آزادی کے بعد قائداعظم کو پہلا وزیراعظم بنانے کی تجویز کس کی تھی؟

5,010

تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کہا ہے کہ اگر نہرو کی جگہ جناح کو وزیر اعظم بنا دیا جاتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا۔ پچھلے دنوں گوا میں ایک تقریب میں گفتگو کے دوران دلائی لامہ نے کہا کہ گاندھی جی چاہتے تھے کہ وزیر اعظم کا عہدہ جناح کو دیا جائے لیکن نہرو نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔

حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم کو آزادی کے بعد پہلا وزیر اعظم بنانے کی تجویز گاندھی جی نے نہیں پیش کی تھی بلکہ آخری وایسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے پیش کی تھی۔
ہندوستان کی تقسیم اور انتقال اقتدار کے متعلق دستاویزات اور وایسرائے اور ہندوستان کے رہنماوں کے درمیان مذاکرات کے بارے میں رپورٹس اور یاد داشتوں پر مبنی برطانوی حکومت کی شایع کردہ ٹرانسفر آف پاور کی دسویں جلدمیں شامل لارڈ ماونٹ بیٹن کی یاد داشت کے مطابق وایسرائے نے گاندھی جی سے کہا تھا کہ ہندوستان کو متحد رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کانگریس کو اس بات پر راضی کر لیا جائے کہ محمد علی جناح کو آزادی کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر تسلیم کرلیا جائے گا۔

یاد داشت میں مزیدکہا گیا ہے کہ جب اقتدار انتقال کے مسئلہ پر سنگین تعطل پیدا ہوگیا تھا تب لارڈ ماونٹ بیٹن نے گاندھی جی سے ملاقات میں یہ تجویز پیش کی تھی اور گاندھی جی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بارے میں جواہر لعل نہرو سے بات کریں گے۔ یاد داشت میں کہا گیا ہے کہ دوسرے روز گاندھی جی نے بتایا کہ نہرو اس کے لئے تیار نہیں تھے کہ مسٹر جناح کو ہندوستان کا پہلا وزیر اعظم بنایا جائے۔ ظاہر ہے نہرو خود یہ اعزاز حاصل کرنا چاہتے تھے ۔نتیجہ یہ کہ اس تجویز پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

لارڈ ماونٹ بیٹن کی اس یاد داشت میں یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تجویز پیش کرنے سے پہلے انہوں نے قائد اعظم سے بات چیت کر کےان کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی تھی یا نہیں؟
دلائی لامہ کو در اصل غلط فہمی اس بناء پر ہوئی کہ یکم اپریل 1947کو لارڈ ماونٹ بیٹن سے ملاقات میں گاندھی جی نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ قائد اعظم کو فی الفور مرکزی عبوری حکومت کا وزیر اعظم بناد یا جائے ۔ مقصد گاندھی جی کی اس تجویز کا یہ تھا کہ محمد علی جناح کو پاکستان کا مطالبہ ترک کرنے پر آمادہ کیا جاسکے گا۔

لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس ملاقات کے بارے میں اپنی یاد داشت میں لکھا کہ گاندھی جی کی اس تجویز پر انہیں سخت تعجب ہوا۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے لکھا کہ میں نے گاندھی جی سے پوچھا کہ اس تجویز پر مسٹر جناح کیا کہیں گے؟ تو گاندھی جی نے جواب دیا کہ اگر آپ یہ کہیں گے کہ یہ میری تجویز ہے تو مسٹر جناح کہیں گے ، مکار گاندھی۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے لکھا کہ میں نے جب گاندھی جی سے کہا کہ میں اگر قیاس کروں کہ مسٹر جناح یہ کہنے میں حق بجانب ہیں تو گاندھی جی نے زور دے کر کہا کہ میں اس تجویز میں پوری طرح مخلص ہوں۔

گاندھی جی سے ملاقات کے بعد لارڈ ماونٹ بیٹن کی نہرو سے ملاقات ہوئی جس میں نہرو نے گاندھی جی کی تجویز کو نا قابل قبول قرار دیا ۔ نہرو کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے بھی گاندھی جی نے یہ تجویز پیش کی تھی جو انہوں نے مسترد کر دی تھی۔

۳ اپریل کو لارڈ ماونٹ بیٹن سے چوتھی ملاقات میں گاندھی جی نے اعتراف کیا کہ اگر یہ صورت حال ہے اور مسلم لیگ اپنے موقف میں اٹل ہے تو پھر تقسیم ہند ناگزیر ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.