ یوم حشر ہر کوئی اپنے اعمال نامے میں ذرہ برابر کی ہوئی نیکی دیکھے گا اور بعنئہ ذرہ برابر کی ہوئی بدی بی دیکھے گا۔ یہ مرحومہ میری اور میری طرح کروڑوں لوگو کی نظر میں نہایت محترم ہوتیں اگر اپنے شریک حیات سے ذرائع آ مدن پوچھتی ۔ اپنے بچوں کو حرام کی دولت پر پرورش کرنے سے صاف انکار کرتیں۔ ایک دیہات کی گمنام ماں جس نے حلال کی قلیل کمائی پر اپنے بچوں کی نہایت کسمپرسی کی حالت میں پرورش کی وہ ماں موصوفہ سے بدرجہا افضل، قابل ستائش اور ان گنت دعاووں کی حقدار ہے۔

  3. Sharif Chaudhry کہتے ہیں

    The biggest reason for the downfall of this nation is the people say the things without any references. With mighty power of all the agencies, no proof could be given to courts. Use of word “probably” is a big slap on the face od judicial system.

    1. Shirazi کہتے ہیں

      Add to your statement a small sentence…. one of the Hamalian size reason of the fall of nations is closing their eyes from facts and figures in love of so called personalities and their stinking deeds.. .. and then…. باقی نہ رہی تیری آئینہ ضمیری۔۔۔ اے کشتہ ئے سلطانی و ملائی و پیری

تبصرے بند ہیں.