ہم سے ہے پاکستان

569

یہ ایک مستند حقیقت ہے کہ پاکستان ہم سے ہی ہے اگر ہم نہ ہوں گے تو پاکستان ، پاکستان نہیں رہے گا ہاں بلکل نہیں رہے گاکیونکہ ہمارا پاکستان سے اور پاکستان کا ہم سے جسم اور جان جیسا مضبوط رشتہ ہے ۔پاکستان کی رگوں میں ہمارے آباؤ اجدادکے خون کی قربانیاں شامل ہیں۔ پاکستان ہمیں آسانی سے نہیں ملا بلکہ پاکستان کو وجود میں ڈھالنے کیلئے ہزاروں بچے یتیم ہوئے، ہزاروں ماؤں کی گودیں اجڑیں کئی باپوں کی قمریں ٹوٹیں ،لاکھوں دلہنیں بیو ا ہوئیں اور لاکھوں عصمتیں درندگی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ لوگوں نے اپنی جان ، مال، عزیزواقارب اور آسائشیں قربان کر دیں کیا پاکستان پر ہمارے آباؤاجداد کے یہ احسانات کم ہیں؟

پاکستان کی رگوں میں ہمارے بڑوں کا لہو دوڑتاہے اور یقیناان احسانات کی وجہ سے پاکستان آج تک ہم سے وفائیں نبھا رہا ہے یہ ہمارے بڑوں کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ آج ان کے احسانات کا قرض چُکاتے ہوئے پاکستان نے ہمیں ایسا ماحول فراہم کیا ہے جس میں کسی جماعت کو قوم ، مذہب ، ذات پات اور اقلیت کی بنا پر کسی قسم کے غیرمساوی سلوک کا ڈر نہیں ہے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھااور اسلام کے اصولوں میں مسلمانوں کیساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہے ۔پاکستان میں اسلامی اصولوں پر عملی پیروی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ملک یہاں تمام مذاہب اپنے تہوار جن میں عیدیں، شبراتیں ، ہولیاں ، ایسٹر شامل ہیں بڑی آزادی اور اطمینان سے مناتے ہیں ۔اکثریت کو اقلیت پر کبھی تعداد مین زیاد ہ ہونے کی وجہ سے ترجیح نہیں دی جاتی ۔ آج کسی عید ِقربان پر گائے ذبح کرنے کے بدلے میں گاؤں کے گاؤں اور محلوں کے محلے نظر آتش نہیں کیے جاتے ۔ اقلیتوں کو بھی پاکستان پر فخر ہے اور اکثریت بھی پرچم پاکستان کے سامنے احترام اور محبت سے سرجھکائے کھڑی ہے۔

کیاپاکستان ہمارے اجداد کی قربانیوں کا قرض ہمیں سود سمیت واپس نہیں کر رہاَ ؟ آج ہم آزاد ہیں ۔ہم زمینوں ، پانیوں ، جنگلوں ، صحراوں ، صنعتوں ، اداروں اور ایک آزاد ملک کے مالک ہیں ۔پاکستان نے تو اپنے وعدے ہرحال میں پورے کیے اورکررہاہے پاکستان کو قائداعظم ، علامہ اقبال ، اور ہمارے بڑوں کی قربانیوں کا خیال ہے مگر کیاہمیں ہمارے ورثاء کا عزم یاد ہے؟ کیا ہم اپنے اجداد کی دی گئی قربانیوں کا قرض چکارہے ہیں؟ کیا ہم احسان شناس ہیں ؟ پاکستان بار بار یقین دلا رہا ہے کہ اسکا وجود ہمارے ساتھ ہے مگر کیا ہم اپنے بڑوں کی قربانیاں جو ہمارے پاس پاکستان کی شکل میں موجود ہیں ہم اپنی وفاؤں کا پاکستان کو یقین دلارہے ہیں ؟ پاکستان تو یقیناًہم سے ہی ہے مگر کیا ہم پاکستا ن سے ہیں؟

موجودہ حالات سے تو بلکل ایسا نہیں لگتابلکہ ہم سے جہاں تک ہو پا رہا ہے ہم انفرادی مفادات کے لئے ، سیاسی ، مذہبی ، اور صوبائی تعصب کو ہوادے کر پاکستان کی خود ہی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ ہماراصاحب اختیار طبقہ پاکستان کے ہاتھ کاٹ کاٹ کر سوئس بینکوں میں سرمایا اکٹھا کر رہا ہے اور درمیانہ طبقہ حسد کی جنگ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جا نے کی کوشش میں مصروف ہے۔ جائز نا جائز طریقوں سے جہاں تک کسی کا ہاتھ پہنچتا ہے بس دولت اکٹھی کرنے کی دوڑ لگی ہے ۔ نچلا طبقہ مایوسی کے اندھیروں میں اس قدر غرق ہے کہ وہ ہر طرح کی برائیوں کے حوالے سے پاکستان کو بدنام کر رہاہے ہر کوشش کر ہا ہے ۔ پیارے پاکستانیو! جان رکھو کہ پاکستان حاصل کرنے کا صرف ایک ہی مقصدتھا اوروہ تھا برصغیر کے ستائے ہوئے ،دکھیارے اور غموں کے مارے ہوئے لوگوں کے لیے ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام۔ مگر آج ہم ہر سطح پستی اور زوال کا شکار ہیں ۔ سنوپیارے ہم وطنوں! ایک بات ذہن نشین کرلو ،عقائد کا حصہ بنالوکہ جب تک ہم پاکستان سے اور پاکستان ہم سے جڑا ہے ہم ازل کی تختی پر آویزاں رہیں گے ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں ۔
آو اک عہد کریں کہ

ہم سے ہی ممکن ہو گا آئندہ کالائحہ عمل
ہم ہی سنواریں گے زمانے کے سارے کل

عمر فاروق دنیا نیوز سے وابستہ ہیں۔ کتب بینی کا شوق رکھتے ہیں اور سیاسی و سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. alisha کہتے ہیں

    Bilkul bja farmaya

تبصرے بند ہیں.