ہماری قربانی بے اثر کیوں ہوتی جارہی ہے ؟

1,419

میں:ارے بھیا آپ نے کالی آندھی دیکھی ہے؟
بھائی: نہیں مگر ہاں چرچہ تو بہت سنا ہے لیکن ابھی دیکھنے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔
کالی آندھی!؟ بھابھی چائے پیش کرتے ہوئے بولیں۔
کالی آندھی بیل ہے قربانی کا۔بھیا ہنستے ہوئے۔
اللہ توبہ!کالی آندھی قربانی کے جانور کا نام! بھابھی بولیں

ہاں جناب یہ شہرت کا زمانہ ہے۔اب لوگ قربانی بھی ناموری کےلیے کرنے لگے ہیں کہ ہمارا جانور سب سے ہٹ کرہو۔سب سے مہنگا ہو تاکہ شہرت ہوسکے۔اسی لیے اسطرح کے عجیب وغریب نام بھی رکھے جاتے ہیں۔چونکہ اب عبادات اخلاص سے خالی ہوتی جارہی ہیں اس لیےفرد اور معاشرے پر ان کے اثرات بھی نظر نہیں آتے۔

قربانی کا ایک مقصد اللہ کی وحدانیت کو دلوں میں راسخ کرنا ہے کیونکہ اسلام نےعقیدہ توحید کو انسانی فکروعمل میں رچانے بسانے کے لیےان تمام صورتوں کو جہاں غیراللہ کی کسی ناکسی حیثیت یا کسی ناکسی درجہ میں بندگی کی جاتی تھی اس کوصرف اللہ کے لیے مخصوص کردیا ہے۔اسلیے خودساختہ معبودوں کی قربانی کی جگہ اللہ کے نام کی قربانی کو واجب قرار دیا۔یعنی قربانی کا بڑا مقصد کلمہ لا الہ الااللہ کو دل ودماغ میں بسا دینا ہے۔

قربانی کا دوسرا بڑا مقصد اس بات کی یاددہانی ہےکہ ہمارے پاس جوکچھ ہے وہ اللہ رب العالمین کا عطا کردہ ہے اوراسکی رضا کے لیےہم سب کچھ حتی کہ جان بھی قربان کرسکتے ہیں۔جیساکہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے کیا کہ جب اللہ کو پالیا تو ایسا ایمان لائے کہ ہرطرف سے یکسو ہوگئے اور اللہ کی راہ میں ہر طرح کی قربانی(خاندان نے الگ کردیا۔آگ میں ڈالے گئے۔ہجرت۔بیٹے کی قربانی)
دینے کے لیے بخوشی تیار ہوگئے۔اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کو خلیل اللہ کا لقب ملا۔

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ”نا انکے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں ناخون مگر اسے تمھارا تقوی پہنچتا ہے۔(الحج37)
ایک حدیث کے مطابق قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے(ابن ماجہ)لہذا ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں اپنی قربانی سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ہماری قربانی ہماری کتنی تربیت کرتی ہے؟ہمارا ایمان کس درجے پر ہے؟ہماری انفرادی واجتماعی زندگی میں صبغة اللہ یعنی اللہ کا رنگ کتنا ہے؟چونکہ دل ایمان کی روح سے خالی ہیں اس لیے ہم ایمان وعمل کے جذبے سے خالی ہیں۔ہماری قربانی صرف رسمی عبادت تک محدود ہوگئی ہےاور ہمارے ایمان وعمل میں کسی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بنتی۔قربانی کا وہ جذبہ جو اللہ سے قریب کرتاہے اور انسان کو انسان سے جوڑتا ہے ہرسال قربانی کے باوجود نظر نہیں آتا۔اسلیے معاشرہ انتشار کا اور امت زوال کا شکار ہے۔

اسلام تو اپنے ماننے والوں میں قربانی کا ایسا جذبہ پیدا کردیتا ہےکہ جب مہاجرین مدینہ پہنچے تو انصار نے اپنے نصف مال وزمین مہاجرین کے حوالے کردیے۔ایک جنگ کے موقع پر جب مال کی ضرورت تھی توایک عورت نے اپنےشیرخوار بچے کو آپ ﷺ کے سامنے پیش کردیا کہ جب آپ ﷺکی طرف تیر آئیں تو اسے ڈھال بنالیےگا۔
آئیےاس مرتبہ ایک نئےجذبہ کےساتھ قربانی کریں جس کےلیےسو رة الانعام کی آیت 162میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے۔
قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین۔
کہو!میری نماز میرے تمام مراسم عبودیت میراجینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.