وہ تبدیلی جس کی ہمیں بلکل خبر ہی نہیں ہے

4,160

جس تبدیلی سے ہم بے خبر ہیں!
اس وقت دنیا ایک مستقل بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ عالمی لبرل ازم ہر طرف سے گھیرے میں ہے۔جمہوریت زوال پذیر ہے۔ معاشی بحالی نہ ممکن دکھائی دے رہی ہے۔ ابھرتا ہوا چین امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ اور بین الاقوامی تناو ایک تباہ کن جنگ کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک ایسا مسئلہ بھی ہے جو ان تمام بحرانوں سے بڑھ کر ہے اور ہم اس سے یا تو بے بہرہ ہیں یا پھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔
اس صدی کا سب سے بڑا مسئلہ ان سب سے زیادہ گھمبیر ہے اور پوری نسل انسانی کے لئے خطرہ ہے۔ وہ مسئلہ ہے ماحولیاتی تبدیلی ۔ماحولیاتی تبدیلی آنے والے دنوں میں نہ صرف سب سے بڑا مسئلہ ہو گا بلکہ یہ عالمی معاشیات اور تعلقات پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہو گا۔.
کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحولیاتی حرارت گیری کی سب سے بڑی وجہ ہے اور گرین ہاؤ س گیسوں میں سے سب سے زیادہ منفی اثرات رکھنے والی گیس ہے۔ اس کی مقدار اس وقت پچھلے آٹھ لاکھ سالوں میں خطرناک حد تک بڑھ کر چار سو دس حصے فی ملین ہو چکی ہے۔عالمی درجہ حرارت صنعتی انقلاب کے دور کی نسبت ایک اعشاریہ دو ڈگری بڑھ چکا ہے۔یہ خطرناک ماحولیاتی تبدیلی سے صرف اعشاریہ آٹھ ڈگری کم ہے۔ کیونکہ سارے سائینس دان اس بات پر متفق ہیں کہ کہ دو ماحولیاتی درجہ حرارت میں دو ڈگری کی تبدیلی آئے گی تو دنیا کے جغرافیائی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ آنے والے صرف بیس سالوں میں درجہ حرارت اس خطرناک نکتے کو چھو جائے گا۔ ابھی تک انسان نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا اور ڈر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کچھ کرے گا بھی نہیں!
اس تبدیلی کے اثرات بہت ہی بھیانک ہوں گے۔جب انسان اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو کنٹرول نہیں کرے گا تو اس کے بہر ہی ناخوشگوار اور پریشان کن اثرات سامنے آئیں گے۔ جب درجہ حرارت بڑھے گا تو آب و ہوا کی تبدیلی غیر یقینی ہو جائے گی۔ سیلاب اور طوفان جو ایک سو سال میں ایک دفعہ آتے تھے وہ ہر دس بیس سال بعد آنے شروع ہو جائیں گے۔ دنیا کے ہر خطے کا موسم شدت اختیار کر جائے گا اور ساری صورت حال بگڑ جائے گی۔ جہاں سبزہ زار ہیں وہ ریگستان بن جائین گے اور سر سبز پہاڑ چٹیل ہو جائیں گے۔ جس طرح کہ اس سال ہوائی میں ہوا کہ چوبیس گھنٹے میں پچاس انچ بارش ہو گئی ایسا عام ہو جائے گا۔
موسموں کی اس تبدیلی سے جغرافیائی اور سیاسی تعلقات پر بہت منفی اثرات مرتب ہونگے۔ کیونکہ کچھ ملک ڈوب جائیں گے اور کچھ ریگستان میں تبدیل ہو جائیں گے جہاں کے رہنے والے سر چھپانے کی جگہ ڈھونڈتے پھر رہے ہونگے اور بہت سارے تلخی ایام سہہ ہی نا پائیں گے۔ایسی صورت حال میں تاریخی تعاون کی ضرورت ہو گی۔ امریکہ اور چین اس تعاون میں نمایاں ہونگے۔ اگر ان دونوں ملکوں نے آپس میں تعاون نہ کیا تو ایک قیامت پربا ہو جانے کا ڈر ہے۔اس کے علاوہ دوسری حکومتیں پرائیویٹ کمپنیاں اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی اپنا کردار نبھائیں گی تو ہی حالات پر قابو پایا جا سکے گا۔

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. zahoor کہتے ہیں

    Informative

تبصرے بند ہیں.