ایک تحریر آزادی کے نام

734

دن آتا ہے آزادی کا آزادی مگر نہیں آتی ۔ ۔ ۔ ۔ مملکت خداداد کو دنیا کے نقشے پر ابھرے اکہتر برس ہو چلے ۔ لیکن ان اکہتر برسوں سے قبل انیس سو سینتالیس کو یہ دن یونہی نہیں آیا تھا ۔ کئی خاندان کٹے تھے، آدھی آدھی ٹرینیں جلا دی گئی تھیں ، خوں آلود کلھاڑے چلتے دکھائی دیےتھے اورمشرق سے مغرب اک ہی وطن کے باسیوں نے ہجرت کی تھی ۔ کئی مائیں یہاں نہ آسکیں اورکئی وہاں پہنچ نہ سکیں ۔ ان گنت لڑکیوں کی عصمت نوچ لی گئیں ۔ کوئی آدھ موئی لاش کھیتوں سے ملی تو کسی کے باپ بھائی کٹ گئے ۔ آدھے آدھےخاندان ہجرت مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ جو آزادی منانے کی سکت رکھتے تھے انہوں نے آزادی منائی ،جو رو سکتے تھےوہ روئے اور جو کھو گئے وہ تاحال نہ مل سکے ۔

آزادی کا جشن تب ویسا نہ تھا جیسا اب کہ ہوتاہے ۔ تب آسمانوں میں روشنیاں بکھیرتی روشنائیاں نہیں اڑائی گئیں تھیں ۔ ان کی چنداں ضرورت نہیں تھی کیونکہ ہجرت کا بوجھ لیے جو قافلے سرحد کی اس پار سے اس پار جا رہے تھے انہیں جلانے میں جو شعلے استعمال ہوئے وہ چیخوں کے ساتھ آسمانوں کو بلند ہوئے تھے۔تب ہوئی فائرنگ کا رواج بھی نہ تھا البتہ برطانوی ساخت کی لوہا اگلتی بندوقیں کچھ جنونیوں کے ہاتھوں میں آ گئی تھیں ۔ وہ دونوں طرف تھے انہوں نے کئی سانسیں چلنے کے قابل نہ چھوڑیں ۔ یہ تب کی آزادی کی باتیں ہیں جب درد ناک کہانیاں رقم کی گئیں ۔

چلئے اس پر پھر رونا کریں گیں ابھی کوئی اور واویلا ہے آئیے مل کر وہ کرتے ہیں ۔تقسیم کے کئی برس تک تو دونوں جانب دو الگ الگ مملکتوں میں انتظامی سیٹ اپ کو چلائے رکھنے کے جتن جاری رہے اور کئی معاملات کی طرف خاطر خوا توجہ ہی نہ رہی جو آنے والے وقتوں میں دونوں مملکتوں کے لیے اک دوسرے کا اچھا پڑوسی بننے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے لہذا نتیجہ یہ نکلا وہ بنے ۔ریاستوں کے معاملات کچھ حل ہوئے کچھ زیر التوا رہے جس میں کشمیر کا مسئلہ سر فہرست رہا او ر تاحال ہے ۔ تب شاید اسے زمینی مسئلہ سمجھ کر ہلکا لیا گیا ، کچھ لشکر کشی کی کوشش بھی کی گئی کہ ہاتھ آ جائے لیکن بے سود۔ الٹا یوں ہوا کہ کشمیر کے مسئلے پر دونوںملکوں میں الجھنیں بڑھ کر تین جنگوں کی صورت تک پہنچیں ۔ حالات پھر بھی مگرنہیں سدھرے۔

پاکستان میں شناخت کا مسلہ لیے کشمیری اور بھارت کے جبر سے ستائے اس پار کے کشمیری آزادی کے نام پر کٹ کٹ کر نثار ہوتے رہے ۔کبھی اک طرف سے حمایت کی یقین دہانی شہ رگ کی صورتیں دکھا دکھا کر کروائی جاتی رہی تو کبھی دوسری جانب سے اٹوٹ انگ کے دعوے کیے جاتے رہے ۔ سونے کے پنجرے والی زندگی دی جاتی رہی لیکن آزادی نامی بلا سے باز رہنے کا سبق یاد کروایا گیا اور اتنا ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی کہ جو ہے ،جیسا ہے بالا دست طبقات نے قبول کیا اور ان کے زیر سایہ باقیوں نے بھی ہا ں میں ہاں ملا کر بس زندگانی گزارنے کی ٹھان لی ۔

بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے مملکت پاکستان کو بہت کم مواقع میسر ہوئے ۔ سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا رہا ۔اگر پاکستان کے وجود سے لے کر آج تک دیکھاجائے تو ملک پاکستان آج تک اپنی بقا و سلامتی کی جنگ لڑ رہا ہے، اس بیچ ترقی کرنا اور جدید دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنا کس قدر مشکل رہا اس کا اندازہ اس ملک میں رہنے والےہر با شعور کو ہے۔کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے زمینی حالات اس قدرموافق ہوں کہ وہاں بیرونی دنیا اپنی دلچسپی ظاہر کرے ۔اس ملک کےاپنے پڑوسی بہتر تعلقات استوار ہوں ۔

لیکن آزادی کے بعد سے پاکستان میں ایسا نظر نہیں آیا جس کی قیمت اس ملک کے باسیوں نے ادا کی اور تاحال ادا کر رہے ہیں ۔ افغانستان سے ملحق پاکستان کا سرحدی علاقہ ، جس کے آر پار پختون قبائل آباد ہیں اک بڑے عرصے تک غیرمحفوظ رہا. خونی رشتوں میں منسلک پختون آزادانہ تقل و حرکت کرتے رہے لیکن اس بیچ امن کے دشمنوں کوبھرپور موقع ملتا رہا اورانہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا۔ افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن والے مسئلے کو لے کر کسی پاکستانی حکومت نے کوئی ایسا راستہ نہ اپنایا جس سے آر پار تقسیم خاندان بھی آپس میں میل ملاقات جاری رکھتے اور پاک افغان امن عمل بھی متاثر نہ ہوتا۔
لیکن درست پالیسی سازی کے فقدان اور غیروں کی بے جا وفاداری نے ملک پاکستان کو نہ صرف ا مان و امان کے مسائل میں پھینکا بلکہ ترقی کی دوڑ میں رفتاربھی کم کردی ۔ افغانستان میں روسیوں کی آمد کے وقت ہم بنا سوچے سمجھےکود پڑ ے.ہم نے اس وفاداری کا انجام نہیں سوچا کہ یہ وفاداری پلٹ کر خوں رلائے گی ۔آہ !تب ہم دیوانے تھے۔

کشمیر کے مسئلے پر دو طرفہ مذاکرات کا عمل نہ ہونے کے برابر رہا۔ کبھی فضا ہموار ہوئی تو کبھی پھر کسی سانحے کی نظر ہو گئی ۔سب سے بڑا المیہ ملک پاکستان میں سیاسی قیادت کی عدم دستیابی رہی ۔ ملک پر آمریت کی سیاہ راتوں کے سائے طویل عرصے تک چھائے رہے ا۔س بیچ ملک میں قابل عمل خارجہ پالیساں نہ بن پائیں نتیجہ یہ نکلا کہ پڑوسی مملک سے اچھےتعلقات استوار نہ ہو ئے۔ اندرون خانہ اداروں کی بے جا بالادستی نے مایوسیاں پھیلائیں ۔ آج اکہتر سال گزرنے کے بعد ملک پاکستان کا باشعور طبقہ اس نتیجےپر پہنچ چکا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اورخطہ میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے پڑوسی مملک سے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ملک کی ترقی و خوشحالی کے واسطے ملک میں مقیم اقلیتوں سمیت محروم طبقات کی داد رسی سمیت ان کے دیرینہ مسائل کا حل بے انتہا لازم ہے۔

پاکستان میں بسنے والے محرومیوں کا شکار بلوچ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں ۔ نسلی تعصب کا شکار پختون باعزت شہری کہلانا چاہتے ہیں . گلگت بلتستان اور کشمیر کے باسی اپنی شناخت کا سوال کرتے ہیں ۔ یہ آزادی تب ہی تکمیل کو پہنچے گی جب پاکستان کے محروم طبقات کی محرومیاں دور ہو پائیں گی اورنسلی امتیاز کی بنا پر پرکھے جانےکا عمل ختم ہو گا ۔ اکہتر برس ہو گئے مگرہم رنگ نسل ذات پات اور مذہبی عصبیت سے ابھی تک آزاد نہیں ہو سکے۔ خدا کا واسطہ ہے،ا من پیارومحبت کے جذبات کو پروان چرھنے دیجیے۔ ہر اک اپنی رائے سوچ و فکر رکھنے میں آزاد ہے ، سب کی آزادیوں کی قدر یجئے !۔

ایک نجی ٹیلی وژن مین بطور رپورٹر کام کر رہے ہیں
نمل یونیورسٹی اسلام آباد سےماس کیمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.