مرثیہ اور میر انیس

1,471

ماہنامہ “روحانی دنیا لکھنو “میں منقول ہے کہ ایک بار میر انیس مجلس میں مرثیہ پڑھ رہے تھے کہ پاس سے راہ گیر گزراور دریافت کیا کہ کیا ہورہا ہے؟ کسی نے بتایا کہ انیس مرثیہ پڑھ رہے ہیں اور محبان اہلبیت ماتم کر رہے ہیں ۔اس پر وہ شخص چلایا سبحان اللہ ۔۔ میر صاحب! واہ کیا پڑھ رہے ہو اور ماتم کرنے لگا۔ مرثیہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان کی کہانی. مرثیہ واقعہ کربلا سے قبل بھی لکھا جاتا تھا لیکن بعد میں فقط امام عالی مقام حضرت حسین ابن علی سے منسوب ہوگیا کیونکہ انسانیت کی تاریخ میں کوئی ایسی قربانی ارفع اور مکمل نہیں جتنی حسین ابن علی کی شہادت ہے۔ کربلا میں پیغمبر اسلام کے نواسے کے گلے پہ چھری پھیری گئی اور کربلا کی سرزمین لہولہان ہوئی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایسے نو رمیں تبدیل ہوگیا جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے ،نہ کوئی نیزہ چھید سکتا ہے اور نہ زمانہ مٹا سکتا ہے ۔

عربی اور اردو مرثیہ فارسی کے زیر اثر پرورش پاتا رہا. یوں عربی اور اردو مرثیہ نگاری کا شروع دور سے تعلق فقط عنوان واقعہ کربلا ہی ہے۔ اردو میں مرثیہ نگاری عربی اور فارسی سے زیادہ جاذب اس وقت ہوگئی جب اردو کے شاعروں نے اس کے ارتقائی سفر کا آغاز کردیا اور اس لئے کہا گیا کہ ہندوستانی زبانوں میں مرثیہ اپنی ہیئت کی مثال نہیں رکھتا۔ مرثیہ میں ایسے کردار اور واقعات کو شامل کیا گیا جومحسوسات انسانی کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ جیسا کہ بہن کا بھائی کی محبت میں قربان ہونا۔ کمسن جوانوں کا حق کے لئے جہاد کرنا۔ اکبر جیسے جوان کا باپ کے سامنے برچھی کا پھل کھانا اوردودھ پیتے بچوں کے گلے پہ تیر کا لگنا۔ یہ ایسے واقعات ہیں جس سے نفسیاتی اور انسانی پہلو زیادہ نمایاں ہوا اس لئے مرثیہ خوانی میں ہر مذہب و ملت کے افراد کو روحانی اور اخلاقی کیفیت محسوس ہوتی ہے ۔

اس ارتقائی سفر میں میر انیس نے کلیدی کردار ادا کیا اور مرثیہ کی ایسی صنف بنا دی جو ایک طرف رزمیہ اور ساتھ اخلاقی تعلیم کا ذریعہ بن گیا ۔ ریحان اعظمی کے لکھے ہوئے مرثیے جو نوحہ خواں ندیم سرور پڑھتے ہیں وہ بھی رزمیہ مرثیے ہیں جس میں تلوار ،گھوڑے کی تعریف اور داو پیج شامل ہوتے ہیں۔ بقول نسیم امروہوی یہ رزمیہ شاعری اسلئے ضروری ہے کیونکہ اس سے دل میں ولولہ اور خون میں روانی اور ظلم کا مقابلہ کرنے کی ہمت پر اچھا اثر پڑھتا ہے۔

میر انیس کا شعر دیکھیے ۔۔۔۔

نعرے تھے حیدر کے دلیروں سے وفا ہے
گھوڑے بھی بھڑکتے تھے کہ شیروں سے وفا ہے

میر انیس نے مرثیہ میں رزمیہ اشعار کے ساتھ ساتھ لہجے اور اشاروں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بہتر کیا ۔ دور حاضر میں بھی ندیم سرور اپنی آواز کی سوز میں بہتری کے خواہش مند رہتے ہیں۔انیس بھی ندیم سرور کی طرح اپنے سننے والوں کے سامنے اپنی آواز کی مدد سے ان دیکھے مناظر پیش کر کے دلوں میں جذبات کو پیدا کرسکتے تھے. جیسا کہ مجالس میں ذاکرین عظام مجلس عزا میں قصیدہ خوانی اور مرثیہ گوئی میں کرتے ہیں۔ مرزا انیس بھی لہجے، آواز اورچشم و ابرو کے اشارے سے مرثیہ پڑھتے تھے جس کا سامعین پر بھی اثر پڑتا تھا۔

واقعات انیس میں مرزا علی نے لکھا ہے کہ میر کی مجلس میں میانے کی چوبوں سے سر ٹکرانا اور سر و سینے کو ایسے پیٹنا جیسے ماتمی دستے والے ماتم کرتے ہیں، کھڑے ہوکر داد دینا اور وجد میں آجانا معمول تھا ۔

مرثیہ ابتداء سے انیس تک موضوع اور ییئت میں ارتقاء کا سفر کرتا رہا اور یہ کربلاء کے ہرکردار کو الگ اہمیت اور حیثیت دینے کے بعد انیس تک آتے آتے درجہ کمال پاگیا۔

۔بقول انیس
عمر گزری ہے، اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں

توقیر کھرل صحافت کے طالبعلم ہیں ۔ہفت روزہ مارگلہ نیوز کے سب ایڈیٹر ہیں تحقیقی موضوعات پہ لکھتے ہیں ابتک سو سے زائد فیچر لکھ چکے ہیں ۔متعدد معروف شخصیات کے انٹرویوز کرچکے ہیں اورفوٹو گرافی کو بھی پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.