! اک پریزائڈنگ آفیسر کی دکھ بھری کہانی

1,906

زندگی میں پہلی بارعام انتخابات سے متعلق ڈیوٹی ملی ، میں خوش تھی کہ ملک کے لیے میری خدمات حاصل کی جارہی ہیں اور میں اپنے کام سے ثابت کروں گی کہ الیکشن حکام کا انتخاب درست تھا اور مجھے سراہاجائے گا۔ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح 6 بجے ہی پولنگ اسٹیشن پہنچ گئی تاکہ ووٹرز کے آنے سے پہلے ہی ضروری کام نمٹا لیے جائیں ۔ ہمارا پولنگ اسٹیشن توچھوٹا تھا لیکن ذمہ داری بہت بڑی تھی۔ چار بوتھ قائم کیے گیے تھےجن کو مرد وخواتین میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پولنگ اسٹیشن پر فوج اور پولیس کا خاطر خواہ عملہ موجود تھا، اندر داخل ہونے سے پہلے ہرووٹر کی تلاشی لی جا رہی تھی۔

ابھی آٹھ بجنے میں کچھ وقت باقی تھا اور پولنگ کا عمل شروع نہیں ہوا تھا۔ پولنگ عملے کوتلاشی، شناختی کارڈ اور پولنگ ایجنٹ کے نامزدگی فارم دکھانے کے بعد اندر جانے اور بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔

میرے لیے پہلا موقع تھا کہ میں اپنی آنکھوں سے الیکشن ہوتے دیکھوں، نہ صرف جان سکوں کہ ووٹنگ کیاہوتی ہے بلکہ ان ووٹوں کے ذریعے کس طرح اس ملک کی تقدیر بدلی جاتی ہےاس کا بھی مشاہدہ کرسکوں۔ آٹھ بجتے ہی پولنگ کا عمل شروع ہوگیا۔

میرا فوکس خواتین پولنگ بوتھس پر اس لیے ہے کیونکہ میری ڈیوٹی وہیں لگائی گئی تھی ۔ ووٹر لسٹوں میں نام ڈھونڈنا ، مارک کرنا اور وہاں موجود عملے سے تعاون کرنا بھی اہم تھا ۔ الیکشن قوانین کے مطابق ہر حلقے میں خواتین کے کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا تناسب کل کاسٹ ہونے والےووٹوں کے دس فیصد کے برابر ہونا لازمی قراردیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ہمارے پولنگ اسٹیشن پر اختتامی وقت تک کم ازکم 1200 خواتین کا ووٹ ڈالنا ضروری تھا۔

سارا دن ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے آتے رہے ، دستخط ، مہر اور انمٹ سیاہی کے نشان غرض کہ ہر کام مکمل تندہی سے کیا جارہا تھا۔ ہمیں اتنا بھی وقت نہ مل سکا کہ تسلی سےکچھ کھا لیں یا کچھ دیر کا وقفہ ہی لے سکیں ، کیونکہ لوگوں کو ووٹ کے بارے میں آگہی دینا، ووٹ ڈالنے کا درست طریقہ کار کیا ہے اور پھر اس پر عملدرآمد اک کل وقتی کام تھاجسے پوری توجہ سے انجام دینا تھا۔ کئی بار ذہن میں خیال آیا کہ میرے تینوں بچے گھر میں روتے ہوں گے ،پتہ نہیں کھانا بھی کھایا یا نہیں؟ چھٹی کے دن تو ان کے ساتھ ہونا ہی چاہیے تھا ، پھر یہ سوچ کر تمام خیالات تر ک کردیتی کہ یہ ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے ، پوری قوم کے بچوں کا معاملہ ہے ، میری طرح سوچ کر اگر کوئی کام چھوڑ کر چلتا بنے یا ریسٹ کرنے لگے تو پولنگ اسٹیشن پر کام کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ ایسے کیسے چلے گا ؟

