منصف اعلی صاحب! ڈیم پر پہرہ مگر عدالتی فیصلوں پر؟

2,157

چیف جسٹس اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے ڈیم کیلئے اٹھائے جانے والا اقدام قابل تحسین ہے۔ پانی نہ صرف زندہ رہنے کیلئے ہر ذی روح کی ضرورت ہے بلکہ اس کی تخلیق کا جزاول بھی ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ “پانی زندگی ہے”۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ط اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَo

ترجمہ: اور ہم نے (زمین پر) پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتےo

کسی بھی ملک کی بقا ء کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے منصب پر فائز حکمران ملک کی سلامتی کیلئے ایسے منصوبہ جات شروع کریں جو آنے والی کئی دہائیوں تک ملک کو چلانے کیلئے کافی ہوں۔ اس وقت دنیا میں تیسری جنگ عظیم کی جب بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ جنگ پانی کے ایشو پر ہو سکتی ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے پانی کے اتنے بڑے اور اہم ایشو کو نظر انداز کرتے ہوئے آج پورے ملک اور عوام کو ایک ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہےکہ عوام کے پاس یک زبان ہو کر پانی کی مشکل سے لڑنے کیلئے پختہ ارادہ کرنے سوائے کوئی دوسرآپشن نہیں ۔ انشاء اللہ حکومت اور عوام مل کر اس مشکل سے ملک کو نکالیں گے۔ یہ ایک ریاستی پروجیکٹ ہے حکومتیں آ ئیں یا جائیں اب یہ مکمل ہو کر ہی رہے گا۔

چیف جسٹس محترم ثاقب نثارنے اس اہم ایشو اپریکشن لیتے ہوئے ڈیم فنڈکا آغاز کیا۔ حکومت اور عوام نے ساتھ دیا اور اس پر کام کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ میں ریٹائرڈ منٹ کے بعد بھی ڈیم پر پہرہ دوں گا ۔ کسی بھی کام کیلئے اس حد تک پُرعزم ہونا بہت اچھی بات ہے۔ لیکن بطور چیف جسٹس محترم ثاقب نثار کی اولین ذمہ داری عدالتی نظام میں بہتری لانے کے اقدامات ہونے چاہیں۔ ملک میں انصاف کی فراہمی نایاب ہوتی جا رہی ہے لیکن اس پر کوئی اصلاحات نہیں کی جا رہیں۔ سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی بہت ایکٹیو نظرآتے تھے لیکن عملی اقدام نہ ہونے کی وجہ سے آج ان کا تذکرہ اچھے انداز میں نہیں ہوتا ۔ موجودہ چیف جسٹس کی طرف سے بھی ان گنت سوموٹو ایکشن لیے گے جن میں سے اکثریت داخل دفتر ہو گئے۔ پاکستان میں اکثریت عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔ لوگوں کی انصاف سے مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس کو اپنا فرائضِ منصبی کا حق ادا کرتے ہوئےایسی اصلاحات کرنی چاہیں جس سے جلد انصاف ممکن ہو ۔ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل کیلئے تجاویز سینٹ اور پالیمنٹ کو تحریری طور پر بھیجنی چاہیں تاکہ اس پر قانون سازی ہو سکے۔

ہمیشہ کی طرح جب بھی اس پاک وطن پر کوئی مشکل وقت آیا تو پاکستانی عوام اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ آج بھی پوری قوم ایک ساتھ ڈیم بنانے کیلئے متحد نظر آ رہی ہے ۔ اب یہ حکومت وقت پر ہے کہ وہ عوام کے اس اعتماد پر کس حد تک پورا اترتے ہیں۔ ڈیم بنانے کیلئے ماہرین کی ایسی ٹیم کو ترتیب دینا ضروری ہے جو کم وقت اور وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس ملک کو پانی کے اس جہاد میں فتح سے ہمکنار کرائیں ۔ تمام اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ڈیم بنانے میں جو بھی رکاوٹ بننے کی کوشش کرے اس سے قانونی نہیں بلکہ آہنی طریقہ سے نمٹا جائے ۔ ڈیم پر پہرہ تو حکوت اور عوام دے گی چیف جسٹس صاحب آپ اپنی اولین ذمہ داری ادا کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر پہرہ دیں تاکہ عوام کو انصاف کے معاملے میں بھی سکھ کا سانس نصیب ہو!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    آپ نے نہایت معقول تبصرہ کیا ہے۔ پانی جیسی بیش بہا نعمت کی ترسیل کی مد میں ہر کوشش قابل صد ستائش۔ انعام الہی بے شمار ہیں لیکن پانی کے ہم پلہ شاید ہی کوئی اور نعمت ہو کیونکہ دارومدار حیات ہی اس انمول نعمت پر ہے۔ عجیب بات ہے کہ سونے اور جواہر سے زیادہ قیمتی اس جنس کے ذاتی زندگی میں منصفانہ مصرف پہ نہ کسی دینی مدرسہ میں درس دی جاتی ہے اور کسی اور تعلیمی ادارے میں۔ ایک ایسے انتھک مہم کی اس وقت اشد ضرورت ہے جس میں ہر خاص و عام کو اس جنس نایاب کی اہمئیت اور عادلانہ استعمال سے روشناس کیا جا سکے۔ آیسی آگہی بنا بھلے ۂم پچاس ڈیم بنایں نتیجہ خیز نہ ہوںگے اگر عوام و خواص کو پانی کی قدرو قیمت سے آگاہ نہ کیا گیا تو تمام تر کوششوں کے بے نتیجہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ جہاں تک عزت مآب چیف جسٹس کی اس مد میں کوششوں کا تعلق ہے وہ نہایت قابل ستائش ہیں ہاں مگر آپکا نظام عدل میں بہتری کی تجویز بھی قابل توجہ ہے۔ نہ پانی کے بغیر زندگی کا کوئی امکان نہ عدل کے بنا معاشرے کا تصور ممکن۔۔۔

تبصرے بند ہیں.