تحریک پاکستان اورمیو قوم

1,648

ایک ہزارقبل مسیح سے بھی پہلے سے ہندوستان پربڑی شان وشوکت سے ہزاروں سال حکمرانی کرنے والی میو قوم کی تاریخ ہندوستان اور دنیا کے عظیم حکمرانوں کی داستان ہے۔راجہ بکرما جیت جس سے سن بکرمی مشہور ہواتنوار(تومر) نسل میو تھا۔ہندوستان کاعظیم راجہ بھوج جس کے نام سے یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ ’’کہاں راجہ بھوج کہاں گنگوا تیلی‘‘ بھی تومر میو تھا۔ ماضی میںحملہ ٓاوروں کی توڑپھوڑسے میوات کی حدودبدلتی رہی ہیں۔ محمود غزنوی کے حملے سے پہلے بشمول دلی اورآگرہ ،گجرات کی جنوبی سرحدوںسے لے کردلی کے جنوبی کنارے تک تمام راجپوتانہ ریاست ہائے ٹونک بوندی ،ضلع علی گڑھ ،بلند شہر، میرٹھ اور گوڑ گانواں میوات میں شامل تھے۔

دنیا کی عظیم جنگ مہا بھارت کے کردارہستنا پور کی ریاست کے حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والے کورو پانڈو میو تھے۔کوشال خاندان کی ریاست اجودھیا کا راجہ دسرتھ او راس کا بیٹارامائن کاعظیم ہیرو،مشہور حکمران رگھو پتی راجہ رام ،سورج بنسی میوقبیلہ کی پانچ پالوں کا مورث اعلٰی ہے ۔شری کنہیا جی مہاراج چندر بنسی میو قبیلہ کی اتنی ہی پالوںکے مورث اعلٰی ہے۔۹۹۲ء میںدہلی ریاست کی بنیاد رکھنے والا راجہ اننگ پال میوتنوار یا تومار (تومر ) خاندان سے تھا۔اس خاندان کے ا ٓ خری راجہ اننگ پال ثانی کے کوئی لڑکانہ تھا۔اس لئے اس نے اپنی ریاست اپنے نواسے پرتھوی راج کو بخش دی جو اجمیر کا چوہان راجہ تھا اور تاریخ میں رائے پتھورا کے نام سے بھی مشہور ہے۔

یہ ہے میوقوم کا وہ قابل فخر ماضی جس نے اس قوم کوہمیشہ دہلی کے غاصب حکمرانوں سے ٹکرانے پر اکسائے رکھا۔ہندو قوم کو میووں سے مسلمان ہونے کی وجہ سے بیر تھا،مسلمان حکمرانوں کوان کا سر اٹھا کر جینانا پسند تھا،یوںمیو ہندو اور مسلمانوں کے دوپاٹوں کے بیچ میں پستے رہے مگر ا س سخت جان قوم نے ہار نہ مانی۔ جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کی طرح تحریک پاکستان میں جتنا نقصان میوقوم کا ہوا اتنا کسی اور کا نہیں ہوا۔جب میوات میں یہ خبر پہنچی کہ قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ مسلمانوںکیلئے ایک الگ ملک بنا رہی ہے توانہوں نے مسلم لیگ کی حمایت کا فیصلہ کر لیااور۱۹۴۵ء میں ریاست بھرت پور میں ایک بڑا جلسہ کرکے مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

بھرت پور کے راجہ نے میو قوم کے سرکردہ لوگوں کو بلا کرڈرایا کہ یہ سودا آپ کو بہت مہنگاپڑے گا کیونکہ میوات پاکستان میں شامل نہیںہو رہا اورآپ لوگوںکو ہمارے ساتھ ہی رہنا ہے ۔جب یہ تحریک الور پہنچی توہندو لیڈر آگ بگولہ ہو گئے۔ موضع سمبل گڑھ تحصیل پہاڑی میںدو نہتے میو باپ بیٹوں کومہاراج بھرت پور کے حکم سے گولی ما ر دی گئی۔ تحصیل پلول ضلع گوڑ گانواں میں مسلم اقلیت کوبے دردی سے قتل کیا اورگھروں کوآگ لگا دی گئی۔میووں نے بدلے کی ٹھانی توہندو حکمران اور افسروں نے بڑی مکاری سے بیچ بچاؤکرا دیا۔کچھ دنوں بعد ہندو بلوائیوں نے ریاستی فوج کی مدد سے میوات کی شمالی سرحد کے گاؤںسوندھ شریف تحصیل نوح اوراس کے دیہات سکت پور، گنگانی،بیری، ڈبر ی وغیرہ کوجلا کر راکھ کر دیا۔بچوں بوڑھوں،حاملہ اور زچہ عورتوں کوبڑی بے دردی سے تڑپا تڑپا کر مارا۔میووں نے جواب میںہندوؤں کے موضاعات کونہ،لبرّ،کھیڑی،باکھنگی اور کئی دوسرے دیہات پھونک دئے مگرغیور بہادرقوم نے عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کو کچھ نہ کہا۔البتہ جو مقابلے پر آیا ،اسے کاٹ کے رکھ دیا۔اس کے جواب میںسرکاری وسائل اورریاستی سپاہیوں کی مدد سے بلوائیوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل اورسرداربلدیوسنگھ کی شہ پر، میوا ت کے گاؤں سبرس،جھاموداس،لانگڑہ وغیرہ پر اچانک حملہ کر کے کافی نقصان پہنچایا۔بلوائیوں اور ریاستی سپاہیوں کے پاس دور تک مار کرنے والے بارودی ہتھیار توپ اور دور مار رائفلیں تھیں۔ ان کے مقابلے میووں کے پاس تلوار ،بلم ،برچھا اور لاٹھی جیسے روایتی ہتھیارتھے۔میو مجاہدین آگے بڑھتے تو دشمن دور ہی سے فائر کر کے انہیں گولیوں کا نشانہ بنا دیتے۔یہ گویا تلوار کا توپ سے ٹکراؤ تھا ۔ اعلان آزادی سے کوئی دوسال پہلے ہی میوات میں جلاؤ گھیراؤکا یہ وحشیانہ کھیل شروع کر دیا گیا۔

