عمران خان کی ٹیم کتنے پانی میں؟

8,093

عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ایک سوال جو شدومد کے ساتھ پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا عمران خان کےپاس وہ ٹیم ہے جو ان کے وعدوں اور ویژن کے مطابق ڈیلیور کر سکے؟؟؟

اعظم خان، اسد عمر، ناصر درانی، شعیب سڈل، شہرام ترکئی، عاطف خان، تیمور جھگڑا، ڈاکٹر یاسمین راشد، شفقت محمود، ڈاکٹر عبدالرزاق داود، ڈاکٹر عشرت حسین اور امین اسلم خان۔ یہ عمران خان کی اصل ٹیم ہے اور عمران خان کی بطور وزیراعظم ڈیلیوری کرنےکا سارا انحصار ان لوگوں پر ہے۔ یہ سمجھ لیجیئے کہ یہ 12 لوگ موجودہ حکومت کا دماغ یا تھنک ٹینک ہیں۔ ان کے ساتھ اگر آنے والے دنوں میں اداروں کے نئے تعینات ہونے والے سربراہان کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 35 کے قریب ہو جائے گی۔ باقی سب لوگ جیسے پرویز خٹک، محمود خان، عثمان بزدار، فواد چودھری، علیم خان، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی وغیرہ صرف فیس ہیں۔ پالیسی اور پریکٹیل ڈیلیوری میں ان لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

اعظم خان پچھلے پانچ سال چیف سیکرٹری کے پی کے رہے۔ چیف جسٹس نے جب پشاور کا دورہ کیا تو وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر اعظم خان جیسے 3،4 مزید بیوروکریٹ ملک کو مل جائیں تو پاکستان کی تقدیر سنور جائے۔ اب یہ عمران خان کے چیف سیکرٹری ہوں گے۔ چیف سیکرٹری اتنا اہم عہدہ ہے کہ اسے عملی طورپر نائب وزیر اعظم کہا جا سکتا ہے۔

ناصر درانی کی قابلیت پر کسے شک ہو سکتا ہے۔ کے پی کے پولیس کلچر میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سہرا اسی شخص کے سر ہے۔ اب انہیں پنجاب پولیس کو بہتر کرنے کا ٹاسک ملا ہے ۔ شعیب سڈل کریمنالوجی خاص کر وائٹ کالر کرائم ،جیساکہ منی لانڈرنگ وغیرہ کے ماہر ہیں۔ انہیں بیرون ملک موجود چوری شدہ پیسہ واپس لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

شہرام ترکئی اور عاطف خان 2013 میں بالکل نئے چہرے تھے مگر ان دونوں نے ہیلتھ اور تعلیم کا مکمل نظام ہی بدل ڈالا اور وہ بھی صرف پانچ سالوں میں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عاطف خان اس دفعہ اپنی کارکردگی کے زور پر پختون خواہ کے وزیر اعلی کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ یہ دونوں کے پی حکومت کے ساتھ انہی دونوں شعبوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کریں گے۔

تیمور خان جھگڑا 100دنوں کے پلان کے مرکزی دماغوں میں شامل ہیں۔ عمران خان کی تاریخی تقریر کی تیاری میں بھی تیمور جھگڑا نے بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ کے پی کے حکومت کے مرکزی مشیر کا کردار ادا کریں گے۔بلین ٹری سونامی کے شاہکار منصوبے کے ماسٹر مائنڈ امین اسلم خان اب پورے ملک میں 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ انشااللہ وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔

عمران خان کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے اور انڈسٹری گروتھ کی پالیسی سازی کی ذمہ داری ڈاکٹر عبدالرزاق داؤد کو سونپی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ ذمہ داری ملنے سے پہلے ڈیسکون کے سی ای او تھے اور ڈیسکون کی ناقابل یقین گروتھ میں ان کے دماغ کا بڑا مرکزی کردار رہا ہے۔

شفقت محمود پاکستانی سیاست کے واحد ایسے فرد ہیں جنہیں وسیع بیوروکریٹک تجربہ حاصل ہے۔ تعلیمی پالیسی خاص کر تعلیمی انفراسٹرکچر اور مینیجمنٹ کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہے اور اس بات کے بھی کافی امکانات ہیں کہ ایچ ای سی کے بانی ڈاکٹر عطالرحمن بھی انہیں جلد ہی جوائن کر لیں گے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد بایو ٹیکنالوجی کے شعبے میںپاکستان کی دوسری بڑی سائنسدان تسلیم کی جاتی ہیں۔ وہ پنجاب گورنمنٹ میں وزیر صحت کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔

ڈاکٹر عشرت حسین اداروں میں ریفارمز کمیٹی کے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اداروں میں اصلاحات ہیں کیونکہ اگر ادارے ٹھیک ہو جائیں گے تو حکومت کا کردار بہت محدود ہو جائے گا۔

اسد عمر اس پورے تھنک ٹینک کو لیڈ کریں گے۔ اسد عمر پہلے ہی پی ٹی آئی کا دماغ تصور کئے جاتے ہیں۔ اب انہیں باقی 11 دماغوں کے درمیان ایک بہترین رابطہ استوار کرنا ہو گا تاکہ ٹیم ورک کے زریعے مسائل حل کیے جا سکیں۔ نتائج حاصل کرنے کے لئے عمران خان کی ٹیم کو ہمیں کم از کم 3 سال کا وقت ضرور دینا ہو گا۔

Shahid Khan Baloch is a digital media journalist and a Ph.D scholar of Management Sciences in The Superior College, Lahore (Pakistan). Core areas of interest include Politics and Cricket.You may contact him here.

Twitter: @shahid7s25
Facebook: https://web.facebook.com/shaahidkhaanbaaloch
Email: shaaahidkhaan@gmail.com

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.