اڈیالہ میں نواز شریف سے زیادہ سکیورٹی کس کی؟

4,596

سابق وزیراعظم نواز شریف ان دنوں اڈیالہ جیل میں بند ہیں. یہ جیل تاریخ لحاظ سے بڑے بڑے سیاسی مجرمان کو اپنے اندر بند رکھنے کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔ جہاں سیاسی قیدی بند ہوتے ہیں ان کے ساتھ ایسے ہائی پروفائل کیسز میں سزایافتہ لوگ بھی موجود ہیں جن کی سکیورٹی سابق وزیراعظم سے بھی زیادہ سخت رکھی جاتی ہے. ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں اس وقت 1950 قیدی پابندِ سلاسل ہیں ۔ جن میں بعض پڑھے لکھے اورزیادہ جرائم پیشہ لوگ ہیں۔ جیل میں مختلف لٹریسی سینٹرز بنے ہوئے ہیں جن میں قیدی زیر تعلیم ہیں. مریم نواز اڈیالہ جیل میں وقت گزارنے کے لیے قیدی بچوں کو پڑھاتی ہیں جبکہ نواز شریف کو لائبریری ،انٹرنیٹ اور ٹی وی اور شاید پی ٹی سی ایل فون کی سہولیات بھی دی گئیں ہیں ۔

سابق وزیراعظم اپنازیادہ وقت کتابوں کے مطالعہ کرنے، قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور نماز پڑھنے میں گزارتے ہیں۔ صحت کا خیال رکھنے کے لیے ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں.کھانے پکانے کے لیے خصوصی خانصامابھی ملا ہوا ہے۔ سکیورٹی کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کا عملہ بھی تعینات ہوتا ہے.عدالت پیشی سے پہلے کپڑے استری کرنا،شیو بنانا جیسی اچھی سہولیات بھی میسر ہیں. جمعرات کا دن ملاقات کے لیے متعین کیا گیا ہے. ملاقاتی ایک ہفتہ پہلے اپنا نام جیل حکام کو لکھواتے ہیں جیل حکام ناموں کی لسٹ نوازشریف صاحب کو پیش کرتے ہیں اور نواز شریف اس لسٹ میں سے ناموں کو شارٹ لسٹ کرتے ہیں، پھر اگلی جمعرات ان لوگوں کو ملاقات کی اجازت ملتی ہے ۔ ملاقات کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جاتے تھے جن میں موبائل فون سگنل جیمرزکے علاوہ حساس اداروں اور پاک فوج کے جوان بڑی تعداد میں فرائض سرانجام دے رہے ہوتے تھے۔

یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں حساس اداروں اور پاک فوج کے جوان نواز شریف کی سکیورٹی پر تعینات نہیں کیے جاتےتھے بلکہ اڈیالہ میں موجود بڑے مجرموں کی فہرست میں ایک نام شکیل آفرید ی کا بھی شامل تھا جس کی سکیورٹی سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی زیادہ سخت رکھی جاتی تھی ۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کے اڈیا لہ جیل میں ملاقاتیوں کی آمدورفت کی وجہ سے شکیل آفریدی کو ساہیوال جیل منتقل کیا گیا ہے۔شکیل آفریدی کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ سے ساہیوال جیل پاک فوج کے سخت سکیورٹی حصارمیں منتقلی کی گئی. میرے نزدیک شکیل آفریدی کا قد کاٹ نواز شریف سے بہت چھوٹا ہے مگر جرم کی نوعیت نواز شریف سے بہت بڑی ہے. قد کاٹ کو دیکھتے ہوئے نواز شریف تمام سکیورٹی کے حقدار ہیں مگر شکیل آفریدی شائد امریکن نواز ہونے کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں کلبھوشن یادیو جیسا رویہ نہیں برتنا چاہیے ۔یہ اس سلوک کا مستحق ہے جس کا ملک سے غداری کرنے والا مجرم کا ہوتا ہے ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ وہ ابھی بھی سیاسی قیدی ہیں ان کے پروٹوکول کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے،کیونکہ اگرکلبھوشن یادیو دشمن فورس کا آرمڈپرسن ہونے کے ناطے پروٹوکول کا مستحق ہے تو نواز شریف بھی سیاسی قیدی ہونے کے ناطے پروٹرکول کے مستحق ہیں.مجھے خوشی ہے نواز شریف کی سکیورٹی کافی بہتر ہے مگر ان کے ساتھ برتے جانے والا رویہ ٹھیک نہیں وہ بھی ان کے شایان شان ہونا چاہیے کیونکہ سیاسی قیدی مرکر ہیرو اور آزاد ہوکر دوبارہ حکمران بن جاتے ہیں۔

مصنف ایک نجی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. عثمان کہتے ہیں

    تحریر پڑھ کر پتا چل گیا کہ اس کے راقم ایک پٹواری ہیں ، پھر ان کی فیس بک پروفائل سے تصدیق ہو گئی کہ موصوف خوشامد میں صالح ظافر سے مقابلہ کر رہے ہیں

  2. Kerry کہتے ہیں

    اکثر میڈیا پر دوران تبصرہ الفاظ کے انتخاب پر لے دے ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مبصر نا پسندیدہ یا سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شناخت کسی جاہل گنوار یا ایک بد تہذیب اور بد اخلاق کے طور پہ کر جاتا ہے۔ میرا مخاطب اس بلاگ کے لکھنے والا نہایت نا معقول شخص ہے۔ کس بنیاد پر تم نواز شریف جو کہ ایک چھٹا ہوا چور، غنڈہ اور وہ ڈاکو ہے جو اس ننگی بھوکی قوم اربوں کاروپیہ ثابت شدہ چوری کے نتیجے میں پابند سلاسل ہے، کو تم کمبخت سیاسی قیدی قرار رہے ہو۔ تم توحین عدالت کے جرم کا مرتکب ہو رہے ہو۔ تم جیسے بکاو نام نہاد صحافی صحافت کے ماتھے کا کلنگ ہو۔۔ اب میرے الفاظ کا انتخاب اگر سخت تو اسکا سبب اس قسم کا لغو اور بے بنیاد لکھاری ہے۔ میری اس لکھنے والے سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ۔ میں اپنے جان سے عزیز تر ملک کے غداروں کو رتی برابر رعایت دینے کا قائل نہیں۔۔

تبصرے بند ہیں.