ستمبر کے وہ سترہ دن

1,843

ستمبر۶۵ء میں سترہ دن کی لڑائی میں پاک فوج کے جوانوں اور پوری قوم نے جس جرأت اور جانبازی کا مظاہرہ کیا،اس نے تما م دنیا کوحیرت میں ڈال دیا۔ جہاں مخالفوں پردھاک بیٹھی وہاں دوستوں کو ایک ایسی طمانیت حاصل ہوئی کہ وہ پاکستان کو دنیا کی بڑی طاقتوں کے مقابلے کی ریاست سمجھنے لگے۔ انہوں نے ہرمشکل میں پاکستان سے مدد کی آس لگا لی۔ اگر پاکستان میں جمہوریت کوچلنے دیا جاتا اوراسلامی ملک اس کی مالی مدد کرتے توایسا ہونا عجب نہ تھا۔ مگر سازشوں میں گرے پاکستان کو اپنوں اور غیروں نے ابھرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ پینسٹھ کی جنگ میں پاک فوج کے جوانوں کے کارناموں کی اہمیت یوں بھی بہت بڑھ جاتی ہے کہ دشمن کو جہاں اسلحہ اور عددی اعتبار سے کئی گنا برتری حاصل تھی ،وہیں اچانک حملہ کرنے کا ایڈوانٹیج بھی اس نے لے لیا تھا۔اچانک حملہ آدھی جیت کے برابر ہوتا ہے۔ مگر عشق کی وہ سر مستی اور سر شاری جو صرف پاک فوج کے جوانوں اور پاکستانی قوم کا حصہ تھی ،بھارتی فوج اوراس کے عوام اس سے محروم تھے۔ اگرمحاذ جنگ پرقوم کے بیٹے ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر دشمن سے لوہالینے کی فکرمیں تھے توبلڈ بینک کے سامنے قوم کے نوجوان ،بوڑھے اور بچے اپنے زخمی سپاہیوں کے لئے خون دینے کے لئے قطار اندر قطار کھڑے بے تابی سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ خون لینے والے ہاتھ اٹھا دیتے کہ بس اب اور نہیں مگر خون دینے والے کم نہیں ہو تےتھے۔

میں نے اہل لاہور کو دیکھا کہ کندھوں اورسرپر بھنے چنے ،بسکٹ،خشک میوے، خشک دودھ، چائے کی پتی اور کھانے پینے کا دوسرا سامان اٹھائے بارڈر کی طرف گاڑیوں میں اور پیدل ایک لمبی قطار میں بھاگے جا رہے ہیں۔ چھتوں پر چڑھ کر ہوائی جہازوں کی لڑائی دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت کے صدر ایوب نے اس حملے پردشمن کو ٹھیک ہی للکاراتھا کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ پاکستان میں متعین امریکی سفیر والٹر پی میکا نگی نے جب طنزیہ انداز میں پاکستانی صدر سے کہاکہ ”جناب ِصدر معلو م ہوتا ہے کہ ہندوستا ن نے آپ کے گلے کو دبوچ لیا ہے، اگر آ پ چاہیں توہم آپ کو اس دباؤ سے نجات دلا سکتے ہیں” تو ایوب خان نے بڑے سکون سے جواب دیا۔ ’’دیکھتے ہیں کس نے کس کے گلے کودبوچ رکھا ہے‘‘۔چند دن بعد میکانگی نے پھر ملاقات کی اور کہا’’ ایسا انتظام ہو سکتا ہے کہ ہندوستان مشرقی پاکستان میں جنگ نہ چھیڑے تو ایوب خان نے اس تجویز کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مسترد کر دیا۔

