تحریک ِ انصاف اور عوامی تحریک میں بڑھتی دوریاں

1,376

تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کاہم خیال جماعتوں کے طورپر ذکر کیا جاتاہے۔ ان دونوں جماعتوں کے نعرے اور منشوربھی کافی حد تک ایک جیسے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد جوقوم سے پہلا خطاب کیا وہ پاکستان عوامی تحریک کے منشور کی ہی عکاسی تھا،ایسے لگ رہا تھا جیسے اسی منشور کو پڑھ کر سنا رہے ہوں۔ مسلم لیگ ن نے جب2014ء میں ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی برطانیہ میں ملاقات کو” لندن پلان” کا نام دے کر میڈیا میں اچھالنا شروع کیا تو یہ مسلم لیگ ن کی سوچ کے الٹ ہو گیا اور عوام کی دلچسپی کا باعث بن گیا ۔ پھر دھرنوں اور جلسوں کی صورت میں عوام کو ان دونوں رہنماوں کو سننے کا موقع بھی ملا ۔ عمران خان کی بے پناہ مقبولیت اور ڈاکٹرطاہرالقادری کی تحقیقی اور مدلل سیاست سے اشرافیہ کی کرپشن سامنے آنے لگی اور یہ ہی عوام میں پہلی بار سیاسی رغبت پیدا کرنے میں اہم کردار ثابت ہوئے۔ ایک جیسے موقف پر ڈاکٹر طاہرالقادری نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کو سیاسی کزن بھی قرار دیا ۔

حکومتی دہشت گردی کی بدترین مثال سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بہت سی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی پہلے دن سے شہدا ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ پنجاب اسمبلی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی کردا رانا ثناء اللہ کو جواب دینے والے تحریک انصاف کے محمود الرشید ہی تھے۔ پبلک اجتماعات ہوں یا اسمبلی کا فلور ہر جگہ تحریک انصاف نے شہدا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی آوازکو بلند کیا اور متعلقہ اداروں سے جلد انصاف کی ڈیمانڈ کی۔ یہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ہی ہے جس کی وجہ سے مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک اور اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ احتجاج میں تحریک انصاف کی قیادت پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک ہی سٹیج پر بیٹھنے کو تیار ہو گئی تھی۔

گزشتہ 4 سال سے انصاف کی راہ دیکھتے شہداء کے خاندانوں سے اداروں کا تعاون نہ ہونے کی وجہ سے لاہور عدالت کے باہر احتجاج کے دوران چیف جسٹس پاکستان محترم ثاقب نثار نے گزرتے ہوئے بسمہ امجد سے وعدہ کیا کہ آپ کو انصاف ملے گا، پھر اس پر سوموٹو ایکشن لیا گیا، روزانہ کی بنیاد پر عدالتی کاروائی کا حکم بھی جاری کیا گیا۔ یہ سب میڈیا کی زینت تو بنا لیکن انصاف کی لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ بلکہ اس کیس سے متعلقہ ایک درخواست پر محفوظ فیصلہ سنانے سے بھی نہ جانے کس کے کہنے پر اور کیوں روک دیا گیا۔

الیکشن 2018ء میں تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں پاکستان عوامی تحریک نے بھر پور حصہ لیا ۔کئی حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی میں کلیدی کردار بھی عوامی تحریک کا رہا۔ حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف کو جہاں کئی اور چیلنجزکا سامنا ہے وہاں سب سے اہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس بھی ہے۔ اور یہ کیس ہی سیاسی کزن جماعتوں میں دوری کا سبب بنتا نظر آ رہا ہے۔ جس میں انصاف نہ ملنے کی صورت میں ملک میں ایک بار پھر احتجاج ہونے کا خدشہ ہے۔ قومی و صوبائی کابینہ کے بعد اب جب تحریک انصاف پنجاب کی بیوروکریسی میں تقرریاں کر رہی ہے تو اس لسٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نامزد ملزم بھی شامل ہیں ۔ جس پر عوامی تحریک نے ایک خط کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کواپنے تحفظات سے آگاہ بھی کیا ہے ۔ لیکن تحریک انصاف کی حکوت کی طرف سے ابھی تک عوامی تحریک کو اعتماد میں لینے کیلئے کوئی واضح بیان نہیں دیاگیا۔
تحریک انصاف کی حکومت کو سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے سانحہ ماڈل کے ملزموں سے قطع تعلق رکھتے ہوئے اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں حکومتی کرادر کو غیر جانبدار ہو کر ادا کرنا چاہیے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تحریک انصاف نے عوام کو جو ریاست مدینہ کے خواب دیکھائے ہیں ان کو پورا کرنے کی بجائے عوامی تحریک کے احتجاج اور دھرنوں کا سامنا کرنا پڑھے ۔ اور تحریک انصاف عوامی تحریک کے کارکنوں کی استقامت کو بہت اچھی طرح جانتی ہے۔30اور 31اگست2014 کی درمیانی رات توعمران خان کو یاد ہو گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.