ٹرمپ اور عمران خان … جڑواں؟

3,990

اس نفسانفسی کے دور میں کسی کوکوئی کام آئے یا نہ آئے، لیکن اپنی ذات کی اور اپنے کام کی تشہیر کرنا ضرور آنی چاہیے اور کام بھی ایسا جو کبھی کیا نہیں یا کبھی کرنا ہی نہیں ۔۔ کام ، بات یا لہجے میں دم ہویا نہ ہو لیکن چربا اور چرچا کرنا آنا چاہیے ۔(بولے تو بول بچن)

آج کل کے دور میں خود کوئی بڑا تب ہی ہوسکتا ہے جب وہ کسی بڑے کی بڑھکیاں بتائیں یا بڑے کے سامنے اپنا بڑا پن ثابت کرے یا پھر بڑے کو دہی بڑا بنا دے۔ یا پھر بڑے کے بڑے شعار کے بڑے بڑے پل باندھے دے۔

آپ نے یقیناًفلم جڑواں اور اس کا سیکوئیل جڑواں ٹو دیکھ رکھی ہوں گی ، دونوں کی کہانی ایک جیسی ہے ، دونوں میں سلمان خان کامن ( مشترک )ہیں ، یعنی اپنی فلم جڑواں کے سیکوئیل میں سلمان خان نے بھی انٹری دی ہے ۔ خان صاحب ہوں اور فلم ہٹ نہ ہو؟ایساکم کم ہی ممکن ہے ۔ بالی وڈ میں تو خانز کی دھوم ہے ۔ ایک خان ہمارے پاس بھی ہیں ، جن کی دھوم پڑوسی ملکوں کے ساتھ دنیا کے سب ہی ممالک میں مچی ہوئی ہے ۔ اور اس کی وجہ ان کانام ، کام اور پہچان ہے ۔

امریکا کے ایک مزاحیہ پروگرام میں پاکستانی خان صاحب کا ذکرجڑواں (ٹوئنز)سیگمنٹ میں ہوا ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور 92 کا ورلڈ کپ جتوانےوالےماہر کھلاڑی ، پاکستان کےوزیراعظم ‘عمران خان کی تضحیک کرنے والے کامیڈین کو تنقید کا سامنا ہے ، تاہم عمران خان کے مخالفین اب بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں فخر محسوس کرر ہے ہیں ۔

امریکی کامیڈین ٹریور نوح کا ماننا ہے کہ عمران خان ۔۔ پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں اوراس کا ثبوت دینے کے لیے ٹریور نے کئی مثالوں کے ساتھ جوڑتوڑ کیا۔ٹریور کے الفاظ کچھ یوں تھے:

عمران خان خوش شکل اور پلے بوائے کی طرح زندگی گزارتے رہے ہیں ،آخر ایسا کیا ہے کہ خواتین ان کی خوابگاہ میں آنا چاہتی ہیں۔ جس کے بعد عمران خان کے پرتعیش بیڈ روم کو دکھایا جاتا ہے جس کے سائیڈ ٹیبل کے ساتھ ایک بیٹ پڑا ہوتا ہے۔اس پر میزبان مذاق میں کہتا ہے کہ اب مجھے یہ بتائیں کہ کیا یہ پاکستانی ٹرمپ ٹاور نہیں ہے؟

سیدھی بات ہے صاحب ۔۔کمروں کی زیبائش وآرائش تو ہر امیر شخص کرتا ہے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کوئی بھی کسی ملک کے منتخب وزیراعظم کے بارے میں غلط بات کہے ۔ٹرمپ سے ملا کر یا کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرکےان کی تحقیر نہ کی جائے ،عمران خان کی قیادت میں عنقریب پاکستان ایک خوشحال ، ترقی یافتہ شاندار ملک ہوگا۔

ٹوئنز سیگمنٹ میں عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کچھ چیزوں کا تقابلی جائزہ لے کر خوب مذاق بنانے کی کوشش کی گئی ۔ٹریور نے کہا کہ ماضی میں جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے برگر کے اشتہار میں کام کیا تھا، اسی طرح عمران خان نے کوکا کولا کے لیے کام کیا تھا۔پھر مزید کلپز دکھائے گئے جن میں عمران خان کو حکومت چلانے میں ناتجربہ کار، قوم پرست، عوامیت پسند، تضاد بیان قرار دیا گیا۔جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگے، اسی طرح عمران خان پر بھی ایسے ہی کئی الزامات لگائےگئے۔ٹریور نوح کاکہناتھا کہ جس طرح امریکی صدر نے تین شادیاں کیں، اسی طرح عمران خان نے بھی تین شادیاں کیں۔اس دوران پروگرام میں چلنے والی ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی سابقہ و موجودہ زوجین کی تصاویر بھی چلتی رہیں ۔

