ہندوستان، پاکستان کے بعد کیوں آزاد ہوا؟

4,072

برطانوی پارلیمنٹ نے بر صغیر کی آزادی اور انتقال اقتدار کی تاریخ 30جون 1948مقرر کی تھی اور اس مقصد کے لئے وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو آخری وا ئسرائے بنا کر ہندوستان بھیجا تھا جنہوں نے مارچ 1947میں اپنے عہدہ کا حلف اٹھایاتھا۔ لارڈ ماونٹ بیٹن کواتنقال اقتدار کی اس قدر عجلت تھی کہ انہوں نے اگلے دو مہینوں میں بر صغیر کے سیاسی رہنماوں سے طوفانی ملاقاتیں کرنےکےبعد 3 جون 1947کو ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کا اعلان کردیا تھا۔ وجہ اس عجلت کی لارڈ ماونٹ بیٹن نے یہ بتائی کہ اگر تاخیر ہوتی تو ہندوستان میں خانہ جنگی بھڑکنے کا خطرہ تھا ۔ جواز انہوں نے یہ پیش کیا کہ مسلم لیگ کے قاید اعظم محمد علی جناح نے دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا اور کیبنٹ مشن کا پلان مسلط کیا گیا تو مسلم لیگ مسلح جدو جہد پر مجبور ہو جائے گی۔

برطانوی حکومت کی بر صغیر کی آزادی میں عجلت کی کئی اور وجوہات بھی تھیں۔ امریکا کا برطانیہ پر دباو تھا کہ ہندوستان کو جلد از جلد آزاد کیا جائے ۔ پھر دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے برطانیہ کو سنگین مالی بحران کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اسے اپنے آپ کو سنبھالنا بڑا مشکل تھا ایسے میں ہندوستان کی ذمہ داری بھی کندھوں پر رکھنامشکلات کو دگناکرنے کے مترادف تھا ۔اس کے علاوہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیش نظر برطانوی فوج کے لئے امن و امان کی صورت حال پر قابو پانا بہت مشکل ہوگیا تھا اور اسی دوران بحریہ میں بغاوت بھی بھڑک اٹھی تھی۔

لیکن اصل وجہ اس عجلت کی یہ تھی کہ لارڈ ماونٹ بیٹن جلد از جلد برطانیہ واپس جانا چاہتے تھے اور بحریہ کے سربرہ اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدہ پر فائز ہونا چاہتے تھے ۔ ان کے والد یہ عہدہ اس بناء پر حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے کہ وہ جرمن نژاد گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور دوسری عالم گیر جنگ کے دوران انہیں اسی وجہ سے اس عہدہ پر فائزنہیں کیا گیا تھا۔

ہندوستان کی آزادی کے لئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے 15اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ وہ اس تاریخ کو اپنے لئے نہایت خوش قسمتی کا نشان سمجھتے تھے کیونکہ 1945میں اسی روز جاپان نے دوسری عالم گیر جنگ میں اپنی شکست تسلیم کی تھی اور جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے لارڈ ماونٹ بیٹن کے سامنے جو اتحادی افواج کے کمانڈر انچیف تھے ، ہتھیار ڈالے تھے۔

لارڈ ماونٹ بیٹن نے پندرہ اگست کی تاریخ تو طے کر دی لیکن ہندو جوتشیوں نے زایچہ بنا کر یہ دن بد شگون قرار دیا اور کانگریس نے اس روز انتقال اقتدار سے انکارکر دیا ۔ لارڈ ماونٹ بیٹن مگر اسی تاریخ پر مصر تھے ۔ آخر کار یہ طے کیا گیا کہ چونکہ انگریزی کیلنڈر کے حساب سے پندرہ اگست کا آغاز رات کو بارہ بجے ہوگا اور ہندو عقیدہ کے مطابق پندرہ اگست کا دن سورج طلوع ہونے کے بعدہوگا ، لہذا ہندوستان کی پارلیمنٹ میں چودہ اگست کو رات بارہ بجے ہندوستان کی آزادی کا اعلان نہرو کی اس تاریخی تقریر سے ہوا کہ’ نصف شب کے گجر کے وقت جب دنیا سورہی ہے ہندوستان زندگی اور آزادی کے ساتھ بیدار ہورہا ہے ‘

پاکستان چونکہ ہندوستان سے نکل کر ایک آزادخود مختار مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر ابھرنا چاہتا تھا اس لئے یہ طے کیا گیا کہ اسے اقتدار ہندوستان کی آزادی سے پہلے 14اگست کو منتقل کر دیا جائے ۔ چنانچہ 14اگست کی صبح کو لارڈ ماونٹ بیٹن اقتدار پاکستان کو منتقل کرنے اور گورنر جنرل کی حیثیت سے قاید اعظم سے حلف لینے کے لئے کراچی گئے تھے۔

لارڈ ماونٹ بیٹن قیام پاکستان کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے مشترکہ گورنر جنرل بننا چاہتے تھے۔ قائد اعظم کا ذہن ٹٹولنے کے لئے انہوں نے ایک ملاقات میں قائد اعظم سے یہ سوال کیا کہ پاکستان میں گورنر جنرل کون ہوگا؟ قائد اعظم لارڈ ماونٹ بیٹن کی خواہش بھانپ گئے انہوں نےبرجستہ کہا کہ میں گورنر جنرل ہوں گا۔ اس پر لارڈ ماونٹ بیٹن نے کہاکہ لیکن پاکستان تو پالیمانی جمہوریت ہوگااور اس میںتو وزیر اعظم سب سے مقتدر شخص ہوتا ہے ۔ قائد اعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے پاکستان میں نہیں ہوگا۔ ((India, The Transfer of Power Papers 1942-47

