بھارت کی قانونی ہم جنس پرستی اور پاکستان پر اثرات

4,944

چھ ستمبربھارت کی تاریخ میں کن لفظوں میں لکھا جائے گا ،اس کا فیصلہ جنتا کی عدالت کرے گی۔بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے نہ جانے کیا سوچ کر ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے والا سیکشن 377 منسوخ کیا۔اس کا پس منظر بھی سامنے آئے گا اورسپریم کورٹ آف انڈیا کے 5 ججوں پر مشتمل بنچ نے ہم جنس پرستی سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے 17 جولائی کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جب پڑھ کر سنایا تو عام بھارتی شہری پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ دوران سماعت عدالت کے 5 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ ہم جنس پرستوں کوعام شہریوں کےحقوق حاصل ہیں اور ہم اس عمل کو جرم قرار دینے والا سیکشن 377 منسوخ کرتے ہیں اوراس عدالتی فیصلے کے بعد اب بھارت میں ہم جنس پرستی جرم نہیں ہوگی۔

بھارتی چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا اعلیٰ ترین انسانیت ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہم جنس پرستی کے خلاف قانونی شق 377 غیرمعقول اور ظالمانہ ہے، کوئی بھی شخص اپنی ذات کی وجہ سے تنہا نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں ہدایت کی کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس قانون کی مزید تشریح ہونی چاہیے، 186 کے قانون کے مطابق بھارت میں ہم جنس پرستی کی سزا 10 سال قید تھی تاہم ہائیکورٹ نے 2009 میں اسے ناقابل سزا جرم قرار دیا ۔ اس معاملے پر 2013 میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی اور اعلیٰ عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے قابل جرم قرار دیا تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ قانون کی شق انگریز کے ہاتھوں ہی تیار ہوئی تھی اور اب جب دنیا بھر میں انسانی حقوق کا تصور واضح ہو رہا ہے تو امریکہ کے بعد بھارت میں بھی اسے قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ اگر معاملہ صرف انسانی حقوق تک ہوتو اچھی بات ہے سب کو حقوق دیں مگر یہاں تو ہم جنس پرستی کو دماغی خلل بھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب سب کچھ امریکہ اور مغربی ممالک کے طرز پر ہی ہونا ہے تو پھر بھارت کی اپنی ثقافت کہاں جائے گی۔ آج بھی بھارتی سیاسی لیڈر پاجاما کرتا پہنتے ہیں کیونکہ یہ ثقاقت کا حصہ ہے۔
مسئلہ بھارتی ثقافت اور اقدار کا ہے ،نیز ماں باپ اپنے بچوں کو جنسی تشدد کا شکار ہونے سے بچانا چاہتے ہیں بلکہ بھارت میں تو سنی لیونی کی آمد کے بعد عام عوام کو بھی بالغان کی فلموں کا پتہ چلا ہے اور گوگل پر سنی لیونی چند برس سے سرچ کرنے میں سرفہرست ہیں۔بھارت میں خواتین کا ریپ عام مسئلہ بنا ہوا ہےاوردہلی ریپ کیپٹل کہلانے لگا ہے۔ ایسے میں کیا بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ بے راہ روی اور بچوں پر سے والدین کا اختیار ختم نہیں کردے گا۔

ہم جنس پرستی کی قانونی حیثیت کے سب سے پہلے اثرات بھارتی فلم انڈسٹری پر پڑیں گے جہاں پہلے ہی ممبئی ٹاکیز جیسی فلمیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس میں کرن جوہر نے ہم جنس پرستی کی ایک کہانی فلمائی ہے جسے دیکھ کر صرف کرائیت ہی محسوس ہو سکتی ہے۔ایسے ہی شبانہ عظمی کی فلم فائر ہے۔ جب منٹو نے ہم جنس پرستی پر افسانہ دھواں لکھا ہوگا تو انہوں نے کچھ دیکھا یاسمجھا ہوگا۔ سب جانتے ہیں کہ ایک معاشرے میں بہت کچھ ہوتا ہے لیکن قانون ہی وہ واحد راستہ ہے جو بے راہ روی کو روکتا ہے۔ کوئی بھی معاشرے اپنی قدروں سے باہر نکلے تو پھروہاں سب کچھ ملے گا سوائے ادب ا،حترام اور روایات کے ۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس فیصلے کے اثرات سب سے پہلے بھارتی فلموں کے ذریعے پاکستانیوں کے معصوم ذہنوں کو بھی متاثر کریں گے۔ حکومت پاکستان کو اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ہمیں پاکستان میں فلم سازی کے عمل کو تیز کرنے ضرورت ہے تاکہ بالی وڈ کا اس حوالے سے مقابلہ کیا جا سکے۔سوچئے گا ضرور۔

ڈاکٹر راجہ کاشف جنجوعہ نے ماس کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ریسرچر، قلم کار، شاعر، کالم نگار، بلاگر، تجزیہ کار، میڈیا ایڈوائزر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور گوگل لوکل گائیڈ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Ghazan کہتے ہیں

    پہلے فیصلہ کی تفصیل تو پڑھ لیتے. آزادی صرف بالغان اور باھمی رضامندی کی شرط عائد کر کے دی گئی ہے. اسکے علاوہ تمام کے لیۓ یہ شق بحال رکھی گئی ہے.

  2. Mr Shah کہتے ہیں

    اس فیصلے سے یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ دو قومی نظریہ کیوں کر ضروری تھا شکر ہے اس گند سے ہم باہر ہے اور دوسری اہم بات یہ کہ حقوق انسانی کی تنظیمیں کو کھیل کھیل رہی ہے وہ مزید کھل کر سامنے آرہے ہیں اسی لئے تو ہم اس نام نہاد روشن خیال تنظیموں کے خلاف ہے یہ صرف عورت تک پہنچننے کی آزادی چاہتے ہیں عورت کی آزادی نہیں اب تو اس بھی ایک قدم آگے چلے گئے یہ لوگ

تبصرے بند ہیں.