وہ خواہش جو گوادر کے نوجوان کو پولنگ اسٹیشن لے گئی

4,784

بلوچستان کے دیگر حلقوں کی نسبت گوادر کی صوبائی اسمبلی کی نشست کو اس وجہ سے زیادہ اہم قرار دیا جارہا تھا کہ گوادر سی پیک اور بندرگاہ کا شہر ہے۔مقتدر حلقے گوادر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتے ہیں۔لیکن سی پیک کے تحت اربوں ڈالرکےجن منصوبوں پر دستخط ہوئےان میں گوادر کے لئے کوئی بڑا پروجیکٹ نظرتو نہیں آریامگرپھر بھی یقین ضروردلایا جارہا ہے کہ گوادر کے لیے کئی ایک میگا منصوبےزیر غورہیں ۔

حالیہ انتخابات میں گوادر کی صوبائی اسمبلی کی نشست کو بلوچستان کی سیاست کرنے والے پارٹیوں نے جیتنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیوں کو خرچ کرکے بازی مارنےکی سرتوڑ کوششیں کی۔ گوادر کی یہ نشست اگرچہ 25 سالوں سے کلمتی اور سید فیملی کے پاس رہی ہے مگراس مرتبہ سید فیملی کا ایک حصہ کلمتی فیملی کے میر حمل کلمتی کے حمایت کی بجائے بی اے پی کے میر یعقوب بزنجو کے حمایت میں کام کررہا تھا۔جبکہ 2013 کے انتخابات میں ماضی کے حریف نوری خاندان اور کلمتی فیملی کے حلیف بننے کے بعد اس مرتبہ بھی بی این پی کے پلیٹ فارم پر یہ دونوں خاندان سیاسی حلیف کے طور پر میدان میں تھے۔

گوادر کے تاریخ میں جتنے بھی انتخابات ہوئے تھے۔ اس میں اتنا جوش وخروش نہیں تھا،جتنا حالیہ انتخابات میں نظر آیا۔ حالیہ انتخابات میں بظاہر تو کئی سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں تھے۔ مگر انتخابات سے قبل سیاسی مبصرین بی اے پی کے میر یعقوب بزنجو اور بی این پی کے میر حمل کلمتی کے درمیان ون ٹو ون مقابلے کی توقع کررہے تھے۔ جب انتخابات کے نتائج آئے تو گوادر کی یہ نشست مسلسل تیسری مرتبہ بی این پی کے امیدوار میر حمل کلمتی کو نصیب ہوگئی ۔ گوادر قبائلی علاقہ تو نہیں ہے۔ مگر یہاں بھی بلوچستان کے قبائلی علاقوں کی طرح سیاسی پارٹیوں سے زیادہ برادری کاسیاست میں اہم رول ہوتا ہے۔گوادر کی سیاست میں ماضی میں بھی سیاسی پارٹیوں سے زیادہ اہم بااثر سیاسی اور مذہبی شخصیت ہونے کی بنا پر امیدوار جیتے تھے۔

حالیہ الیکشن میں ان اہم بااثر سیاسی اور مذہبی شخصیت کی اہمیت اور طاقت ماضی کی طرح زیادہ سودمند ثابت نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس مرتبہ ایک چیز دیکھنے کو ملی کہ ہر امیدوار ضلع گوادر کے دیہی علاقوں تک الیکشن کمپین کررہا تھا،شاید وہ پہلی بار ان علاقوں کی حالات زار کو اپنے آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔حالانکہ گوادر میں نیشنل پارٹی اور بی این پی کے سیاسی ورکروں کی اچھی تعداد موجود ہے۔ بی این پی کے امیدوار میر حمل کلمتی کی جیت کے بعد یہ گوادر کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک امیدوار نے مسلسل تیسری مرتبہ گوادر کی صوبائی نشست پر کامیابی حاصل کی ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے ووٹ بینک سے بی این پی کو فائدہ پہنچا۔

گوادر رقبے کے لحاظ سے ایک بڑا ضلع ہے اور یہاں کے نوجوان پہلی مرتبہ تبدیلی کے لئے بڑی تعداد میں الیکشن کے دن گھروں سے باہر نکلے تھے۔اچھی تعلیم کےخواب کے لئے گوادر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کےانتخابی عمل میں شریک ہونے سے یہ تاثر پیدا ہوگیاہے کہ اب آئندہ انتخابات میں گوادر میں جو بھی امیدوار الیکشن لڑے گا اسکو تعلیم پرخصوصی توجہ دینے کے ساتھ اچھے تعلیمی اداروں کے قیام کو اپنے وعدوںاور انتخابی منشور کا حصہ ہوگا۔ حالیہ انتخابات میں گوادر کے نوجوانوں نے پہلی بار خاندان اور برادری کی سیاست سے ہٹ کر بی این پی کو اس لئے سپورٹ کیا تھا کہ انکے ذہن میں ایک پڑھا لکھا گوادر کا خواب تھا۔

سی پیک اور اہم ترین بندرگاہ کےشہر گوادر میں اس وقت سب سے بڑا ایشو پینے کے صاف پانی کا ہے۔ گوادر میں بے روزگاری کے ساتھ ساتھ تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔ ضلع گوادر کے زیادہ تر علاقوں میں صحت کی ابتر صورتحال ہے۔ دیہی علاقوں میں سڑکوں کا نام ونشان نہیں ہے اور زیادہ تر علاقوں میں منشیات سرعام دستیاب ہیں۔گوادر کے بہت کم طالب علم ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ گوادر میں یونیورسٹی کے قیام کا خواب تو اب تک پورا نہ ہوسکا مگر پھربھی ارباب اختیا اور منتخب نمائندوں کی مہربانی کہ تربت یونیورسٹی کا ایک کیمپس گوادر میں قائم کرکے چند ڈیپارٹمنٹس کی کلاسز کا اجرا کردیا گیا ہے ۔

ان تمام مسائل اور معمالات کی موجودگی کے باوجود گوادر کا نوجوان پڑھنا چاہتا ہے ، وہ اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا مطالبہ اور خواب گوادر یونیورسٹی ہے۔ جو بار بار کی ڈیمانڈ پر بھی پورا نہیں ہو رہا اور اسی باعث اسکے ذہن میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اچھے تعلیمی اداروں سے محرومی انکا مقدر کیوں ہے؟ ۔ گوادر کے نوجوان کا ایسا سوچنا درست بھی ہے کیونکہ پسماندہ ترین صوبے کے اس بد حال ضلعے کے نوجوان قابلیت میں ملک کے نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں سے کسی طور کم نہیںلہذا بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لاکر انہیں اچھے مسقبل کے لئے موقع فراہم کیا جاسکتا ہے۔

بی این پی کے امیدوار نے انتخابی کمپین کے دوران تعلیم کے حوالے سے جس مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ ظاہرکیا تھا اور ماضی میں میر حمل کلمتی نے ضلع گوادر میں تعلیم کے بہتری کے لئے جو مثبت اقدامات کئے تھے ان کاوشوں کو آگے بڑھاتےہوئے ضلع گوادر کے نوجوانوں کے بہتر مسقبل اور ترقی کے لئے گوادر یونیورسٹی کا قیام بی این پی کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ پانچ سال بعد پھر گوادر میں تعلیمی ایمرجنسی کا نعرہ لگے۔

مکران کے ساحلی شہر پسنی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایم فل پولیٹکل سائنس کے طالب علم ہیں۔ میرین لائف،سیاحت اور کنزرویشن پر فیچر اسٹوری لکھتے ہیں۔جبکہ مکران کے سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آگاہی ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.