جنگ ۔۔۔ انسانی ضرورت؟

1,072

لیگ آف نیشنز کے ناکام ہونے کی وجہ ۔۔۔ جنگ!
اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کی وجہ ۔۔۔ جنگ!

منظم طریقے سے جب اشرف المخلوقات ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوتا ہے اور اپنی تمام تر توانائیاں ایک دوسرے کو مات دینے میں لگا دیتا ہے تو اسے جنگ کہتے ہیں۔ جنگ کھیڈ نئیں ہوندی جنانیاں دی، ہمارے کسی شاعر نے کہا تھا ۔ مگر یہودیوں اورہندوؤں کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کی بڑی بڑی جنگیں جیتنے کے پیچھے ‘جنانیوں’ کا ہی ہاتھ ہے۔ آج اگر مسلمان کے اوپر زوال ہے اور عالمی برادری اسے اپنی مرضی سے نچا رہی ہے تواس میں اسکا کوئی قصور نہیں ۔ یہ کائنات میں رنگ بھرتے جاتا ہے اور یہ رنگ بھرتے بھرتے اس بیچارے پر یہ نوبت آگئی ہے کہ اب بغیر جنگ کئے مغلوب ہے۔

جنگ کو ایک برائی تصور کیا جاتا ہے۔ مگر ہمارا نظریہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ جنگ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ تاریخ عالم پر نظر ڈالیں تو ہمیں جنگ ہی جنگ نظر آتی ہے ۔ جنگ ہی جنگ فلم کا نام بھی ہے۔ ویسے تو ہر فلم میں جنگ ہی جنگ ہوتی ہے لہذا فاضل مصنف اور ہدا ئیتکار نے بہتر یہی سمجھا کہ فلم کا نام جنگ ہی جنگ نام رکھ دیا جائے۔

انسان کی فطرت بلکہ جبلت میں جنگ موجود رہی ہے۔ غاروں کے رہنے والے جنگ اپنے بچاؤ کی لڑتے تھے ۔ اسی طرح وہ آپس میں بھی لڑلیتے تھے۔ جوں جوں تہذیب نے ہوش سنبھالا یہ جنگ بھی ہوش سنبھالتی گئی اور آج نوبت یہ ہے کہ ایک بٹن دبانے سے تمام جنگیں ختم ہو سکتی ہیں کہ نہ رہے گا انسان اور نہ لگے گی جنگ۔

جنگ بہت ہی فائدے کی چیز ہے۔ اس سے بڑے بڑے ادارے جنم لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کا سب سے بڑا ادارہ بھی اسی کے مرہونِ منت ہے۔ اقوامِ متحدہ کا بننا اور اس سے پہلے جتنے بھی عالمی ادارے بنے وہ جنگ ہی کا نتیجہ تھے۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جو جنگ کو برا سمجھتے ہیں وہ غلط ہیں اگر جنگ نہ ہوتی تو یہ ادارے کیسے بنتے؟

جنگ اگرچہ لہو گرم رکھنے کا بہانہ سجھی جاتی ہے مگر یہ بہت سے دوسرے مقاصد کے لیےبھی استعمال ہوتی ہے۔ ایک طاقت ور ملک جِسے کہ بالعموم کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ وہ سپرطاقت ہوتا ہے اوراپنی دھونس، دھاندلی کے لئے جنگ کراتا ہے۔ کبھی کبھار خود بھی کرتا ہے۔ جنگ کے مقاصد میں ملک کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ اُس ملک کے بادشاہ ، صدر یا وزیرِ اعظم کی مختلف خواہشات پیچھے ہوتی ہیں۔ مثلاً امریکی صدر اپنے تیل کے کاروبار کو چمکانے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم اُتر پردیش کا الیکشن جیتنے کے لئے جنگ لڑتا ہے اور روسی صدر اپنا ملک توڑنے کے لئے یہ کام کرتا ہے ۔اسی طرح اکثر سربراہان مملکت اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے یا پھر دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے لئے یہ فارمولہ استعمال کرتے ہیں۔عراقی صدر امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں اڈے دینے کے لئے جنگ کرتا ہے۔ سعودی عرب امریکہ سے وفا داری نبھانے کے لئے یمن اور شام میں جنگ کرتا ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے نظریات کی جنگ ہوتی تھی۔ یعنی نظروں نظروں میں جنگ لڑ لی جاتی تھی۔ ایسی جنگ روس اور امریکہ لڑتے رہے ہیں ۔ان کے ساتھ اُن کے حواری بھی شامل ہو جاتے تھے۔ چینی بہت اچھے ہیں ۔جنگ نہیں لڑتے بلکہ جب بھی جنگ کا ذکر ہو یہ سیکیورٹی کونسل میں اپنا ووٹ بھی نہیں دیتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جنگ رک ہی جائے۔

غاروں کے دور سے لیکر آج تک انسانیت کی بقاء کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے جنگ! ۔غاروں کے رہنے والے اپنے بچاؤ کی جنگ لڑتے تھے جس طرح آجکل افغانستان والوں نے لڑی ہے۔ جنگ کا ہر دلدادہ اپنی جنگ کو عظیم مقصد کا لبادہ اڑاتا ہے۔ کبھی یہ عظیم مقصد اپنی سرحدوں کا دفاع ہوتا ہے کبھی نظریاتی سرحدوں کا دفاع
۔
برطانیہ نے جب اپنی ساری جیت کا بول بالا بذریعہ جنگ وجدل کیا، تو اُنہوں نے اپنی جنگ کو یہ لبادہ پہنایا کہ وہ دنیا کو جہالت کے اندھیرے سے نکالنا چاہتا ہے اور آمریت ختم کرنا چاہتا ہے۔ دنیا میں جمہوریت عام کر نا چاہتا ہے۔اسی طرح امریکہ بہادردنیا کو دہشت گردی سے پاک کرنا چاہتا ہے اور وہ اس مقولے پر کاربند ہے کہ لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے یعنی دہشت گردی ختم کرنے کے لئے بڑی دہشت گردی کی جائے۔ لیکن اس کارِ خیر کے پیچھے کیا عزائم ہیں اُن میں سے ایک تو نظر آ گیا ہے کہ سنٹرل ایشیا کے تیل کے ذخائراوردنیا میں ہر جگہ کے توانائی کے وسائل۔

اگر سنٹرل ایشیا کے تیل کے ذخائر پر امریکی قبضہ ہو گیا تو یوںمجھیں دنیا میں امن ہوگیا۔ دہشت گردی ختم ہوگئی۔ کچھ عرصہ قبل امریکہ کا نعرہ تھا کہ دنیا کو کمیونزم کے ناسور سے پاک کر دیا جائے تو اس سے دنیا ترقی کرے گی ۔لیکن اصل مقصد اُس وقت کیا تھا؟ دنیا پر چودھراہٹ قائم کرنے کے سوکچھ بھی نہیں۔ اب
واحد عالمی طاقت بن کر بھی اُس کی جنگ کا شوق پورا نہیں ہوا اور دوسرا عظیم مقصد سامنے آگیا ہے کیونکہ عظیم مقاصد کی تاریخِ انسانی میں کمی

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.