!پاک بھارت دوستی کےخواہاں۔ کلدیپ نئیرکو جتنا میں جانتا ہوں

1,347

ہندوستان کے نامور صحافی اور دانشور کلدیپ نئیر ۹۵ سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ ان سے میری پہلی ملاقات دسمبر ۱۹۵۹ میں دلی میں حکومت ہند کے پریس انفارمیشن بیورومیں ہوئی تھی جب وہ لال بہادر شاستری کے انفارمیشن افسر تھے ۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ میں پاکستانی صحافی ہوں تو مینار کی طرح قدآور کلدیپ نئیر نے مجھے گلے لگا لیا۔ کہنے لگے تم سے مل کر سیالکوٹ یاد آگیا جہاں میں پیدا ہوا تھا ، وہی سیالکوٹ جو اقبال کا شہر تھا اور فیض صاحب کا بھی اسی شہر سے تعلق ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں نم تھیں ۔ کہنے لگے کہ میں تقسیم کے وقت چوبیس برس کا تھا ، میں نے اس عمر میں مذہب کے نام پر اتنا خون بہتے اور غارت گری دیکھی ہے کہ میں جب ۱۳ ستمبر ۱۹۴۷ کو سرحد پار کر کے ہندوستان پہنچا تو میں نے عہد کیا کہ ہم ہندوستان کو ایسا ملک بنائیں گے جس میں مذہب اور ذات پات کے اختلافات کی وجہ سے کسی کی جان نہیں جائے گی۔

اس عہد کی پاسداری کے لئے وہ ساری عمر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات اور عوام کے مابین دوستی کے لئے جد و جہد کرتے رہے ۔ ۲۰۰۰ کے بعد سے وہ ہر سال امن کے کارکنوں کے ساتھ موم بتیاں لے کر ہندوستان اور پاکستان کی سرحد اٹاری، واہگہ پر جاتے تھے تاکہ بھٹکی ہوئی دوستی کی راہ روشن کی جائے ۔ انہوں نے ہندوستان کی جیلوں میں قید پاکستانیوں اور پاکستان کی جیلوں میں ہندوستانی قیدیوں کی رہائی میں نمایاں کام انجام دیاتھا۔ ہندوستان میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف نفرت اور ظلم کے خلاف انہوں نے آواز بلند کی اور اس کے لئے وہ ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔

مئی ۱۹۶۴ میں جواہر لعل نہرو کے انتقال سے چند ماہ قبل انہوں نے نئی خبر رساں ایجنسی UNIمیں شمولیت اختیار کی تھی ۔ نہرو کے جانشین کے انتخاب سے قبل جب کہ کسی کا نام سامنے نہیں آیا تھا ، کلدیپ نئیر کی اس خبر نے زبردست تہلکہ مچا دیا تھا کہ مرار جی دیسائی نے جانشین کے امیدوار کی حیثیت سے اپنا ہیٹ میدان میں ڈال دیا ہے ۔ اس خبر کے بعد مرارجی دیسائی کے انتخاب کے جو بھی امکانات تھے وہ معدوم ہوگئے کیونکہ کانگریس کے اراکین کی اکثریت نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ ابھی پورا ملک نہرو کے انتقال پر سوگ میں ہے اور مرار جی دیسائی نے اپنی امیدواری کا اعلان کر کے اقتدار کے لئے بے تابی کا اظہار کیا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس کے اراکین کی اکثریت نے لال بہادر شاستری کے حق میں فیصلہ کیا۔

بیشتر صحافیوں کی راے تھی کہ کلدیپ نئیر نے بڑی چابک دستی سے اپنے پرانے باس لال بہادر شاستری کو وزیر اعظم بنایا ہے ۔ کلدیپ نئیر نے اردو خبار انجام سے صحافت کا سفر شروع کیا تھا ۔جب بھی میں ان سے PIBکے دفتر میں ملتا تھا ان کی میز پر اردو اخبارات نمایاں نظر آتے تھے۔اسی زمانہ میں روزنامہ جنگ نے کلر پرنٹنگ شروع کی تھی ۔ میں نے جب انہیں جنگ کا با تصویر شمارہ دکھایا تو اچھل پڑے اورکہنے لگے کہ پاکستان میں اردو اخبارات نے واقعی زبردست ترقی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے اردو اخبار میں کام شروع کیا تھا تو اس وقت کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اردو اخبار یوں رنگوں میں شائع ہوگا۔

