تھپڑ 35 لاکھ میں مگر 14 خون معاف؟

1,856

پاکستان میں نظام کی خرابیوں پر اکثر بات کی جاتی ہے ۔ پاکستانی عوام اس نظام کے ظلم و ستم کی چکی میں ایسے پستے رہتے ہیں کہ جیسے کہ یہ ظالم نظام بنایا ہی ان کیلئے ہو ۔ عوام کے حقوق کی بات کرنے والی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے نام پر قانون میں ہمیشہ اپنے مفاد کیلئے ترامیم کی ۔ اس نظام میں ایک سپاہی کی پوسٹ کیلئے تو تعلیم کی شرط ہے ، مگر ملک چلانے کیلئے تعلیم کی کوئی قید نہیں ۔ اس لیے تو سیاستدان سر عام کہتے ہیں کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی۔ اس نظام میں کسی بھی سرکاری ملازمت کیلئے پولیس کی طرف سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ ضروری ہوتا ہےمگراسی نظام میں آپ دہشت گردی اورکرپشن جیسے سنگین جرم میں ملوث ہو نے کے باوجود جیل سے بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں ۔ اس ضمن میں سابقہ صدور اور وزراءاعظم کی تعداد دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے ان عہدوں کیلئے جیل کا سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔کیا یہی ہے اس نظام کا عدل ؟ ۔

روٹی، کپڑا اور مکان کے بعد انصاف ہی عوام کی سب بڑی ضرورت ہوتی ہے ۔ہمارے عوام جس کیلئے در بدر پھرتے ہیں وہ انصاف ہی تو ہے۔ غریب اور امیر کیلئے قانون کے دوہرے معیار پر ہمیشہ سوالیہ نشان اٹھتے رہے ہیں۔ ماڈل ایان علی کا تفتیشی افسر چوہدری اعجاز زمین کے نیچے قبر میں موجود ہے اور زمین کے اوپر ایان علی لشکارے مارتی پھر رہی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ہوں یا وزیر ریلوے سعد رفیق ہوں اس نظام عدل کی بدولت سٹے پر اپنا 5سالہ دورِ حکومت مکمل کر لیتے ہیں ۔ اس قانون کا اصل چہرہ تو اس ماں نے دکھا دیا تھا جس نے معزز جج کے سامنے بیٹے کے قتل کا مقدمہ واپس لیتے ہوئے یہ کہا کہ میں اتنا مہنگا اور کئی سالوں میں مکمل ہونےوالاکیس نہیں لڑ سکتی ، کیونکہ قاتل طاقتور لوگ ہیں ۔

تحریک انصاف کراچی کے ایم پی اے عمران شاہ کوایک شہری کو تھپڑ مارنے پر پارٹی کی طرف سے 5لاکھ کا جرمانہ کیا گیا ۔ اس شہری کے گھر جا کر معافی بھی مانگ لی گئی ۔ چیف جسٹس صاحب نےبھی اس واقعے کااز خود نوٹس لے کرمزید 30لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی۔مگر کیا چیف جسٹس کے پاس اتنا ہی فری ٹائم ہے کہ ملکی سطح کے اہم کیس چھوڑ کر ایک نجی کیس پر از خود نوٹس لے کر اپنی مصروفیات میں اضافہ کیا ؟ کیا چیف جسٹس نے اب تک لیے گئے سوموٹو ایکشن کے عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا یا پھر صرف ایکشن میں نظر آنے کیلئے ہی ایکشن لیے جا رہے ہیں؟۔ معزز چیف جسٹس ایک عام شہری کو تھپڑ کا انصاف دلانے کیلئے تو ایکشن لے رہے ہیں لیکن قصور کی معصوم زینب پر جو ایکشن لیتے ہوئے فوٹو سیشن ہوا تھا اس کا یاد ہے کہ اس کو انصاف ملا یا نہیں؟
حکومتی دہشت گردی کے واقعہ سانحہ ماڈل میں 14 شہیدوں کے خاندان چار سال سے انصاف کیلئے قانون کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں ۔مگر شہداءکی بیٹی بسمہ امجدکے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہوئے جو فوٹو سیشن ہوا تھا ، اس کی تصویریں فائل کی نظر ہو چکی ہیں ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دے کر کیس کو پہلے کی نسبت مزید تاخیر کے راستے میں ایسےڈال دیا جیسے عدالت نے 14خون معاف کر دیے ہوں!

محترم چیف جسٹس صاحب! صرف ایکشن لینے سے عوام کو انصاف نہیں ملے گا ۔مؤدبانہ گزارش ہے کہ اب تک لیے گئے سوموٹو ایکشن کی لسٹ بنا کر ان کا بھی ایک نوٹس لیں اور عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں ۔ ان سوموٹو ایکشن کے احکامات کو داخل دفتر کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں لائیں ۔معزز چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب ! کہیں یہ نہ ہو کہ آپ کے جانے کے بعدآپ کا نام بھی جنرل راحیل شریف، جسٹس افتخار چوہدری کی طرح عملی فیصلہ جات کی بجائے فوٹو سیشن کرانے والوں کی لسٹ میں شامل ہو ۔

صادق مصطفوی کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ روزگار کی وجہ سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Ali کہتے ہیں

    You are 100% right this case not very important

تبصرے بند ہیں.