صفائی کی اہمیت اور عوامی تربیت کی ضرورت

1,180

گئے سالوں میں بالعموم اور گزشتہ دس سال کی جمہوریت، جمہوریت کھیلنے کی تمام مدت میں بالخصوص عوامی فلاح و بہبود یا مسائل کے لئے بہت کم یا نہ ہونے کے برابر قانون سازی ہوئی ۔ مشرف دور حکومت میں اگرچہ ان کے پاس بہت کمزور اور متنازع حق حکمرانی تھا، ایک اچھا اور فائدہ مند بلدیاتی نظام متعارف کروایا گیا۔ پہلی بار لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل ،جیسا کہ صحت وصفائی ، تعمیر و ترقی اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی مخلصانہ کوشش کی گئی اور تمام تر خامیوں کے باوجود اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ۔ گلی محلے کی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہونا شروع ہوئےجبکہ جمہوریت کی نام لیوا دونوں روایتی بڑی سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آتےہی پہلی فرصت میں اچھے بھلے چلتے بلدیاتی نظام کو مزید بہتر اور بااختیار بنانے کی بجائے نیست ونابود کرنا مناسب سمجھا۔ کسی بھی ایشو پر کبھی متحد نہ ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن دونوں اس معاملے پر ایک دوسرے سے بغل گیر نظر آئیں۔مقصد اقتدار واختیار اپنے ہاتھوں میں مرکوز رکھنا تھا۔

پنجاب کےسابقہ وزیراعلیٰ کے بس میں ہوتا تو وہ کسی گٹر پر ڈھکنا رکھنے کی تقریب کا بھی خود افتتاح کرتے۔ کسی جگہ کوئی بیت الخلا تعمیر ہوا تو اس پر بھی موصوف کی مسکراتی ہوئی تصویر لوگوں کو ان کا یہ احسان عظیم یاد دلانے کے لئے ضرور آویزاں کی جاتی ۔موصوف نے جس جگہ کا دورہ کرنا ہوتا تھا صرف اسی سڑک کی صفائی اور مرمت پر ہی سارے شہر کی انتظامیہ تن من دھن سے مصروف ہو جاتی تھی تاکہ ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا نظر آئے ۔ ظاہر ہے اب ہر ایک گلی میں تو موصوف بنفس نفیس قدم رنجہ فرمانے سے معذور تھے سو اس لئے شہروں کی باقی گلیاں اور سڑکیں گندگی سے اٹی رہتی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت پر بادل نخواستہ بلدیاتی اداروں کے الیکشن تو کروا دیے گئے لیکن انہیں کبھی اختیارات نہی دیے گئے. بجائے اس کے کہ بلدیاتی اداروں کو با اختیار اور مضبوط بنایا جاتا ،کمپنیوں پر کمپنیاں کھڑی کی جاتی رہیں، مسائل بڑھتے چلے گئے اور وسائل منظور نظر لوگوں کی جیبوں میں سما تےچلے گئے ۔

اب یہ صورتحال ہے کہ گلیوں میں خالی شاپر اور پلاسٹک بیگز اڑتے پھر رہے ہوتے ہیں۔ ہر کوئی بلا تکلف اپنے گھر کا کوڑا گلی میں پھینک دیتا ہے۔ گلیوں میں گندا پانی کھڑا ہوتا ہے اور سڑکیں گڑھوں اور ریت مٹی سے اٹی پڑی ہیں.کھلے مین ہول یا پھر سڑک کے بیچوں بیچ ابھرے ہوئے گٹر عام ہیں اور جان لیوا حادثات کا باعث الگ ہیں ۔ بوسیدہ ،نامکمل اور بد رنگ عمارتیں، گلیوں اور سڑکوں پر بدنما کھمبے اور ان سے نکلتی لٹکتی اور الجھی ہوئی تاریں . جگہ جگہ کپڑوں اور پلاسٹک کے بوسیدہ بینر اور پوسٹر،دیواروں پر لکھائی اور تہ در تہ کاغذی اشتہارات سب مل کر ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہات کی وہ بھیانک اور بدنما تصویر پیش کر رہے ہیں جس کا تصور شاید پسماندہ ترین افریقی ممالک میں بھی نہ کیا جا سکتا ہو ۔

دراصل کسی بھی حکومت نے عام لوگوں میں صحت و صفائی کا شعور اجاگر کرنے کی چنداں کوشش نہیں کی۔ یہاں سڑک پر سر عام کھنکار کر تھوکنے، سڑکوں پر سیگریٹ کے بچے ہوئے ٹکڑے، جوس کے ڈبے ،پھلوں کے چھلکے پھینکنے اور کسی بھی دیوار کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے ، اپنا کوڑا گلی میں ڈالنے اور تعمیراتی سامان گلیوں میں ڈھیر کرنے کی کھلی آزادی ہے۔ نہ کبھی کوئی قانون بنا نہ ہی کبھی لوگوں کی تربیت کی ضرورت ہی محسوس کی گئی ۔ گندا رہنا اور گندے کپڑے پہننا ،سرراہ بننے والے مٹی اور جراثیموں سے آلودہ کھانے کھانا اور دھول مٹی اور جانوروں کی لید ملے اور مکھیوں سے آلودہ جوس پی جانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔

پوری دنیا میں صحت و صفائی کا علم اور آگاہی اب باقاعدہ سائنس کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ جاپان میں خاکروبی اور دیگر صفائی کے کام کرنے والوں کو ہیلتھ انجینئر کہا جاتا ہے.ہمارے ہاں گندگی صاف کرنے والے کو ‘چوہڑ’ا پکارا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل چوہڑے گندگی پھیلانے والے ہیں نہ کہ صفائی کرنے والے ۔

پوری دنیا میں کوڑے کی مختلف اقسام کو الگ الگ جمع کیا جاتا ہے اور ان کے لئے الگ الگ ڈبے رکھے جاتے ہیں۔ ان میں سے آرگینک یا نامیاتی کوڑا یعنی بچی ہوئی خوراک ،پھل، سبزیاں اور ان کے چھلکے وغیرہ الگ سے رکھے جاتے ہیں اور ان کو پراسیس کر کے کھاد میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ پلاسٹک، شیشہ، لکڑی اور کاغذ اور ان سے بنی ہوئی اشیا کو الگ الگ جمع کر کے ری سائیکل کر لیا جاتا ہے اور اسی طرح دھاتوں کو بھی الگ سے اکٹھا کر کے دوبارہ قابل استعمال بنا لیا جاتا ہے ۔یہی کوڑا ،جس میں نامیاتی کوڑا بھی شامل ہوتا ہے اگر الگ الگ نہ کیا جائے تو بیکٹیریا کے عمل سے اس سے زہریلی گیسیں پیدا ہوتی ہیں اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔

گندا پانی ہمارے لئے بہت بڑا مسئلہ ہو گا مگر ترقی یافتہ اقوام نے اسے بھی ایک نعمت میں بدل دیا ہے۔ ایسے پانی کو معمولی سا صاف کر کے سڑکوں ،پارکوں اور جنگلات میں سبزہ اگانے کے لئے کامیابی سے استعمال میں لایا جا رہا ہے ۔دبئی اور ابو ظہبی جیسی پانی کی کمی کی شکار اور بلند ترین درجہ حرارت کی حامل ریاستوں نے تو اس طریقہ کار کو استعمال کر کے اپنے ویرانوں کو سبزے میں بدل دیا ہے اور اپنے شہروں کے درجہ حرارت میں واضح کمی لے کر آئے ہیں ۔

بھارت کے لاکھوں لوگوں کے لئے کوڑے پر پڑے پلاسٹک بیگ اور پلاسٹک کی خالی بوتلیں روزگار کا بہت بڑا ذریعہ بن چکی ہیں ۔وہاں ان کو چھوٹی فیکٹریوں میں ری سائیکل کر کےدوبارہ سے قابل استعمال بنا لیا جاتا ہے

صرف تھوڑی سی توجہ مناسب قانون سازی اور لوگوں کی تعلیم وتربیت سے پورے ملک کو صاف اور خوبصورت بنایا جاسکتا ہے اور گلی محلے میں موجود کوڑے کے ان انباروں سے روزگار کے ہزاروں نئےمواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں ۔

ہمارے ہاں ملک کے خوبصورت سیاحتی مقامات بھی اب اندرون ملک کےسیاحوں کی یلغار سے تیزی سے آلودہ ہو رہے ہیں.اس میں عام لوگ اور حکومتی ادارے برابر کے قصور وار ہیں.عام لوگوں کی نہ ہی کبھی تربیت کی گئی نہ ہی مناسب قوانین بنائے گئے اور نہ ہی مناسب سہولیات دی گئی ہیں. اچھی خاصی مشہور جگہوں پر نہ ہی پبلک ٹوائلٹ ہیں اور نہ ہی مناسب تعداد میں کوڑے دان لگائے گئے ہیں جن میں شعور ہے بھی سہی تو وہ کوڑا کہاں ڈالیں ؟

باقی سب ممالک میں اتنے سخت قوانین موجود ہیں کہ آپ ان کے ساحل سمندر سے ریت اور کنکر تک نہیں اٹھا سکتے نہیں تو آپ کو بھاری جرمانے اور قید تک کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے. ان خوبصورت مقامات کو صاف اور اصلی حالت میں رکھنے کے لئے کوئی ذیادہ پیسہ درکار نہیں بس مناسب قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کی ضرورت ہے .

آج ہمارے شہروں محلوں کو صفائی ستھرائی کی ضرورت ہے،سبزے کی ضرورت ہے اور ایک طاقتور اور با اختیار بلدیاتی نظام، مناسب قانون سازی اور لوگوں میں صفائی سے متعلق شعور کو اجاگر کرنا وقت کی ضرورت بھی ہے اور عام لوگوں کا حق بھی. امید ہے نئے پاکستان میں عام لوگوں کے لئے بھی قانون سازی کی جائے گی تاکہ تبدیلی آئے تو سب کو محسوس بھی ہو.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.