اردو صحافت سے آغاز کرنے والے کلدیپ نئیر انگریزی کے ممتاز اخبار اسٹیسمین کے ایڈیٹر کے منصب تک پہنچے اور کچھ عرصہ انڈین ایکسپریس کے بھی مدیر کے عہدہ پر فائزرہے۔
1975میں اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے دوران کلدیپ نئیر پہلے صحافی تھے جو ایمرجنسی کی مخالفت اور اخبارات کی آزادی میں آواز اٹھانے پر گرفتار کئے گئے تھے۔ان دنوں وہ بیساکھی پر تھے اور اسی بیساکھی کے سہارے وہ تہاڑ جیل گئے۔UNIاور اس کے بعد اپنے منفرد کالموں میں انہوں نے کئی تہلکہ خیز خبروں کے ذریعہ اپنا نام پیدا کیا۔ ان میں ایک پاکستان کے جوہری بم کے بارے میں انکشاف تھا۔ 1987کے یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی تھی اور ہندوستان نے BRASSTACKSکے نام سے فوجی مشقوں کی آڑ میں بھاری تعداد میں فوجیں راجھستان میں پاکستان کی سرحد پر جمع کر دی تھیں۔

اس دوران کلدیپ نئیر پاکستان آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے جوہری بم کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر خان سے انٹرویو کیا، جس میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے یورینیم افزودہ کرنے کے بعد جوہری بم تیار کر لیا ہے ، جو ہندوستان کے حملہ کی صورت میں پاکستان کے دفاع کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا تھا کہ امریکہ کو اس کا علم ہے اور سی آئی اے کا یہ کہنا صحیح ہے کہ پاکستان کے پاس جوہری بم ہے۔ اس انکشاف کے بعد ہندوستان نے اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد سے واپس بلا لیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہوگئی۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ کلدیپ نئیر کے اس انٹرویو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا اہتمام روزنامہ مسلم کے اس زمانہ کے ایڈیٹر مشاہد حسین سید نے کیا تھا ۔آبزرور میں اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد پاکستان میں ہنگامہ برپا ہوگیا تھااور یہ سوال کیا جارہا تھا کہ کلدیپ نئیر کو یہ سہولت کس نے فراہم کی؟ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشاہد حسین سید کو ایڈیٹری سے استعفی دینا پڑا۔بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ فوج کی خفیہ ایجنسی نے اس انٹرویو کا اہتمام کیا تھا تاکہ ہندوستان کو خبردار کیا جائے کہ واقعی پاکستان کے پاس جوہری بم ہے اور اس بارے میں قیاس آرائیوں کی تصدیق کی جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشاہد حسین سید کے استعفی کا مقصدیہ ثابت کرنا تھا کہ اس انٹرویو کے پیچھے فوج کی خفیہ ایجنسی کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ بہر حال جو بھی ہو یہ اس انٹرویو کا اثر ہوا کہ ہندوستان نے اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد سے واپس بلالیں اور دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہوگئی۔

1971میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد کلدیپ نئیر پاکستان آئے تھے۔ ان سے کراچی میں ملاقات ہوئی ۔ ان کو اس پر سخت حیرت تھی کہ پاکستان ٹوٹ گیا اور اتنا بڑا سانحہ ہوگیالیکن پاکستان میں سنجیدگی سے اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی کہ اس سانحہ کے کیا اسباب تھے اور اس کے کیا مضمرات ہیں۔
1990میں کلدیپ نئیر ہندوستان کے ہائی کمشنر کے عہدہ پر لندن آئے تھے۔ یہاں جب بھی ان سے ملاقات ہوئی وہ اس عہدہ پر زیادہ خوش نظر نہیں آئے۔ کہتے تھے کہ میں بنیادی طور صحافی ہوں ۔ میں کہاں سفارتی بھول بھلیوں میں گم ہوگیا ہوں ۔ ویسے بھی وہ زیادہ عرصہ لندن میں ہائی کمشنرکے عہدہ پر نہیں رہے اور بہت جلد انہوں نے کالم نگاری دوبارہ سنبھال لی۔

کلدیپ نئیر کے کالموں اور ان سے ملاقاتوں میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے دل میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کی خواہش کا ہر لمحہ فروزاں ایک شعلہ تھا۔ انہوں نے اپنی جوانی میں مذہب کے نام پر جو قتل و غارت گری دیکھی تھی اور اس کے خاتمہ کے لئے انہوں نے اکہتر سال قبل جو عہد کیا تھا اسکو پورا کرنے کے لئے ساری عمر انہوں نے جدو جہد کی لیکن حالات نے ان کا ساتھ نہیں دیا یہاںتک کہ کلدیپ نئیر یہ شعلہ اپنے سینہ میں جلائے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.