پیر چناسی ۔ ایک خیالی پیر کا فرضی مزار

4,194

بلندی آزادی کا احساس جگاتی ہے۔ جسم لطیف ہو جاتا ہے۔ کسی کے ہونے کا جتنا شدید احساس بلند جگہوں پر ہوتا ہے کہیں اور نہیں ہوتا۔ اسی لیے پیروں، فقیروں، صوفیوں، سنتوں اور ولیوں نے زیادہ تر چلہ گاہوں کے لیے پہاڑی چوٹیوں کو پسند کیا ہے جن میں سے ایک پیر چناسی ہے۔

پیر چناسی مظفر آباد سے 27 کلومیٹر کی مسلسل بلندی پر ہے۔ سڑک اچھی حالت میں ہے لیکن ازدھے کی طرح بل کھاتی سڑک اور جگہ جگہ لینڈ سلائڈنگ نے اسے خوفناک بنا دیا ہے۔

pir1

11 اگست 2018 کو جاوید الحسن جاوید کے شعری مجموعے ”ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کی تقریب پذیرائی میں ڈاکٹرعابد سیال، حسن ظہیر راجہ، فرحان راجہ اور راقم مظفر آباد آئے تو اگلے دن ہمارے ایک مشترک مہربان فرہاد احمد فگار ہمیں پیر چناسی لے گئے۔

مظفر آباد سے چناسی تک چوٹیاں سبز پوشاک پہنے ہوئے ہیں۔ انہیں زیادہ تر یہی رنگ پسند ہے۔ سردیوں میں یہ چوٹیاں جب سفید شال اوڑھتی ہیں تو انہیں دیکھنے کے لیے آنے والے دل یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن ساون کا کچا سبزہ، نم ہوائیں اور گنگناتی فضائیں تو دل کے ساتھ جان بھی نکالنے پر تلی بیٹھی ہیں۔

ہم جیسے جیسے بلند ہوتے چلے جاتے ہیں بادل آ، آ کر ہم سے لپٹتے اور کرشن چندر کی یاد دلاتے ہیں ۔کشمیر میں گھٹا نسوانی آنکھ کی طرح برستی ہے۔ برف کے گالے سفید گلاب کی پتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ لوگ دھنک میں سات رنگ دیکھتے ہیں میں نے کشمیر میں اتنے رنگ دیکھے ہیں کہ میرے دو جنموں کے لیے کافی ہیں۔

چناسی ٹاپ سے کچھ پہلے سراں ہے۔ یہاں ایک ریسٹ ہاؤس اور ییراگلائیڈرز پوائنٹ ہے۔ سراں تا ائیر پورٹ ہوا کے دوش پر تیرتے شوخ و شنگ پیراشوٹس مظفر آباد کی فضاؤں کو رنگین بناتے ہیں۔

آخر کار ہم نے پیرچناسی کو جا لیا لیکن منزل پر پہنچ کر سفر کی سرشاری نے اچانک دم توڑ دیا۔ ریپر، شاپر، بوتلیں، کچرا، لید اور بدبو۔۔۔کٹی پھٹی زمین، بے ترتیب تعمیرات، ایک پولیس ریسٹ ہاؤس، ائیر فورس کا احاطہ، ایک رہائشی کمرہ اور ایک مزار۔

peer chanasi

پیر چناسی میں ایک چھوٹی سی بازاری ہے۔ جہاں سستی اشیا مہنگے داموں ملتی ہیں۔ جگہ جگہ جنگلی جڑی بوٹیاں اور خوشبودار”نیر”کے پتے بک رہے ہیں۔ سنتے ہیں کہ اس کی دھونی سے نظرِ بد کافور ہو جاتی ہے۔ ہم نے اسے سونگھا تو طبیعت پھر سے سرشار ہو گئی۔

