!امریکا بہادر اور ٹشو پیپر

1,951

ہم قِصہ پارینہ کا حال لکھتے ہیں۔ اسی واسطے ماضی کے جھروکوں میں جھانک جھانک دیکھتے ہیں کہ کہیں سے کوئی مماثلت نظر آئے تو اُسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے پیش کر دیا جائے۔ آج کوئی ایسا واقعہ ،کوئی ایسا قِصہ نظر نہیں آ رہا۔ سمجھ نہیں آرہی کہ کس موضوع پر مضموں جمائیں،کہاں جائیں۔

ٹشو پیپر۔ ہاں ٹشو پیپر

ہمارے وقتوں میں کپڑے کے رومال کا رواج تھا بلکہ اگر رومال ہاتھ یا جیب میں رکھا جاتاتھاتو یہ فیشن ہوتا تھا ۔جب یار دوستوں کی محفل جمتی تھی تو یہ رومال ایک انفرادیت بھی پیدا کر دیتا تھا ۔مگر آج ٹشو پیپر نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ایک مستقل چیز کی جگہ ضیاع مائل چیز ایجاد کر لی گئی کہ کون رومال کو دھونے اور پھر استری کر کے تہہ جمانے اور اُس پر پرفیوم چھڑکنے کے جھنجھٹ میں پڑے۔ ادھر استعمال کیا ادھر پھینک دیا اور حسب ضرورت نیا اٹھا لیا!

ٹشو پیپر کی خصوصیات نے ہمارا دماغ انسان کی طرف لگا دیا کہ بہت سی قسم کی انسانی شخصیات میں سے ایک ٹشو پیپر پرسنالٹی بھی تو ہے۔اسی ٹشو پیپر کے چکر نے ہمارا سر چکرا دیا اور ہم ٹشو پیپر پکڑ کے بیٹھ گئے کہ کیا پہلے ٹشو پیپر جیسے انسان بنے تھے یا ٹشو پیپر؟ ماہرین نفسیات اس شخصیت کی قسم سے نابلد ہیں۔ مگر ہماری تاریخ ایسے ٹشو پیپرز سے بھری پڑی ہے۔

ابھی کل ہی کی بات ہے اسامہ بن لادن امریکہ اور مغرب کی آنکھ کا تارا تھا ۔ تمام تر جہاد کی ذمہ داری اُس پر تھی۔ روسی افواج کا مقابلہ کرنے کے لئے ’’مجاہدین‘‘ کی تلاش سے لے کر اُن کی شہادت کے بعد دفنانے تک کا انتظام اسامہ کے ہاتھ تھا ۔مگر ٹشو پیپر استعمال ہو گیااور دوبارہ کسی کام کانہ رہا۔ روس پسپا ہوااور ٹوٹا۔ امریکہ کا بول بالا ہو ا اوررات گئی بات گئی۔

القاعدہ ایجاد ہوئی۔ اس کا نیٹ ورک (مسلمان ) خطرناک قرار دے کر اس کے پیچھے ملکوں کی فوج اور ایجنسیاں لگا دی گئیں اور اس کی آڑ میں دہشت گردی کو روکنے کے لئے افغانستان پر قبضہ کیا گیا۔ عراق پر چڑھائی کی گئی۔القاعدہ ایک نیا ٹشو پیپر بن کر سامنے آگئی، پھر یہ ٹشو پیپر بھی استعمال ہو گیا ۔ اسامہ پکڑا یا مارا گیا اور القاعدہ کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا۔پھر نیا ٹشو پیپر ڈبے سے نکالا گیا اور اس کا نام داعش یا آئی ایس آئی ایس رکھا گیا اور تہذیبوں کی جنگ کے غلط نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لئے اس کا فرضی نیٹ ورک ملکوں ملکوں تک پھیلا دیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کسی کا بیل بھی گم ہو گیا تو وہ بھی داعش کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ یہ نیا ٹشو پیپر بھی مسلمانوں کی سرکوبی کے لیا نکالا گیا۔ مشرق وسطی میں اسرائیلی جارحیت کو جائز قرار دینے اور سعودی عرب اور دوسرے ممالک سے اپنی من مانی کروانے کے لئے یہ ٹشو پیپر بہت کام دے رہا ہے۔

تاریخ ِعالم شاہد ہے کہ کاغذی شخصیت یا ٹشو پیپر ہر زمانے میں ہر جگہ استعمال کی جاتی رہی ہے۔امریکہ اس سلسلہ میں سب پر بازی لے گیا۔ جتنی کاغذی شخصیات اس نے تیار اور استعمال کی ہیں شاید برطانیہ نے بھی نہ استعمال کی ہوں۔ برطانیہ نے تو اپنی نو آبادیوں میں جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے کو اس حیثیت میں استعمال کیا مگر امریکہ کا معاملہ مختلف ہے۔ساری دنیا میں ٹشو پیپر پر سنالٹی کی ایک کھیپ تیار ہے۔ اور ہر وقت کہیں نہ کہیں کوئی ٹشو پیپر ردی کی ٹوکری میںپھینکا جا رہا ہوتا ہے۔

امریکہ بڑا سنگدل باس ہے۔ ٹشو پیپر کا استعمال کر کے ختم کر دیتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کودیکھ لیں۔ کبھی شخص اور کبھی ملک۔ صدر صدام حسین نے امریکہ کے زُعم میں کویت پر قبضہ کیا۔ ٹشو پیپر بنا اور چھپنے سے بھی نہ چھپ سکا۔ان ٹشو پیپرز کوکبھی غدار کہا گیا کہ یہ دشمن ملک کو مفاد پہنچاتا ہے۔ کبھی انہیں ایجنٹ کہا جاتا ہے۔ میر صادق اور میر جعفر اسی نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ اُردن کے شاہ حسین اور اس جیسے بہت سے شاہان کا نام اس زمرے میں لیا جاسکتا ہے۔ انعام کے لالچ میں اپنے ہم وطنوں کو غیر کے حوالے کرنے والے جیسے یوسف رمزی یا ایمل کانسی کو گرفتار کروانے والے بھی اسی نام کے تحت استعمال ہوئے۔ اب تو ٹشو پیپر اتنا عام ہو گیا ہے کہ اسے جیب میں رکھا جا رہا ہے اور جہاں جیسی ضرورت ہوتی ہے اسے استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔۔

؂ صدیوں سے موجود رہا ہے اور رہے گا۔
انسان کے اندر ایک قابلِ فروخت ضمیر۔

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.