عمران خان وزیر اعظم کیوں اور کیسے بنے؟

3,021

جب خدا ایک کے حق میں، اور دوسرے کے خلاف فیصلہ فرما دیتا ہے تو پھر حالات کو بھی اپنے فیصلے کے مطابق پھیر دیتا ہے۔ الیکشن سے پہلے مخالفین نے عمران خان کو بدنام کرنے کیلئے ہر قسم کے حربے آزمائے۔ خود بھی اس کی کردار کشی کی اور لوگوں کو بھی اس مقصد کیلئے استعمال کیا یہاں تک کہ لگتا تھا اس کی پارٹی چند سیٹیں ہی جیت پائے گی اور حکومت کرنا اس کے مقدر میں کبھی نہیں ہو گا۔مگر پھر الیکشن کے دن دنیا نے دیکھا کہ پی ٹی آئی ، کے پی کے ساتھ مرکز میں بھی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ لیکن سادہ اکثریت کی بنا پر حکومت بنانا آسان نہیں تھا۔ پنجاب میں دوسری بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے وہاں حکومت بنانا تقریباً ناممکن نظر آرہا تھا۔ لگتا تھا ماضی میں مرکز میں بینظیر اور پنجاب میں نواز والی تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کو ہے اور عوام کے ہاتھ ایک بار پھر مایوسی ہی آئیگی۔

لیکن پھر یوں ہوا کہ چند چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کرکپتان نے نہ صرف مرکز کا مشکل محا ذ جیت لیا بلکہ پنجاب میں بھی ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ مرکز میں بظاہر متحد نظر آنیوالی اپوزیشن کی عقل پر ایسا پردہ پڑا کہ ان کے امیدوار کو متوقع ووٹ بھی نہ پڑ سکے اور خان آسانی سے وزیراعظم بن گیا۔ پنجاب میں عمران کے نامزد کردہ ایک نئے اور بظاہر کمزور امیدوار نے لمبے عرصے تک حکومت کرنیوالے خاندان کے متکبر فرزند کو چِت کر دیا۔

اب صدر پاکستان کا الیکشن قر یب ہے۔ گو کہ موجودہ سیٹ اَپ میں صدر کا عہدہ بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن مخالف پارٹی کا صدر ہونے کی صورت میں ملکی امور اپنی مرضی کے مطابق چلانے میں کچھ مشکلات ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف نمبر گیم پوری طرح پی ٹی آئی کے حق میں نہیں ہے لیکن یہاں ایک بار پھر قدرت عمران کے حق میں فیصلہ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد مل کر اپنا صدر بنانے کیلئے کافی پرامید تھا لیکن اس اہم موقع پر بھی اس میں پھوٹ پڑگئی اور وہ کسی متفقہ امید وارپر بھی متفق نہیں ہوسکا ۔ اب لگتا یہی ہے کہ وزیراعظم کی طرح صدر کے انتخاب میں بھی اپوزیشن اپنے باہمی اختلاف میں الجھی رہیگی اورعارف علوی کو صدارت کے عہدے تک پہنچنے سے روک نہیں پائے گی۔

اس صورت حال کا دوسرا اور زیادہ اہم رخ یہ ہے کہ قدرت نے اگر مشکل ترین حالات کے باوجود عمران کے اقتدار کی راہ ہموار کی ہے تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی بڑا مقصد ہو گا۔ وہ مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ اس ملک کے عوام نے ستر سال تک بہت دکھ سہہ لئے۔ پاکستان کو کرپٹ اور نااہل حکمرانوں نے اندرونی اور بیرونی طور پر بہت کمزور کر لیا۔ اب اسلام کے نام پر وجود میں آنیوالی یہ ریاست مزید غلطیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اسی لئے خدا نے اب پاکستان کی باگ ڈور اس شخص کے ہاتھ میں دی ہے جس نے دو دہائیوں سے زیادہ انتھک محنت کی اور ملک کو اس دگرگوں حالت سے نکالنے کا عزم لئے مسلسل ڈٹا رہا۔

اب یہ عمران کی ذمہ داری ہے کہ اللہ نے اس کو اس مظلوم عوام کی تقدیر بدلنے کا جو موقع دیا ہے وہ اس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئےمسلسل محنت اور ایمانداری سے خود بھی اپنے وعدے پورے کرنے کی پوری کوشش کرے۔ اپنی ٹیم پر بھی کڑی نظر رکھے تاکہ ہر عہدیدار اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے تب ہی پانچ سال بعد ستر سالوں میں مچا ئی گئی تباہی و بربادی کا کچھ ازالہ ہو سکے گا۔

اگر عمران اگلے پانچ سال لوگوں کے اعتماد پر پورا اترا تو اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت میں سرخرو کریگا اور عوام بھی اسے پہلے سے بڑھ کرسر آنکھوں پر بٹھائے گی ۔لیکن اگر اس نے ایسا نہ کیا اور گزشتہ حکمرانوں کے نقش قدم پر چل نکلا تو اس کا انجام نواز شریف سے بھی بدتر ہو گا۔

افتخار بشیر سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی شہری ہیں ۔ سماجی و سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اس بابت اکثر لکھتے رہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. مرزا بیگ کہتے ہیں

    واہ خان صاحب واہ
    جی ایچ کیو میں 8 گھنٹے کیا فیصلے ہو گئے
    امریکی سیکٹری دفاع اور آرمی چیف کی آمد سے پہلے ھوم ورک مکمل
    ‘چیرمین نیب سے ملاقات اور اہم گرفتاریوں پر ‘گو اھیڈ
    بیوروکریسی میں کلیدی عہدوں پر تبدیلیاں
    ڈچ کارٹون اشو پر کامیاب سفارتکاری
    برطانہ سے تبادلہ ملزمان اور شئیرڈ انفارمیشن میں اہم پیش رفت
    اور اپوزیشن و مخالف میڈیا۔۔۔
    ٹرک کی لال بتی کے پیجھے بت بنا رہ گیا…

    عمران خان کا حسب اختلاف کو دھوبی پاٹ
    سب کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگا کر خود نکل لئے
    اپوزیشن اور میڈیا ہیلی کاپٹر اور ڈی پی او ٹرانسفر جیسے غیر اہم اشوز میں پھنسا دیا اور موصوف نے تمام اہم اشوز میں میدان مار لیا

    حسب اختلاف الائنس – بھان متی کا کنبہ
    ضمیر فروش میڈیا کی حکومت مخالف صف بندی
    ہر شاخ پے الو بیٹھا ہے
    اپنے بھائ کی آنکھ کا تنکا بھی دیکھ لینا اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہ آنا والی مثال

تبصرے بند ہیں.