آرمی کے جوان، پولیس کا عملہ، لیڈی پولیس آفیسرز اور لیڈی ہیلتھ ورکر سبھی اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہے تھے، اور الیکشن کے دن کے خیر خیریت سے گزر جانے اور ملک کےلیے اچھے حکمران کے انتخاب کی دعاؤں میں بھی مصروف تھے۔

میں نے بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے الیکشن ڈیوٹی انجام دی اور اپناووٹ کاسٹ کرکے قومی فریضہ بھی ادا کیا ۔خوش قسمتی سے اسی پولنگ اسٹیشن کے اک بوتھ میں میرے ووٹ کا بھی اندراج تھا۔ خدا خدا کرکے شام کے چھ بجے تو پولنگ کا عمل ختم ہوا اور پولنگ اسٹیشن کے تمام دروازے کسی بھی آنے اور جانے والے کےلیے بند کر دیئے گئے۔ اس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوا۔ گنتی ہوتی رہی اور نتائج آتے رہے۔ تمام عملے نے نہایت جانفشانی اور ایمانداری سے یہ سارا عمل مکمل کیا اور ذرّہ برابر بھی دھاندلی ہوئی، نہ ہونے دی۔ووٹوں کی گنتی کے بعد بیلٹ پیپرز کو پیک کرنے اور انہیں سیل کرنے کی باری آئی۔پولنگ کے بعدکی کارروائی بھی نمٹاتے ہوئے رات کے10 بج گئے ۔

گھر پہنچی تو پتہ چلا کہ بچے رورو کر تھک ہار کرسوچکے تھے ۔اگلے دو دن جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا اور کہنے والے الیکشن عملے اور حکام پربے جاالزامات لگارہے تھے ، کہ پولنگ میں دھاندلی ہوئی ہے ، اک جماعت کو جتوانے کے لیے پیسے لیے گئے ہیں ، ٹھپے پہ ٹھپہ لگا ہے ، بیلٹ پیپرز چوری ہوئے ہیں ، ووٹ غلط کاسٹ کیے گئے ہیں ، مرحومین کے ووٹ بھی ڈال دئیے گئے ہیں ۔افسوس! ایسے الزامات کے ساتھ دھاندلی کے نام پر ہمارے کام اور عزت نفس پر انگلی اٹھائی گئی ۔

خدانخواستہ ایک دو اسٹیشن پر اگر ایسا ہوا بھی ہےتو اسے اپنے تئیں درست کیا جاتا، معاملہ نگراں حکومت یا الیکشن کمیشن دیکھتا، اس کا تماشا نہ لگتا۔مگر ہوا کیا جہاں پُرامن وشفاف طریقے سے پولنگ ہوئی وہ بھی رگڑے میں آگئے ۔ الیکشن ڈیوٹی پر تعینات اب ہر شخص کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ ہم نے اپنے دن ، خاندان اور فرائض کی قربانی دے کر الیکشن ڈے کو کامیاب بنایا۔ اور نتیجے میں ملا توالزام ۔۔!

ہماری اک جاننے والی اپنی الیکشن ڈیوٹی کی یہ کہانی سناتے ہوئے روہانسی ہو گئیں ، یقینا ًانہوں نے اپنا قیمتی وقت اور خدمات پیش کی ہیں ۔ ان کا دکھی ہونا تو بنتا ہے اور ان کی روداد سن کرمیں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ ہمارے معاشر ے میں کتنی آسانی سےکسی پربھی الزامات کی بارش کردی جاتی ہے، قطع نظر اس کےکہ انہوں نے ملک وقوم کے لیے کیا خدمات انجام دیں اورکتنی قربانیاں دی ہیں ۔اک محب وطن ، فرض شناس خاتون افسر نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور ان کی طرح کئی سو نے بھی اپنی خدمات پیش کی ہوں گی ۔ اس کے بعد الزامات سے ان کے دلوں ، دماغوں پر کیا گزرتی ہوگی، ذہن کتنا انتشار کا شکار ہوتا ہوگا۔اور شایدان سب باتوں والزامات کے بعد وہ اتنی دلبرداشتہ ہوجائیں کہ آئندہ انتخابات میں اس قومی فرض سے کنارہ کشی ہی اختیارکرلیں ۔