انتخابی مہم کا موازنہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی جہاز اور عمران خان کا ہیلی کاپٹر بھی دکھایا گیا۔

ٹریور نوح کہتے ہیں کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ عمران خان براؤن ٹرمپ ہیں،بلکہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمران خان دنیا کے ان کئی رہنماؤں میں شامل ہیں جنھوں نے امریکا میں جاری اس کامیاب شو سے سبق لیا ہے جس شو کو ٹریور نے’ ٹرمپ کی صدارت’ کا نام دیا۔نوح آخر میں اپنے دیکھنے والوں کو بتاتے ہیں کہ اگر وہ ٹرمپ سے بچ کر پاکستان جانا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوں کہ وہاں بھی ایک ٹرمپ موجود ہے۔

جناب! تویہ تھا ٹریور نوح کا پبلسٹی اسٹنٹ ،جس میں کہاں کی کڑی کہا ں ملائی گئی۔ اب دونوں طرف سےٹریور کو مل رہی ہے جگ ہنسائی ، پر انہیں فرق اس لیے نہیں پڑتا ک بد نام ہوئے تو کیا نام تو ہوا۔

عمران خان ، تحریک انصاف اور بالخصوص پاکستان سے لگاؤ رکھنے والوں نے ان کی بڑی کلاس لی ۔ٹوئٹر صارفہ سبین نے لکھا،’ نوح یہ بتانا بھول گئے کہ عمران خان ملک میں سرطان کے علاج کے لیے اسپتال تعمیر کراوا چکے ہیں’

جناب ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ نے کوئی مثبت کام اپنے ملک کے لیے کیا ہی نہ ہوجس کاتذکرہ یا موازنہ کیا جاسکے۔کچھ لوگوں کی آنکھوں کےسامنے سے زمینی حقائق اور توقعات کےدرمیان حائل پردہ بھی ہٹ گیا،

حاجرہ خان نے لکھا نوح کی فین ہونے کے ناطے مجھے بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے۔ عمران خان کے بارے میں سب کچھ بغیر تحقیق کے پیش کیا گیا ۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہوں کہ اس شو میں تحقیق کیسے کی جاتی ہے ‘

صحافی کیونکہ غیر جانبدار ہوتے ہیں اس لیے دامن بچاتے ہوئےناپسندیدہ کا بھی پردہ رکھ جاتے ہیں ۔حامد میر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،’ ٹریور نوح نے عمران خان کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن دراصل انہوں نے اپنے مقبول شو کے ذریعے پاکستان کے نئے وزیر اعظم کو دنیا بھر میں متعارف کرا دیا ہے’

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے شو کو مزے کا سچ کہتے ہوئے کہا کہ ‘یہ قابل ذکر حد تک تشویش کی بات ہے کہ نوح شو میں پاکستان کے نئے ٹرمپ کے بارے میں خوفناک پہلو کے بارے میں بتانا بھول گئے کہ وہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کا دفاع کرتے ہیں’

دنیا میں اچھے برے سب طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ہر طرح کی بات کی جاتی ہے مگرصرف اچھےلوگو ں اور اچھی باتوں کو یاد رکھیں ۔ جو دوسروں کی تضحیک کرکے اپنی روزی کمارہے ہیں ان کو نظر انداز کردیں۔ ٹریوربھی ایک مزاح نگار ہیں جن کا پیشہ ہی دوسروں کا مذاق اُڑانا ہے، لہٰذا اس پروگرام کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے ۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ، اچھے کاموں کو سراہنا وہ بھی سیاسی دشمنوں کو۔۔ باشعور عوام اور صحت مند ذہنوں کی نشانی ہے ،عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے، کل یہ بلی کسی پر بھی آسکتی ہے ۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    جن خواتین و حضرات نے جناب عمرا خان کا مزاق اڑانے کے ساتھ ساتھ انکی ٹرپ جیسے بہ ہر لحاظ ایک گلوبل پست شخصئیت سے موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کم نگہی ، علمی پستی اور عمران دشمنی کا برملا اظہار کیا ہے۔ آواز ے سگان کم نہ کند رزق ے گداں را ۔۔۔سگ کا کام ہی بھونکنا ہے کون بھلا اسے یہ جبلی عادت چھڑوا سکتا ہے۔۔۔ اسکے کے علاوہ کہوں گا کہ۔۔۔یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مزاق اڑاتے ہیں آدمی کا۔۔۔

تبصرے بند ہیں.