لارڈ ماونٹ بیٹن آزادی کے دس مہینے تک ہندوستان کے گورنر جنرل کے عہدہ پر فائز رہے ۔ یہ پر اسرار اور تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو لارڈ ماونٹ بیٹن برطانیہ واپس جانے کے لئے بے تاب تھے اور انہوں نے انتقال اقتدار کی تاریخ ۳۰ جون ۱۹۴۸سے تبدیل کر کے ایک سال پہلے کردی لیکن انتقال اقتدار کے بعد انہوں نے کوئی عجلت نہیں دکھائی ۔ ان کے ہندوستان کے گورنر جنرل کے عہدہ پر رہنا پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوا اور غالباً اس عہدہ پر برقرار رہنے کا مقصد بھی یہی تھا۔

اس میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ یہ لارڈ ماونٹ بیٹن تھے جن کے دباو کے تحت باونڈری کمیشن نے پنجاب کی تقسیم میں مسلم اکثریت والے گرداس پور کے ضلع کو ہندوستان میں شامل کیا تھا جس کے نتیجہ میں ہندوستان کو ریاست جموں و کشمیر میں راستہ دے کر کشمیر اور پاکستان پر ایسا کاری زخم لگایا تھا جو اب تک رس رہا ہے ۔ اگر گرداس پور پاکستان میں شامل ہوتا تو ہندوستان کا کشمیر سے رابطہ ختم ہوجاتا۔
یہ اہم بات ہے کہ باونڈری کمیشن کے سربراہ سرل ریڈ کلف کا انتخاب خود لارڈ ماونٹ بیٹن نے کیا تھا۔ ریڈ کلف لارڈ ماونٹ بیٹن کے پرانے دوست تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہندوستان دیکھا نہیں تھا۔ ریڈ کلف جب اپنے فرائض سنبھالنے کے لئے دلی پہنچے تو کئی روز تک انہوں نے لارڈ ماونٹ بیٹن کے ساتھ قیام کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران ماونٹ بیٹن نے ریڈ کلف کو اچھی طرح پٹی پڑھا دی تھی اور اسی کے مطابق ریڈ کلف نے سرحدوں کے تعین کے بارے میں ایوارڈ دیا ۔ سر ظفر اللہ خان نے اپنی یاد داشت میں لکھا ہے کہ لاہور میں مسلم لیگ کے وکیلوں نے انہیں بتایا تھا کہ ریڈ کلف کے کمرے میں ایسے نقشے آویزاں تھے جن پر پہلے سے سرحدیں کھچی ہوئی تھیں ۔ اس بارے میں احتجاج کیا گیا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

لارڈ ماونٹ بیٹن نے ریڈ کلف ایوارڈ کے اعلان کے سلسلہ میں جو عجیب و غریب رویہ اختیار کیا اس کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ بندھ گئے تھے۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے 16اگست کو برطانوی وائسرائے کی حیثیت سے اپنی آخری رپورٹ میں لکھا تھا کہ انہیں ریڈ کلف ایوارڈ کے سلسلہ میں سب سے زیادہ تشویش یہ تھی کہ اگر انتقال اقتدار سے پہلے یہ ایوارڈ سامنے آگیاتو اس پر سخت تنازعہ ہوگا اور خطرہ ہے کہ تقسیم کا عمل ٹھپ پڑ جائے۔

لارڈ ماونٹ بیٹن نے فریڈم ایٹ مڈ نایٹ لکھنے والے دو فرانسسی صحافیوں کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ چودہ اگست کو پاکستان کو اقتدار کی منتقلی اور قاید اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے جب وہ کراچی کے ہوائی پر اترے تو ریڈ کلف ایوارڈ ان کی جیب میں تھا ۔ یہ ایوارڈ دلی میں ہندوستان کی آزادی کے بعد شائع کیا گیا تاکہ دونوں ملکوں کے رہنما تقدیر سمجھ کر اسے قبول کرنے پر مجبور ہوں۔

سر سرل ریڈکلف ۴ جولائی کو ہندوستان آئے تھے اور صرف چالیس دن یہاں قیام کیا اور سرحدوں کا تعین کیا۔ پندرہ اگست کو اپنے ایوارڈ کے اعلان کے پہلے ہی وہ وطن واپس چلے گئے اور جانے سے پہلے انہوں نے اپنے سارے کاغذات نذر آ تش کر دیےاور وطن واپسی کے بعد بھی انہوں نے ایوارڈ کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔

جس عجلت میں ایک سو چودہ دن میں بر صغیر کو تقسیم کیا گیا اور سرحدوں کے تعین کے بارے میں جو تباہ کن نا انصافیاں کی گئیں اس کے نتیجہ میں ایک کڑوڑ چالیس لاکھ افرا د گھر سے بے گھر ہو گئے اور پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اس تقسیم کی بھینٹ چڑھے ۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.