اپنے وعدے کو نبھاتے جائیں

888

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ۔۔۔لے کے رہینگے پاکستان بن کے رہیگا پاکستان !۔ آزادی کے متوالوں کے آج سے 71 سال قبل لگائے جانے والے نعرے آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں۔
غریب ، مزدور اور کسانوں کی وہ ٹولیاں جو آزادی کے چراغ اپنی آنکھوں میں جلائے اورچند ضروری اشیا ء اپنے ساتھ لیے بیل گاڑیوں اورگدھا گاڑیوں پر سوار نئے دیس کی طرف ہجرت کو نکلے تور استے میںہندو اور سکھ بلوائیوں کے ہاتھوں جان و مال اور عزت و آبرو پر گہرے زخم کھا کر بھی ایک خوشی ایک تمکنت کو اپنی جبینوں پر سجائے روشن مستقبل کی امید پر آگے ہی آگے بڑھتے رہے۔

کوئی مال و اسباب سے محروم ہوا توکوئی جوان اولاد سے ،کسی کا بیٹا راستے میں ہی شہید کر دیا گیا تو کسی کی جوان بیٹی چھین لی گئی۔کسی بھائی نے اپنی بہن کا گلہ اس لئے گھونٹ دیا کہ کسی ظالم بنیئے کی ہوس کا شکار نہ ہو جائے تو کہیں کسی ماں نے اپنی جواں سال بیٹی کو کنویں میں دھکا دے دیا۔کہیں کوئی باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیٹی کی عصمت پامال ہوتے دیکھ کر قوت برداشت کے جواب دے جانے پر ہمت ہار کر موت کی آغوش میں جا سویا تو کہیں والدین اورعزیز واقارب سے بچھڑ جانے والی تنہا بہن بیٹی کسی نہ کسی طرح چھپ چھپا کر اپنے آزاد دیس تک پہنچنے میں کامیاب ٹھہری۔

کہیں ماوں نے اپنے دودھ پیتے شیرخوار بچے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیئے اور کہیںلٹے پٹے قافلوں کے قافلے ایک نئے وطن کو آباد کرنے کی خاطرجیتے مرتے سرزمین پاکستان تک پہنچتے رہے۔
ایک نومولود ملک جس کے پاس کچھ بھی نہ تھا دفاتر سے لے کر معاشرت تک سب کچھ لٹا پٹا تھا مگر ایک عظیم قوم کے عظم اور حوصلے نے اس نومولود ریاست کو اپنا خون جگر پلا کر پالنا شروع کیا تا آنکہ وہ دیس پل پوس کر ایک کڑیل جواں دیس بن گیا۔

دشمن سے سنبھلتا ہوا پاکستان برداش نہیں ہو ا،پے در پے جنگیں مسلط کی گئیں۔ ڈھاکہ بنگلہ دیش بن گیا پاکستان دو لخت کر دیا گیا۔دشمن کے وار جاری رہے مگر افسوس کہ اب دشمن کے ساتھ اندر سے بھی ساز باز ہونے لگی میر جعفر کی ذریت نے بھی اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کر دیا۔اور پاکستان دو محاذوں پہ مصروف جہاد ہو گیا 72سال بیت گئے مگر زخموں سے چور پاک دھرتی کے زخموں کو مرہم پٹی کا موقع نہیں ملا۔کہیں دشمن کی سازشیں ،کہیں جنگی جنون کا مقابلہ تو کہیں اندر کی سیاسی و انتظامی نالائقیاں پاکستان کو سنبھلنے کا موقعہ نہیں دے رہیں۔

تعمیر ملت کا وہ نعرہ پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔ لاالہ الااللہ آج بھی تشنہ طلب ہے۔پاکستان بن گیا مگر لاالہ الااللہ کی تعبیر نہ پا سکا پاکستان بنانے والو ں کی غریب نسلیں اسی طرح زخم خوردہ ہیں جس طرح ہجرت کے موقعہ پر پاکستان کے بانیان نے اپنے جسم و روح پر زخم کھائے تھے۔

وقت کے جاگیرداروں ،وڈیروں ،اور سرمایاداروں نے پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھ کر ایسا قبضہ کیا کہ آج تک پاکستان صرف چند سو خاندانوں کی ملکیت بن کر رہ گیا ھے۔
آج وطن عزیز میں ایک تبدیلی کی لہر اٹھ رہی ھے ہمیں بحثیت قوم وہ جو ایک نعرہ تھا کہ پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ کو ایفاء کرنے کی طرف متوجہ ہونا ھو گا کیونکہ پاکستانی قوم کی بقاء کا راز اپنے اسی نظریہ کی پاسداری میں ہے

محمد جاوید قریشی ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ لیبریونین سے وابستہ ہیں اور سوشل ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.