مسلمانوں کی جیت اور کفار کی پسپائی

1,553

عام معاشرتی لوازمات اور چند فلاسفرز کی تحقیقات کو اگر بغور کھنگالا جائےتو یہ محقق انسانی عقل اس نتیجہ پر پہنچانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ مذاہب کا دارومدار صرف اور صرف انسانی جذبات سے مطابقت رکھتا ہے ۔عقل کئی مذاہب کو تو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی کہ ان مذاہب کا تعلق روحانیت سے ہے بلکہ کئی محققین کی تحقیقات تو یہ بھی کہتی ہیں کہ دنیا کا وجود حادثاتی طور پر ہوا۔ اس میں کسی خالق کا کوئی عمل دخل نہیں رہا ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں ماضی بعید کے کئی مذاہب وقت کی تبدیلیوں کیساتھ انسانی عقل کے دلائل کے سامنے زیادہ دیر اپنی انفرادیت برقرار نہیں رکھ پائے اور گنتی کے شعوری اذہان نے ان مذاہب کی تردید کردی ، نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مذاہب قلیل دورانیے میں ہی ابدی موت مر گئے یااب ان میں سےچند ایک کی باقیات موجودہیں۔ یہ باقیات آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور موجودہ دور میں بھی کئی مذاہب شعور کے تقابلی مقابلے میں اپنی بقاء کی شدید جنگ لڑ رہے ہیں۔

یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں مذہبی پیروکار و رہنما اپنی جبکہ شعوری عناصر اپنی فتح کے لئے ایک مسلسل جدوجہد میں ہیں ۔یہ بھی ایک مستند حقیقت ہے کہ موجودہ دور تعلیم، ٹیکنالوجی اور معیشت کا دور ہے۔ آج کے دور میں تمام ممالک خواہ وہ معاشی طور پر ترقی یافتہ ہو ں یا ترقی پذیر، ان کے عوام معاشی طور پر مستحکم ہو ں نہ ہوں مگر شعوری طور پر بہت زیادہ متحرک ہیں۔ ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ہر چیز کی حقیقت بالکل تھوڑے سے وقت میں سامنے آجاتی ہے۔ لیکن دین اسلام پر اللہ رب العزت کا یہ کرم ہے کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اسلامی تعلیمات بالکل روز اول کی طرح بغیر کسی عقلی ، معاشی اور معاشرتی ترمیم کے قائم ودائم ہیں۔ کوئی شعور آج تک اسلام کی حقیقت میں ذرہ برابر بھی اونچ نیچ نہیں کر پایا۔ حالانکہ کفار، اسلام کی چودہ سو سال سے لیکر اب تک کی اور آئندہ پزیرائی سے خطرناک حد تک پریشان نظر آتے ہیں اور ہر وقت اسلام مخالف پراپیگنڈا میں مشغول رہتے ہیں مگرازل سے لیکر آج تک انہیں منہ کی ہی کھانی پڑی ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اسلام مکمل ضابط حیات ہے اور دنیاوآخرت کے تمام لوازمات کا قوی محاصرہ اپنے اصولوں میں سموئے ہوئے ہے۔

اسلام کی تعلیمات کا اثر جو ہزاروں سال پہلے لوگوں کی زندگیوں پر تھا وہ آج کے ترقی یافتہ دور میںبھی اسی طرح قائم ہے۔ واضح مثال اسکی ہالینڈ میں گستاخانہ خاکو ں پر امت مسلمہ کا ردعمل ہے۔ خاص کر پاکستان میں اس واقعے پر جو غم و غصہ کی لہرپیداہوئی ،وہ آج بھی اسلام کے سچے اور حقیقی ضابطوں اور مسلمانوں کی اپنے دین سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ آج کا دور معاشی دور کہلاتا ہے ،ایک ایسادور کہ جس میں کسی کے پاس کسی دوسرے،حتی کہ اپنے ماں باپ اور اولادتک کے لئے وقت میسرنہیں ہے۔ ایسے دور میں بھی رسول ؐ کی شان میں گستاخی پر پورا پاکستان سڑکوں پر نکل آیا۔تمام مسالک سے بالاتر ہوکرملک بھرکے بوڑھے، بچے اور جوان رسول الکریم ؐ کی محبت میں سرشار نظر آئے۔ ہالینڈ کے سفارت خانے کو بند کرنے کےکیساتھ ساتھ اس ملک کی تمام مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کا نعرہ بھی ہر پاکستانی، خاص و عام کی زبان پر تھا۔

یہ پاکستان کے عوام کا محمدﷺسے محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ ہالینڈ جیسی مملکت، جسے کفارکی طاقتوں کی سرپرستی حاصل تھی اسے مسلمانوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کام سے پیچھے ہٹنا پڑا ۔آج پاکستانی عوام نے ملکر یہ ثابت کر دیاہے کہ وطن عزیز حقیقی معنوں میں ایک ایسی تجربہ گاہ ہے کہ جہاں اسلامی اصولوں کو عملی جامعہ پہنایا جارہا ہے اورہم وہ خواب سچ کر رہے ہیں کہ جو ہمارے اجداد نے آج سے کئی سال پہلے اس مملکت کے حوالے سے دیکھا تھااور جس کے حصول کے لیے انہوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ آج پاکستان کی عوام نے کفار کے مقابلے میں ناموس رسالت ؐ کا دفاع کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم میں آج بھی چودہ سو سال پہلے والی محبت رسوﷺ موجودہے ۔ اورہمارے لئے ہرچیز سے بڑھ کرپیارے آقاؐ کی ذات ہے ۔

قاسم علی سیاسی و سماجی معاملات پر لکھنا پسند کرتے ہیں، شاعری سے بھی شغف ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.