کشمیر کمیٹی ۔۔۔ ایک شغل ِ مسلسل

1,328

وفاقِ پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کہلایا جانے والا خطہ اکتہر برس سے ٹرک کی بتی کے پیچھےکچھوے کی رفتار سے الہامی آئین و قانون پر چل رہا ہے ۔ اسے باقاعدہ طور پر ایک ریاست کا درجہ حاصل ہے ۔ صدرِ ریاست و وزیر اعظم سمیت کئی اہم محکمہ جات کے وزیر و مشیر بھی مقرر ہیں ۔ عہدے گننے بیٹھیں تو انگلیاں تھک اور دماغ اَک جاتا ہے ۔ مگر چل رہا ہے اور چلایا جا رہا ہے ۔

تقسیم کے بعد متنازعہ حیثیت اختیار کرجانے والےکشمیرکے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان دونوں نے کچھ عالمی قوانین کے مطابق اس خطہ کے مستقل حل تک اس کا نظام چلانے کے لئے ہلکی سے ہامی بھری تھی۔ دفاع ،امور خارجہ اور کرنسی جیسے معلامات ریاست کشمیر کے دونوں جانب ہندوستان اور پاکستان کے ذمے ہیں . یعنی مظفر آباد کو اسلام آباد اور سرینگر کو دہلی کا دلاسہ ہے تبھی یہ نظام چل رہا ہے، ورنہ ایک متنازعہ ریاست کا نقشہ دنیا کے سامنے کیا ہے ۔۔۔۔۔؟

پاکستان میں مسئلہ کشمیر کو سفارتی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس کا بنیادی مقصد مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے رائے عامہ ہموار کرنا اور کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا کو متوجہ کرنا تھا ۔ اس مقصد کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں میں وہاں کی حکومتی اور پارلیمانی شخصیات سے ملاقاتیں کرنا ، وہاں کشمیر پر اپنا موقف بیان کرنا اور تازہ ترین حقائق سے آگاہ کرنا تھا ۔ یہ ایسا کام ہے جو کہ اکہتر سالہ تاریخ میں دور دراز سے بھی نظر نہیں آیا مگر ایک کمیٹی بنام کشمیر کمیٹی کا چرچا رہا اور خوب رہا، مگرکاغذات اور چند اک بیٹھکوں کی حد تک ہی ۔ ماسوائے اس کے یہ کمیٹی انسانی حقوق کی پامالیوں سمیت متنازعہ ریاست کشمیر کے باسیوں کے روز مرہ جات اور انجان مستقبل پر کسی عالمی انسانی حقوق کے ادارے کی توجہ مبذول نہ کروا سکی۔

کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے معاملے میں مستقل تشویشناک بات یہ رہی کہ اس مسئلہ سے نا بلد افراد کو اس کمیٹی کی سربراہی دی جاتی رہی ۔ ہاں البتہ اک بار ایسا ضرور ہوا جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم کانفرنس کے صدر سردار عبد لقیوم خان کی قیادت میں قومی کشمیر کمیٹی کا قیا م عمل میں لایا گیا۔

کشمیر کمیٹی کی بنتی بگڑتی تاریخ کچھ یوں ہے کہ 1990 میں جب کشمیر میں تحریک آزادی زوروں پر تھی اس وقت نواب زادہ نصر اللہ خان کوکشمیر کمیٹی کی سربراہی دی گئی جو کہ 24 ارکان پرمشتمل تھی ۔ اس میں 21 ممبران ِقومی اسمبلی اور 3 سینیٹر شامل تھے اور یہ کمیٹی دسمبر 1993 سے نومبر 1996 تک رہی۔ دوسری کمیٹی 26 ممبران پر مشتمل تھی جو تمام کے تمام ممبرانِ قومی اسمبلی تھے جس کی سربراہی چوہدری محمد سرورخان مرحوم نے کی اور یہ کمیٹی مئی 1997 سے 1999 اکتوبر تک قائم رہی۔ تیسری کشمیر کمیٹی 2004 میں ممبر قومی اسمبلی چوہدری حامد ناصر چٹھہ کی سربراہی میں قائم کی گئی. اس کمیٹی میں 49 ممبران شامل تھے جن میں سے 36 ممبران قومی اسمبلی اور 13 سینیٹر شامل تھے اور یہ کمیٹی نومبر 2007 تک قائم رہی۔ اس کمیٹی کے 14 ممبران کابینہ کے وزیر بھی تھے.گزشتہ حکومت میں اس کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن تھے جو جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ بھی ہیں اور ان کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر تھا۔

مولانا فضل الرحمن کو میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں یہ کمیٹی سونپ دی گئی تھی۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے اس روایت کو برقرار رکھا۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی دو ہزار آٹھ اور دو ہزار تیرہ میں آنے والی حکومتوں میں بھی مولانا کا یہ اعزاز برقرار رہا ۔ اب کی بار دلچسپ یہ ہوا کہ عام انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں مولانا فضل الرحمان اپنے آبائی علاقے سے بھی کامیاب نہ ہو سکے نیز ان کے مقتدر حلقوں میں بھی ان کی جماعت کو اس قدر ووٹ نہ مل سکا کہ اپوزیشن میں ان کی کوئی صورتحال بنتی یا حکومت کے ساتھ معاملات طے پاتے۔ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ پچیس سال بعد مولانا فضل الرحمان کو قومی اسمبلی سے باہر بیٹھنا پڑ رہا ہے ۔

میری دانست کے مطابق اب کی بار بھی مولانا اگر اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب ہو جاتے تو اک بار پھر کشمیر کمیٹی ان کے ہی سپرد کی جاتی ۔ البتہ اس بار مختلف یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کراچی سے میدان مارنے والے اپنے رہنما عامر لیاقت حسین کو کشمیر کمیٹی کی سر پرستی دے دی ہے، جس پر اہل کشمیر سوشل میڈیا سمیت نجی محفلوں میں خوب آگ بگولہ ہیں۔ اب ایک بار پھریہ روایت برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر سے مکمل طور پر نا بلد اورغیر سنجیدہ آدمی کو اس کمیٹی کی سرپرستی دی جاے۔
کشمیر کے نام پر بننے والی یہ کمیٹی اپنی تاریخ میں مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھانے سمیت اس مسئلہ کی پیچیدگیوں کوسلجھانے میں مکمل ناکام رہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جہاں مسئلہ کشمیر پر قومی پالیسی کمزور ہے وہیں اس کمیٹی میں سفارتی تعلقات ومسئلہ کشمیر کی تاریخ سے نا بلد افراد کا شامل ہونا بھی ہے ۔

حد تو یہ ہے کہ اب کی بار اس کمیٹی کو جن صاحب کے سپرد کیا جا رہا ہے۔۔۔ ان کا اپنا خاصا وقت شغل مسلسل میں کٹتا ہے ،لہذاخدا ہی خیر کرے !

ایک نجی ٹیلی وژن مین بطور رپورٹر کام کر رہے ہیں
نمل یونیورسٹی اسلام آباد سےماس کیمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.