تحریک انصاف کی سادگی پر سوالات اور حقیقت

4,403

موجودہ حکومت نےآغاز ہی سے سادگی، کفایت شعاری اور میرٹ کو اپنی بنیادی ترجیحات کے طور پر پیش کیا ہے تو لازم ہے کہ ان کی کارکردگی جانچنےکے لئے انہی عوامل کو بنیاد بنایا جائے ۔ مگر حکومت کے پہلے دس دنوں میں میرٹ اور سادگی کی حکومتی کوششوں کے حوالے سے کافی یک طرفہ رپورٹنگ دیکھنے کو ملی۔ بہت سے حقائق کو یا تو تروڑ مروڈ کر پیش کیا گیا یا اصل حقائق کو سامنے لانے میں کافی تاخیر کر دی گئی جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ حکومتی بیانات بس روایتی وعدوں سے زیادہ کچھ نہیں تھے۔

مثال کے طور پر چیف منسٹر پنجاب کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر کافی شور مچایا گیا ۔ اگر وہ تونسہ شریف سے ہیلی کاپٹر پر پنجاب، پاکپتن یا اسلام آباد جاتے ہیں تو یہ کوئی فضول خرچی ہرگز نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑے صوبے کے چیف منسٹر کی مجبوری ہے کیونکہ وہ روز پندرہ پندرہ گھنٹے کا سفر گاڑی پر کریں گے تو کام کا وقت کب ملے گا؟ چیف منسٹر یا ان کی فیملی چیف منسٹر ہاوس میں نہیں رہ رہی بلکہ ان کا قیام چیف منسٹر ہاوس کی انیکسی میں ہے۔ ان کی فیملی کے ساتھ چیف منسٹر ہاوس کے اندر کی ایک تصویر منظر عام پر آئی۔ یہ تصویر کب اور کیسے بنی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد ان کی فیملی کو سی ایم ہاوس کا ایک رسمی چکر لگوایا گیا،جس میں انہوں نےکچھ تصویریں بنوائیں اور اس کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے مگر اسے یہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی جیسے سی ایم کی فیملی وہیں قیام پزیر ہے۔

عمران خان کے آفس سے بنی گالہ جانے کے لئے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے۔ فواد چودھری کے اس دعوے کو اگر سنجیدہ نہ بھی لیا جائے کہ وزیر اعظم ہاوس سے بنی گالہ جانے تک کا ہیلی کاپٹر کا خرچ محض پانچ سو روپے ہے اور بی بی سی کے ماہرین کی اس رپورٹ کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ ایک چکر پر 5000-1200 روپے خرچ آتا ہے تو بھی یہ بالکل مہنگا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم سڑک کے ذریعے سیکیورٹی کی آٹھ گاڑیوں کے ہمراہ روٹ پر تیس کلومیٹر کا سفر کر کے جائیں گے، تو سیکیورٹی مسائل کے ساتھ ساتھ ان آٹھ گاڑیوں اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت دوسرے سٹاف کا خرچ بارہ ہزارسےتجاوز کر ہی جاتا ہے۔ وقت کا ضیاع اور عوام کو مشکلات کا الگ سے سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی طرح ریلوے کے کمرشل مینیجر اور پاکپتن کے ڈی پی او کے واقعات میں بھی اب جو حقائق سامنے آ رہے ہیں، ان کے مطابق ان دونوں واقعات میں بھی قصور ان افسران کا ہی نظر آرہا ہے، مگر دو دن تک یکطرفہ رپورٹنگ ہی ہوتی رہی ۔ یہاں تک کہ آئی جی پنجاب پولیس اور حکومتی موقف پر کان دھرنا کسی نے مناسب خیال نہ کیا۔ میاں چنوں کے ہسپتال میں وزیر اعلی کی آمد سے مرنے والی بچی کے متعلق خبر بھی بعد میں ویڈیو فوٹیج سامنے آمنے سے غلط ثابت ہو گئی۔ عثمان بزدار کی فیملی کے نجی طیارےمیں سفر پر بھی تنقید کی گئی حالانکہ وہ طیارہ انہوں نے ذاتی طور پر کرائے پر لیا تھا نہ کہ سرکار کے پیسے سے۔ جب بھی حکومتی سادگی کی بات ہوتی ہے تو اس سے مراد سرکاری خزانے کا خرچ ہوتا ہے ،ذاتی خرچ ہرگز نہیں۔

مگر کچھ تنقید ایسی بھی ہے جو بالکل بجا ہے۔ جیسا کہ سی ایم پنجاب کی مختلف شہروں میں آمد سے پہلے دوکانیں کیوں بند کرائی گئیں؟ وزیر اعلی کے ساتھ تیس گاڑیوں کا پروٹوکول کیوں ہوتا ہے؟ ان کی آمد سے پہلے راستے کیوں بند کر دیے جاتے ہیں؟ کوئٹہ میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کو تیس گاڑیوں کا پروٹوکول کیوں دیا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔ حلانکہ پاکستانی حکمرانوں کی روایت اس سے بھی زیادہ پروٹوکول کی رہی ہے مگر انہوں نے کبھی سادگی کا درس بھی نہیں دیا۔ جو حکومت سادگی کا درس دے گی ایسے سوالات بھی اس سے ہی پوچھے جائیں گے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ پروٹوکول بطور قوم ہماری نس نس میں رچ بس چکا ہے۔ اگر کوئی بڑے عہدے پر موجود شخص پروٹوکول لینے سے منع کر دے تو بھی بیوروکریسی سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے تحت اسے پروٹوکول دے ہی دیتی ہے۔ یہی کچھ وزیر اعظم بننے کے بعد ایک دو دفعہ عمران خان کے ساتھ بھی ہوا کہ جب وہ باہر نکلے تو چالیس گاڑیاں موجود تھیں۔ مگر اب سرزنش کے بعد ان کا پروٹوکول آٹھ گاڑیوں تک محدود کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب کے متعلق بھی خبر ہے کہ انہیں بھی مارکیٹ اور سڑکوں کے بند ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے انتظامیہ کی سرزنش کی ہے۔ اگر تو حکومت اس میں واقعی سیریس ہے تو یہ سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز اور پروٹوکول کلچر تبدیل کرنے میں دو تین ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔

Shahid Khan Baloch is a digital media journalist and a Ph.D scholar of Management Sciences in The Superior College, Lahore (Pakistan). Core areas of interest include Politics and Cricket.You may contact him here.

Twitter: @shahid7s25
Facebook: https://web.facebook.com/shaahidkhaanbaaloch
Email: shaaahidkhaan@gmail.com

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. مرزا بیگ کہتے ہیں

    ہم اف بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    اف اف سی ایم اپنے جہاز میں فیملی کی ساتھ بہٹھ گیا
    او بھئی ایسے چھوٹے موٹے جہز تو پھجے کے پائے منگوانے کے لئے ہوتے ہیں

تبصرے بند ہیں.