اندر کا جانور قربانی کا منتظر ہے

1,403

بکرہ عید آئی اورگذر گئی… پتہ ہی نہیں چلا، مگر یقین جانیے اِن چھٹیوں میں تو حرام خوری کی عادت سی ہوگئی ہے۔ یہاں وہاں مٹر گشتیاں کر کے بدن درد سے ٹوٹ رہا ہے۔ گوشت کو دیکھ دیکھ کر اکتاہٹ سی ہورہی ہے، جی تو کر رہا ہے گوشت خوری چھوڑ کر ویجی ٹیرین ہوجاؤں۔ ایک وجہ یہ بھی ہےکہ ٹی وی پر گلی گلی دیکھی، اوپر سے قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اتنی کہ ٹی وی سے ہی گھن اور بدبو آرہی ہے، جو اب تک دماغ میں سما گئی ہے۔

بکرہ عید گذر گئی ہےاورسب نے قربانی کے جانوروں کو چھری تلے لٹا کر ذبح بھی کر دیاہے۔ ہر صاحبِ استطاعت نے استطاعت کا بھی اظہار کیا اور اپنا جانور قربان کیا۔ لیکن حرص، حسد، نفرت کے پلے ہوئےجانور اب بھی کسی تیز دھار آلے کے نیچے قربان ہونے کے منتظر ہیں۔ جنھیں شاید ہی کسی صاحبِ استطاعت نے قربان کیا ہوگا۔ لیکن کیا کریں، صاحب لوگوں کی سماعتوں کو اپنی ستائش میں من و عن وہ ہی الفاظ قبول کرنے کی خواہش ہوتی ہے جیسا وہ سوچتے ہیں۔ وہ اس طرح کی باتوں کو چیتھڑی باتیں سمجھ کر اہمیت نہیں بخشتے ۔ سَچ تو یہ ہے دماغ کی رگوں میں جب ایسے پیچیدہ سوال پیدا ہوتے ہیں، تو لوگ اِن سوالوں کو استعجاب اور تشکیکت کا سستا لباس پہنا کر ان کی اہمیت کو ختم کر دیتے ہیں۔

اونٹ سے لے کر بکرے تک کو ذبح کرنا آسان ہے، لیکن اپنے اندر کے جانور کو قربان کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔ اِس کے لیے تو قصائی بھی نہیں ملتا ہے اور خود ہی ذبح کرنا پڑتا ہے۔ جس کو مفادات کے پجاری انسان قربان ہی نہیں کرسکتے۔ اِس جانور کو ذبح کرنے کے لیےدرکار ہتھیار اور اوزار کسی منڈی میں دستیاب ہی نہیں ہوتے ، نہ ہی ایسے بندے موجود ہیں جو اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے خلاف استعمال کیے جاسکیں۔ لیکن ہر عام آدمی تو اِن جانوروں کو اپنے دِل کے باڑے میں پالتا اور اِس کی افزائش پر خوش ہوتا ہے۔ دراصل اپنے دِل کے باڑے میں پلنے والے جانوروں کو قربان کرنا ہی اصل قربانی ہے۔