تقسیم سے پہلے ہی میو قوم کونشانہ بنانے کا مقصد ایک تو انہیںالور،بھرت پور ،جے پور ،جودھ پور، ہریانہ، بریلی، آگرہ،دہلی علی گڑھ اور میوات کے وسیع علاقے میں جہاںمیو قوم اکثریت میں تھی، تحریک پاکستان کے لئے کام کرنے سے روکنا تھا۔ اس جلاؤ گھیراؤمیں ہندو بلوائیوں کو ریاستی فوج اورکانگریس کے بڑے زعماء کی حمایت حاصل تھی۔ریاستی فوج ان حملوں میں سب سے آگے ہوتی۔میوات میںہر روز قیامت ٹوٹ رہی تھی۔ ۱۹۳۶ء میںمیوات سے پنجاب اسمبلی کے منتخب میو ممبران چودھری یٰسین خاں، چودھری عبدالرحیم خاں باندھولی،مولوی قاری احمد جان سوندھیا ، چودھری مہتاب خاں سنگاریا جیسے سر کردہ میو ایک ایک کانگریسی لیڈر سے ملے مگر کوئی کا ن دھرنے کو تیار نہیںتھا۔عبدالحئی اور سید عبدالمطّلبی مولانا آزاد سے مشورہ کے بعدگاندھی جی سے ملنے بھنگی کالونی پہنچے۔ گاندھی جی کھانا کھا رہے تھے مگر انہوں نے بلا توقف وفد کو اندر بلوایا۔ گاندھی جی کواس بات کا دکھ ہوا کہ سرکاری مشینری فسادات میں ملوث ہے۔ان ملاقاتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میو رہنماؤں پر قاتلانہ حملے ہونے لگے۔اس کے با وجودکنول خاں الہیا،نتھی نگھینیا،سردارخان بہادر جیسے میو لیڈر مسلم لیگ کی حمایت میں جگہ جگہ جلسے کرتے رہے، ہندو لیڈروں سے امن کیلئے ملاقاتیں کرتے رہے۔ ادھرہندو قیادت کوکثیر مسلم آ بادی کے ان علاقوں میں مسلم لیگ کی کامیابی کسی طرح بھی قابل قبول نہیں تھی۔ سردار پٹیل، سردار بلدیو سنگھ،مہاراجگان الور ،بھرت پور ، نے اضلاع گوڑ گانواں ، رہتک ، حصار،متھرا اور دوسرے شہروں کے با اثر لوگوں کی میٹنگ بلائی اور میووںکو ہر صورت مٹانے پر غور کیا۔اس اجلاس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کوہ پایہ میوات اور میوقوم کی کثیر آبادی والے علاقے کسی وقت بھی خطرہ بن سکتے ہیں،اس لئے ان کو مٹانے کا اس سے بہتر موقع پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ساتھ ہی یہ خوش خبری سنائی کہ چاہے جتنے میووں کوماردو، کوئی پوچھ گچھ اور کوئی مقدمہ نہیںہو گا۔ریاستی فوجیں تمہاری مدد کیلئے ساتھ ہوں گی۔ساری میوات کو لوٹ لو ،لوٹ کا سب مال تمہاراہے۔ کانگریس کی حکومت آنے والی ہے،ان لوگوںکو خاص کر نوازا جائے گاجو اس مہم میں بڑھ چڑھ کو حصہ لیں گے۔ پھر کیا تھا ہندو بلوائیوں کے جتھوں نے رات کے بارہ بجے موضع کھوری بلندہ تحصیل پر شب خون مارااور سوئے ہوئے لوگوں کو آ لیا۔ظالم وحشیوں نے کیا ظلم تھا جونہتے لوگو ںپر نہ کیا۔بوڑھے ، بچے ،بیمار،زچہ اور حاملہ عورتوں کو گھیرے میں لے کرجس بے رحمی اور بے دردی سے اذیتیں دے دے کر مارا انسانیت تاقیامت اس پر خون کے آنسو روئے تو بھی کم ہے۔یہ ظلم و بر بریت کی ان طویل داستانوں کی ایک ہلکی سی جھلک ،ایک چھوٹی سی تصویر ہے جو۱۴ اگست ۴۷ء اعلان آزادی سے پہلے میوقوم کا مقدر بنا دی گئیں۔
آزادی کے بعدہندوستان میںکانگریس کی حکومت قائم ہوئی تو سرکاری وسائل کے استعمال اور اختیار وقوانین کے بے جا استعمال سے نہتی میو رعایا کے خلاف اس خونی کھیل کو جس عروج پر لے جایاگیا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ہندو کی حکومت بن جانے کے بعدانگریز کی تربیت یافتہ ہندو فوج نے سرکاری وسائل اور اختیارات کے غلط استعمال سے میوقوم پر جوظلم ڈھائے ا ن کو سن کر روح کانپ کر رہ جاتی ہے مگر میو قوم نے گھبرائے بغیر دشمن کوترکی بہ ترکی جواب دیا۔پاک وطن پر لاکھوں جانیں قربان کرکے بھی وہ سوچتے ہیں کہ آزادی کے نام پر یہ گھاٹے کاسودا نہیں ۔اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے۔

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.