انسان اور ستارے

1,757

اس کرہ ارض پر انسانوں کا جھرمٹ بھی کہکشاں کی طرح ہے۔ بہت سی ہم آہنگی اور بہت سے تضادات لئے ہوئے، مگر ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم۔ جیسا کہ کہکشا ؤں میں ہوتا ہے ویسا ہی ہمارے ہاں انسان بھی کرتا ہے۔ وہاں دُم دار ستارے ہیں تو یہاں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خود کو دُم لگا کر برا بننے کے چکر میں رہتے ہیں اور بن بھی جاتے ہیں ۔ ان کی دم سے آگ برستی ہے اور کوئی بھی پر سکوں اور امن پسند فرد جلنا نہیں چاہتا۔

دنیا میں بہت سے ممالک بھی اسی شعار کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ امریکہ بہادر دم کو آگ لگائے پھرتا ہے اور ہر اس ذی روح کو جلا کے راکھ کر دینا چاہتا ہے جو اس کے سامنے آئے۔ بلیک ہول بھی ہماری کہکشاؤں میں موجود ہیں جو ہر اس چیز کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں جو ان کے قریب بھٹکتی ہے۔ ہمارے اس انسانوں کے جھرمٹ میں لا دینی طاقتیں یہ صلاحیت بدرجہ اتم رکھتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور اس سے بڑھ کر شو بز کا شعبہ اس فن میں طاق ہے۔ کوئی جتنا بھی متقی، پرہیز گار ہو وہ اس بلیک ہول سے نہیں بچ سکتا۔ سیاست کا نشہ اور اس کے نتیجے میں ملنے والی حکمرانی بھی اسی بلیک ہول میں شامل ہیں۔ جو ان کا مزہ چکھ لیتا ہے وہ مر کر ہی انہیں چھوڑتا ہے۔ ستاروں کے قریب جائیں تو اتنی گرمی ہے کہ ہر چیز وہاں جا کر جل کر راکھ بن جاتی ہے۔ یہ سیاسی،فلمی اور سوشل میڈیا کے ستارے بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔

شہاب ثاقب بھی کہکشاں کا حصہ ہوتے ہیں جو تھوڑی دیر کے لئے چمکتے ہیں اور اپنی روشنی دوسروں کے سپرد کر کے خود کو خاک میں ملا لیتے ہیں۔ ایسے ہی ہماری اس دنیا میں چند نابغہ روزگار ہیں جو ہر ملک اور قوم میں موجود ہیں ۔ یہ بزرگ ہستیاں ہیں جو کبھی سائنس دان بن کر ،کبھی درویش بن کر ،کبھی خدمت گزار بن کر اورکبھی معلم بن کر انسان اور انسانیت کے کام آتے ہیں اور جلد ہی اپنے نقش چھوڑ جاتے ہیں۔

کہکشاں میں کریٹر بہت زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ہر جگہ بے ہنگم گھومتے پھرتے ہیں اور آپس میں ٹکراتے رہتے ہیں۔ ہماری اس زمین پر مذہب کے نام پر مال کمانے والے ،فرقہ پرستی پھیلانے والے اور پھر ان کے پیروکار ہر جگہ مارے مارے پھرتے ہیں اور دوسروں کو اپنے مخالف فرقے کو مار دینے کا در س دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ اس زمین کے وہی کریٹر ہیں جو نہ خود سکوں سے جیتے ہیں نہ کسی کو جینے دیتے ہیں۔

کہکشاں کی اصل رونق ان چمکتے دمکتے ستاروں سے ہے جو عام ستارے کہلاتے ہیں۔ انسانوں کی اس زمینی کہکشاں پر بسنے والے عام آدمی ہی وہ روشن ستارے ہیں جن کے دم سے یہ زمین آباد اور شاداب ہے۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔اپنے وقت پر نمودار ہوتے ہیں ، اندھیری راتوں کو روشن کر کے پھر ڈوب جاتے ہیں اور وقت مقررہ پر پھر ابھر آتے ہیں۔ ان کی قدروقیمت کوئی کوئی ہی پہچانتا ہے ،بالکل ہمارے عام آدمی کی طرح۔ انہیں بھی کوہلو کے بیل ہی جانا اور مانا جاتا ہے۔ بادشاہت کی منزل پر رواں مسافر انہی قطب ستاروں سے اپنی منزل اور رخ کی پہچان کرتا ہے مگر افسوس منزل پر پہنچ کر اسے عام آدمی یاد ہی نہیں رہتا۔

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.