المیہ ہے کہ یہ جانور گائے، بھینسوں، اونٹوں اور بکروں کی مانند معصوم، بے ضرر اور کمزور نہیں ہوتے جنہیں ایک ہی جھٹکے سے چشم زدن میں بوٹی بوٹی کیا جاسکے۔ حِرص، حَسد، لالچ، ہَوس کے چارے پر پلنے والے یہ جانور اِس قدر طاقتور ہوتے ہیں، جنہیں قربان کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ جانور برق رفتاری کے ساتھ انسان میں افزائش پارہے ہوتے ہیں۔ جنہیں قابو کرنا انسان کے بَس میں نہیں ہوتا۔ جس طرح آپ کو بخوبی عِلم ہوگا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے پسر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لیے اِن کے حُلقوم پر چُھری رواں کرنے ہی والے تھے، تو ربِ کائنات نے اِن کی جگہ تبدیل کر کے دُنبہ کردیا تھا۔ کیونکہ پروردگار ہر شے پر قادر مطلق ہےاور اس کا علم لامتناہی ہے، اس لیے اِسے علم تھا کہ آنے والے وقتوں میں ایک قوم آئے گی، جو ران اورچانپوں کے لیے لڑے گی ،بیٹے کیا قربان کرے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے اندر حِرص، حسد، لالچ، ہَوس کے پلنے والے جانور غرباء اور مساکین کے گوشت کو بھی ہضم کرجاتے ہیں۔ اچھا، صاف ستھرا گوشت ہم اپنے فریزر میں بھر لیتے ہیں اور محلے کی خالدہ، ذکیہ آنٹی کے لیے الگ سے رکھ دیتے ہیں۔ باقی بچا کچھا رشتہ داروں اور غریبوں میں تقسیم کے لیے مختص کر دیتے ہیں۔

یقین جانیےہر گذرتے دن کے ساتھ ہمارے اندر پلنے والے حرص،حَسد، لالچ اورہَوس کے جانور بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔ عید سردی میں آئے یا گرمی میں ڈیپ فریزر کے ریٹ ہمیشہ آسمان کی بلندی کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اِن کو معلوم ہے کہ ہماری قوم تو ذخیرہ اندوز قوم ہے، سارا گوشت اِن کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ پھر ہماری عوام سیاستدانوں پر طعن و تشنیع کرتی ہے کہ یہ ساری مُلکی لوٹی ہوئی دولت باہر ملکوں کے بینکوں میں رکھتے ہیں۔ ہم خود بھی لٹیرے ہیں ، بکرعید پرہمارے ہاتھ گوشت آتا ہے تو ہم دونوں ہاتھوں سے گوشت لوٹتے ہیں پھرکھا کھا کر بد ہضمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔پھر بچوں سے کہتے ہیں کہ بیٹا “سیون۔ اَپ (7up)میں دو کارمینا کی گولیاں ڈال کر پلا دو”۔ پھر اکثر یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز تشکیل دے دیئے گئے ہیں تاکہ ہیضے، دِل کے مریضوں کا بروقت علاج کیا جاسکے۔

میری عقل تو اِس امتیاز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ کونسا عمل بہتر ہے۔ اب جوں ہی عید گذری ہےتوپوری قوم بار بی کیو میں مشغول ہے۔ بار بی کیو کرنا سب کو آتا ہے، مگر بار بی کیو کا مخفف کسی کو نہیں معلوم ۔ رات بھر تیز آواز میں ہنی سنگھ کے گانے اور باربی کیو کی خوشبو میں گُم ہو کر اہل محلہ کی یکسوئی میں خلل ڈالنا ہی ہمارا کام رہ گیا ہے۔

اگر ہر صاحب استطاعت انسان ہر سال اپنے دِل کے باڑے میں پلنے والے جانور کو قربان کر دے، تو کافی حد تک تبدیلی آسکتی ہے۔ اور اِن تمام برائيوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہی وہ قربانی ہےجو خدا کو سب سے زیادہ عزیز ہے۔ اگر سنت ابراہیمی کا ذرا سوچیے تو روح کانپ جائے گی۔ لیکن افسوس اِس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں تو اِس عید کا مقصد محض گوشت خوری، بڑی خوشی اور پارٹیاں کرنے تک ہی محدوو ہو کر رہ گیا ہے۔ آئیے آج ایک عہد کرتے ہیں اوروہ یہ کہ آئندہ سال ہم اپنے اندر کا ایک جانور توضرور قربان کریں گے۔ آخرمیںمیری رب ذولجلال سےدعا ہےکہ اے میرے پروردگار! ہمیں ہر سال عیدِ قرباں پر اپنے اندر کا جانور قربان کرنے کی توفیق اور ہمت، طاقت عطا فرما، الہی آمین۔

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.