چشم فلک نے یہ نظارا بھی دیکھا کہ لاہور کے جم خانہ کلب میں ناشتہ کرنے کا پرو گرام بنانے والے الٹے پاؤں بھاگ رہے تھے اور ان کے لئے اپنی دھرتی بھی تنگ ہو رہی تھی۔لاہور کو گھنٹوں میں فتح کرنے کی بڑ ہانکنے والاانڈین آرمی چیف جنر ل جے این چودھری گھبراہٹ کے عالم میں اپنے کور کمانڈر کو حکم دے رہا تھا کہ قصور کھیم کرن سیکٹر کی جانب سے پاک فوج کے بڑھتے ہوئے دباؤکے پیش نظربھارتی فوج کوجنگی حکمت عملی کے تحت دریائے بیاس تک پیچھے ہٹا لیا جائے ۔ بھلے ہی امرتسر شہر پرپاک فوج کا قبضہ ہو جائے اور پاک فوج کی پیش قدمی روکنے کے لئے فیصلہ کن دفاعی لائن کے طور پر دریائے بیاس کواستعمال کیا جائے۔ اس وقت پاک وطن کے بیٹے ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کے لئے پر عزم تھے ۔ لاہورسیکٹر میں انڈین آرمی کی پندرہویں انفنٹری ڈویژ ن کا کمانڈر میجرجنرل نرنجن پرشاد باٹا پور سے اڑھائی میل شمال کی طرف بی آر بی سے ایک ہزار گز دور بھسین کے قریب اپنے ٹیکنیکل ہیڈ کوارٹر کی چار جیپیں جن میں اس کی اپنی جیپ بھی تھی چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور دوسرے ہی دن اس ڈویژن کی کمان جنرل مہندر سنگھ کو دے دی گئی تھی ۔ نرجن پرشاد جنگ کا نقشہ اور پلان بھی اپنی جیپ میں چھوڑ گیا تھاجو پاک آرمی کے کام آیا۔

دوسری طرف پاک فوج کے جگر داروں کایہ عالم تھا کہ میجر عزیز بھٹی کواس کے افسران بار بار پیغام بھیج رہے تھے کہ آپ کئی دن سے مسلسل محاذ پرجاگ رہے ہیں۔ واپس آکر کچھ آرام کر لیں، اس کے جواب میں قوم کے بہادر بیٹے کا جواب تھا کہ سر میں بالکل تازہ دم ہوں۔محاذ جنگ سے دور اور اپنی کمپنی سے الگ مجھے سکون نہیں ملے گا۔ یہ میجر عزیز بھٹی تھا جو بی آر بی کے کنارے بغیر کوئی آڑ لئے اونچے کنارے پر کھڑے ہو کر دشمن کی نقل و حرکت کا جائزہ لے کراپنے توپ خانے سے دشمن پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگوا رہا تھا۔ ہماری فضائیہ نے ابتدا ہی میں ہندوستانی فضائیہ کی کمرتوڑ دی تھی۔ سکواڈرن لیڈررفیقی ہندوستانی ہوائی اڈے ہلواڑہ پر کامیاب حملہ کر کے واپس آیا تووہ نئی اڑان کے لئے پھر تیار تھا۔ افسروں نے سمجھایا کہ ایک حملے کے بعد اعصاب کو سکون دینا لازم ہے، تو اس نے کہا کہ سرمیں بالکل چاک وچابندہوں۔میں رستہ دیکھ آیا ہوں،اس لئے اس مہم پرمجھی کو جانے دیجئے۔ کیا جذبہ تھاکہ جب سپاہی قوم کی خاطر جان لٹانے پر تلے ہوئے تھے اورقوم کا ہر فرداپنے سپاہی کی طرف آنے والی گولی اپنے سینے پر کھانا چاہتا تھا ۔

جنگ کے سترہ دنوں میں سمندر ،خشکی اور فضاؤں میں شاہینوں کا راج رہا۔ جنگ کے ان سترہ دنوں میں جنگی ترانوں کی گونج ،محاذ جنگ کی خبروں کا انتظار،لاہور کے محاذپر دھاڑتی رانی توپ کے چرچے اور ہر نئی خبر میں پاک فوج کی نئی کامیابی اور کارناموں کی خو ن گرما دینے والی خبروں نے ماحول میں کچھ ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ سچ پوچھوتوجنگ بندی کے بعد ماحول ایسا سونا سا لگنے لگاجیسے میلہ اجڑنے کے بعد کا گاؤں!. مہینوں جینے کا مزا ہی جیسے چلا گیا تھا۔

جس انداز میں فوج اور عوا م نے مل کر دلیری سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے اس نے مخالفوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے دھاک بٹھا دی۔ اس کے بعد بھارت نے میدا ن میں مقابلہ کے بجائے سازشوں کا راستہ اپنایا۔ وہ جان گیا کہ پاکستان سے کھلے میدان میں لڑنا سوا سو کا گھاٹا ہے۔ اسی لئے اس نے آمنے سامنے کا مقابلہ چھوڑ کراپنا پرانا ہتھیار گپت وارکا سہارا لیا۔ اس نے مشرقی پاکستان میں بغاوت کا بیج بوکر مشرقی بازو کو الگ کیا اور اب پھر وطن فروشوں کی تلاش میں ہے بلکہ ان کو ماہانہ اور سالانہ لگا رہا ہے۔ اے اہل وطن ہوشیار باش!

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.