پیر چناسی ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں زمین آسمان سے ملتی ہے۔ ساڑھے نو ہزار فٹ کی بلندی پر انسان اپنے پر پسارنے لگتا ہے، ہوائیں اٹکھیلیاں کرتی ہیں اور بادل جسم و جاں سے آ کر ٹکراتے ہیں۔

اگر آپ تاروں میں رات گزارنا چاہتے ہیں تو اپنا ٹینٹ، چمچہ، کڑچھہ اور دیگچہ ساتھ لائیں۔ کیوں کہ یہاں صرف ملنگوں کے لیے رہائش میسر ہے۔ رختِ سفر میں ٹوتھ برش ضرور باندھیں کہ یہاں مسواک کے لیے پیڑ تو درکنار جھاڑی بھی نہیں ملتی۔

جانے چناسی کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ چناسی سے دھیان نورجہان کے چنار سے ہوتا ہوا سوہنی کے چناب میں تیرنے لگتا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ اس سے مراد “چن”کی آمد یا آس ہے۔ چناسی سے ملتے جلتے ناموں میں سوراسی، بٹراسی اور الیاسی ہیں جو مری، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں ہیں۔

لفظ پیر کا کشمیر سے پرانا تعلق ہے۔ اسی لیے اکثر چوٹیوں کے ناموں کے ساتھ لفظ پیر لگا ہوا ہے۔ جیسے نیزہ پیر، سوہارا پیر، جسہ پیر، تولی پیر، حاجی پیر، پنچ پیر ۔۔۔ پیر بڈھیسر اور پیر چناسی وغیرہ۔ ٹریول ان مغل ایمپائر میں برنئیر اور ارضیاتِ جموں کشمیر میں فریڈرک ڈریو نے لکھا ہے کہ کشمیر میں لفظ پیر پاس یا درے کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔

مزار کے باہر پمنفلٹس رکھے اور بینرز لگے ہوئے ہیں کہ ستمبر 2018 کے دوسرے ہفتے میں شہنشاہء کوہسار حضرت سید سخی امام نور حسینی المعروف پیر سید شاہ حسین بخاری، پیر چناسی شریف کا 375 واں سالانہ عرس ہے۔ جس میں غسل روضہ مبارک سے لے کر سیرت النبی کانفرنس کا شیڈول دیا گیا ہے۔

چناسی کی فضاؤں میں سیاہ و سرخ علم اور سبز جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ نارسائوں کی مرادوں کی دھجیاں جگہ جگہ بندھی ہوئی ہیں۔ مزار کے احاطے کے ہر پتھر پر رنگ پھیردیا گیا ہے۔ گنبد کی بالائی سطح پر گہرے رنگوں نے مزار کو جاذب نظر بنا دیا ہے۔ اندر سے مزار کی تزئین و آرائش بڑے اہتمام سے کی گئی ہے۔ دیواروں پر شیشے کے کام کی نفاست اور رنگینی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ایک عالی شان گنبد کے نیچے قبر ہے۔ لوحِ مزار موجود نہیں ہے۔ عوام مناجات میں مصروف ہیں۔ عقیدت اپنا ماتھا ٹیکے ہوئے ہے۔ سر والٹر آر لارنس (ویلی آف کشمیر-1895) کے مطابق ویلی میں پیر پرستی عام ہے۔ پیر ہر مرض کا مداوا ہے۔ یہ عام لوگ کے مال پر پلتا ہے۔ مردہ پیر زندہ پیر سے زیادہ بااختیار سمجھا جاتا ہے۔ تکریم کے تمام در مزار سے کھلتے ہیں۔ لوگ مزار کی گرد چہرے اور گلے پر ملتے ہیں۔

38996247_1947987355265060_5205708428147687424_n

مزار کے اندر ایک بورڈ پر حضرت آدم سے لے کر پیر چناسی تک حق پرستی کا طویل احوال درج ہے۔ بیان کی طوالت اور بے ربطی نے صاحبِ مزار کو پراسرار بنا دیا ہے۔ ہم اس ست رنگی قلمی کاوش میں حق تلاش کرتے رہ گئے اور معمّہ کے حل کے لیے سجادہ نشین سید افتخار حسین شاہ بخاری سے رجوع کیا۔

