گستاخانہ خاکے اور مغرب

1,450

گزشتہ شب عزیزم فرحان سے ملاقات ہوئی جو کہ(شدید قسم کے لبرل ہیں) عموماً ہم مذہبی ایشوز پر مکالمہ کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ہر بار مذہبی بحث کے اختتام پر انکا درجہ حرارت اس قدر بلند ہوتا ہے کہ تھرمامیٹر بھی ماپنے سے صاف انکار کر دے۔

وہ موبائل کی طرف نگاہ کرتے اور زور دار قہقہہ لگاتے، میں کافی دیر تک انہیں نظر انداز کرتا رہا، مگر جب تجسّس سے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو عاجز نے ان سے وجہ مسرت دریافت کرہی لی۔انہوں نے آفریدی والے انداز میں موبائل میری طرف اچھالا اور بولے ” یار دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم خاکوں سے ہی باہر نہیں نکلے”۔انکے یہ الفظ میرے کانوں پر نہایت گراں گزرے،مگر میں نے خود کو قابو میں رکھا اور شفقت سے پوچھا کہ ۔۔جناب یہ بتائیں کہ اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہوں اور کوئی اسکی عزت و آبرو پر حملہ کرنے کی جسارت کرے تو آپ کیا کریں گے؟وہ بولے کہ میں اسے پیار سے سمجھائوں گا، اس میں ہائپر ہونے والی کوئی بات نہیں، ہر بندے کا پوائنٹ آف ویو مختلف ہوتا ہے۔میں نے کہا اگر کوئی آپکے والد کو گالی دے تو؟وہ فوراً آگ بگولا ہوگئے اور کہنے لگےکہ کوئی مائی کا لال ایسا پیدا نہیں ہوا، میں اس کا سر پھاڑ دوں گا وغیرہ وغیرہ۔

جب انکا ٹمپریچر تھوڑا کم ہوا تو میں نے انکو بتایا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وسلّم)کی عزت و آبرو ہمارے والدین اور اس جہاں میں موجود ہر شے سے زیادہ ہے۔
سورہ توبہ کی آیت نمبر 24میں اللّٰہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں :
“کہ دیجئےاگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسولﷺ سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا”

اس آیت مبارکہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ رسولِ دو جہاں ( صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کی عزت و آبرو کی حفاظت کس قدر ضروری اور ہر مسلمان پر فرض ہے۔آیت مبارکہ سن کر فرحان خاموش ہوگئے۔
میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ویسے تو مغرب اور اسکے چاہنے والےہر وقت انسانیت کی رٹ لگائی رکھتے ہیں مگر اب انکی آنکھوں پر سیاہ پٹی کیوں بندھ گئی ہے؟کیا وہ نابینا ہوگئے ہیں؟انکو نظر نہیں آرہا کہ ہالینڈ میں ہونے والے مقابلے سے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں؟

مغرب میں گزشتہ کئی عشروں سے گستاخی تسلسل سے ہوتی آرہی ہے ،مگر مجال ہے کسی بھی لبرل یا انسانیت نواز نے اسکے خلاف آواز بلند کی ہو۔ اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ ان انسانیت کے علمبرداروں کا انسانیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں بلکہ انکا مقصد صرف و صرف اسلام و مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنا ہے۔

قومی اسمبلی میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور ہو گئی ہےاور شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے انکی حکومت سے اسکے خلاف ایکشن لینے کی درخواست بھی کی ہے۔ میرے خیال میں یہ کافی نہیں۔سنا ہے کہ عمران خان اقوام متحدہ کے اجلاس میں شمولیت کے لیے جا رہے ہیں،ایسا ہے تو خان صاحب کوچاہیے کہ لگے ہاتھ ساری دنیا کے سامنے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ مسئلہ اٹھائیں تاکہ ان انسانیت نوازوں کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو۔

یہ بات ہمارے لئے قابل افسوس ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود گستاخانہ خاکوں کے خلاف کوئی خاص احتجاج نہیں کیا گیا،سب کااحتجاج صرف فیسںبک تک محدود ہے!

اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے

ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد اپنا کاروبار کر رہا ہوں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.