الیکشن گزرے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ، لیکن انتخابات میں دھاندلی کےالزامات کے زخم ہراک کے لیے ہرگزرتے دن کے ساتھ گہرے ہوتے جارہے ہیں ۔چاہے وہ عام شہری ہو، حکومت ہو یا اپوزیشن اور یا پھر کوئی بھی رہنما وسیاستدان۔۔

دھاندلی کے الزامات تواتر سے ہر الیکشن کے بعد لگتے رہے ہیں ،اور ان کی تحقیقات کے لیےکئی بارعدالتی کمیشن بھی بنائےگئےمگر تاحال ان سب اقدامات کاکوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔حالانکہ 2017 کی الیکشن اصلاحات میں تقریبا تمام ہی سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کے ان الزامات سے بچنے کے لیے انتخابی قوانین میں مختلف ترامیم بھی کی تھیں ۔جو کچھ یوں تھیں:

‘ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار اور پولنگ ایجنٹس شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنے کے پابند ہوں گے۔کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار نظریہ پاکستان اور قومی سالمیت کے خلاف خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا، جبکہ کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار مسلح افواج اور عدلیہ کے خلاف خیالات کا اظہار نہیں کرے گا۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار اور پولنگ ایجنٹس الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عمل کے پابند ہوں گے، جبکہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بدنام کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

جس کے بعد امید یہی کی جارہی تھی کہ 2018 کے عام انتخابات دھاندلی سے پاک ہوں گے،مگراپوزیشن جماعتوں کی جانب سےخود ہی دھاندلی کے الزامات کا طوفان مچایا جارہا ہے ۔

کتنی عجیب بات ہے انتخابات میں ہارنے والے ہوں یا فتح کا تاج سجانے والے سب ہی دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں ، کوئی بھی عوام کا فیصلہ سننے اور ماننے کوتیار ہی نہیں ۔

سوال یہ ہے کہ یہ دھاندلی ہوتی کیا ہے؟

جب لوگ چوری کرنے والوں، دھوکا دینے والوں کی اصلیت پہچان لیں تو کیا یہ ہوتی ہے دھاندلی ہوتی ہے؟

جب لوگ کہیں کہ اب ہم اور بے وقوف بننے کیلئے تیار نہیں،تب ہوتی ہے دھاندلی؟

جب عوام کہیں اب ہمیں اپنے مستقبل کو مزید تباہ نہیں ہونے دینا، تب ہوتی ہے دھاندلی؟

میرے خیال میں دھاندلی تو وہ ہے ، جب سی پیک کے نام پر ریلوےا سٹیشن صرف پنجاب میں بنائے جائیں۔ دھاندلی تب ہوتی ہے جب چین سے کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانے سستے داموں خریدے جاتے ہیں اورعوام کو دھیلے کا فائدہ نہیں ہوتا ۔دھاندلی کیا یہ نہیں کہ حکمران ٹیکسوں کا پیسا اس ملک کے اسپتالوں پر لگانے کے بجائے غیر ملکی دورے کرتے پھریں ، ملک میں اسکول ، کالج اسپتال بنانے اور اپنے بچوں کو وہاں پڑھانے کے بجائے بیرون ملک بھیجتے رہیں اور اپنے اہلخانہ کا علاج دوسرے ملکوں میں کرائیں ۔ سڑکیں بنانے کیلئے بھاری سود پر قرضے لئے جائیں۔ وہ قرضے جنہیں واپس کرتے کرتے نسلیں گزر جائیں۔ کیا یہ دھاندلی نہیں؟۔جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں اور اس کے ورثہ کا بار بار حکومت میں آنا دھاندلی نہیں ؟

آخر کب تک ہم الزامات کی سیاست کرتے رہیں گے؟ آخر کب ہم دنیا میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں گے؟ آخر کب دھاندلی کا عفریت ہمیشہ کی نیند سوئے گا اور عوام چین کی بانسری بجائیں گے؟

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.