٭۔۔۔ یہ مزار کب بنا؟
سجادہ نشین ۔ ڈیڑھ سو سال پہلے۔ بابا شیر شاہ بخاری کراچی نے بنوایا تھا۔ پہلے کچی قبر تھی۔ پھر چار دیواری کھینچی گئی۔ پہلے عام سا مزار تھا اب باقاعدہ تعمیر ہوئی ہے۔

٭۔۔۔ جگہ جگہ تین سو پچھترواں عرس لکھا ہے جب کہ آپ کے بقول مزار بنے ڈیڑھ سو سال ہوا ہے؟
سجادہ نشین ۔ اصل میں سرکار تین سو پچھتر سال پہلے آئے تھے لیکن آپ کا ظہور ڈیڑھ سو سال پہلے ہوا تھا۔

٭۔۔۔ ظہور۔۔۔۔۔۔۔۔!!! کیا مطلب؟
سجادہ نشین ۔ ایک چوھدری کی بھینسیں یہاں بیٹھ گئیں۔ ان میں ایک سنڈا بھی تھا۔ یہ سات دن بیٹھی رہی۔ چوھدری کو خواب میں آیا کہ شیر شاہ سے کہو کہ یہ سنڈا ذبح کرے تو یہ بھینسیں اٹھ جائیں گی۔ ایسا ہی ہوا۔

٭۔۔۔ اندر جو تاریخ لکھی ہوئی ہے اس میں ایسی کوئی بات درج نہیں ہے؟
سجادہ نشین ۔ ہاں۔۔۔! لیکن تاریخِ اولیا، تاریخ کشمیر اور بے شمار کتابوں میں ان کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ ایک بدھ سیاح تسانگ جو دو دریاؤں کے سنگم سے براستہ پیر چناسی سری نگر گیا نے اپنے سفر نامے میں سرکار کا پورا تذکرہ کیا ہے اور اس نے سرکار کا نام سخی امام نور حسینی اچ بلوٹ المعروف شاہ حسین بخاری لکھا ہے۔

٭۔۔۔ ہیون تسانگ ایک ہزار تین سو ستاسی سال پہلے مظفرآباد سے گزرا تھا جب کہ پیر چناسی کا یہ تین سو پچھترواں عرس ہے؟
سجادہ نشین ۔ اصل میں زلزلے سے میری یادداشت چلی گئی تھی۔ اب مجھے ٹھیک سے کچھ یاد نہیں ہے۔

کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تحریری تاریخ موجود ہے۔ کلھن سے فوق تک کشمیر کو درجنوں ایسے سیاح، مورخ اور محقق ملے جنہوں نے کشمیر کی تاریخ کو افسانہ بننے نہیں دیا۔ انہی میں سے ایک سٹین تھا۔ جس نے دی اینشینٹ جیوگرافی آف کشمیر میں لکھا ہے کہ تقریباً تمام کشمیری دروں میں پتھروں کے ڈھیر ملتے ہیں جو خیالی پیروں کی فرضی قبروں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ کوئی سیدھا سادا مسلمان جب یہاں سے گزرتا ہے تو ایک آدھ پتھر کا اضافہ کر دیتا ہے۔ شاید ایسا ہی کوئی معاملہ یہاں تھا جسے ہماری چشم پوشی نے شہنشاہء کوہسار بنا دیا ہے۔

یومِ آزادی کے حوالے سے پیر چناسی میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم اور جھنڈیاں لہرا رہی ہیں۔ مزار کے اندر عقیدت ملی وقار، ملکی سلامتی اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہے اور باہر کچھ آشفتہ سر شعور کی اس ستیاناسی پر ہاتھ مل رہے ہیں۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.