سندھ کے قائد حزب اختلاف پر اپوزیشن میں اختلاف

1,083

انتخابات 2018 میں تصور کیا جارہا تھا کہ سندھ سے موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگا لیکن نتائج اس کے برعکس نکلے اور 2018 کے عام انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی سندھ سے کامیاب ٹھری ۔سندھ میں پیپلز پارٹی 78 صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے ساتھ سر فہرست ہے جبکہ پی ٹی آئی نے 22 ، ایم کیوایم نے 16 اور جی ڈی اے نے 11 شستیں اپنے نام کیں ہیں۔ ان انتخابی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو سندھ اسمبلی میں مظبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اُدھر تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین نے ایم کیو ایم کے مرکز کا دورہ کیا اور متحدہ رہنما ؤں سے ملاقات کرکے انہیں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت پر آمادہ کرلیا ہے ۔
جہانگیر ترین اور ایم کیو ایم رہنما ؤں کی ملاقات کے بعد متحدہ کے وفد نے بنی گالہ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات میں چند مطالبات سامنے رکھے۔ان مطالبات میں مردم شماری کے معاملے پر حمایت اور کراچی میں ترقیاتی کام سرفہرست تھے۔ تحریک انصاف نے یہ مطالبات تسلیم کرلیے ۔ دوسری جانب جی ڈی اے اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا نے بھی تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا اورسندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے اس عزم کا اظہارکیا کہ وہ پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دیں گی۔ ایسے میں تحریک انصاف کی جانب سے سندھ میں فردوس شمیم نقوی کا نام قائد حزب اختلاف کیلئے سامنے آیا جس سے اس کی اتحادی جماعتیں بھی متفق تھیں ۔
اس صورت حال میں مگر تحریک انصاف کراچی کے صدر اور ممکنہ امیدوار برائے قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی سے سنگین سیاسی غلطی سرزد ہوئی ۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم مجبوری میں ایم کیو ایم کے پاس گئے کیونکہ ہمیں ووٹ پورے کرنے تھے۔ اس بیان کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے شدید رد عمل آیا تو تحریک انصاف نے بھی اپنے دفاع کی بھرپور کوشش کی اور فردوس شمیم نقوی کے اس بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا جبکہ ترجمان تحریک انصاف نعیم الحق نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم سے اتحاد غلطی نہیں حکمت عملی ہے۔
ایک عام کہاوت مشہور ہے کہ کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلے الفاظ واپس نہیں آتے، ایسا ہی کچھ ہوا فردوس شمیم نقوی کے ساتھ اوران کو یہ بیان خاصا مہنگا پڑ گیا۔پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے فردوس شمیم نقوی سے بیان پر باز پرس کی جبکہ قیادت نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ متنازع بیان دینے کی پاداش میں انہیں اب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نہیں بنایا جائے گا۔تحریک انصاف کی جانب سے اس عہدے کیلئے اب حلیم عادل شیخ کا نام زیر غور ہے ۔دوسری جانب اس متنازع بیان کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی قیادتوں کے مابین رابطہ ہوا جس میں مظبوط،متحرک اور متفقہ اپوزیشن لیڈر لانے پر اتفاق ہوا۔گر ایم کیو ایم پاکستان اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کا اتحاد ہوجائے تو اسمبلی اراکین کی عددی اکثریت بڑھ جائے گی کیونکہ ایم کیو ایم کے پاس 16 اور جے ڈی اے کی 10 نشستیں ہیں جبکہ تحریک انصاف کے پاس سندھ اسمبلی کی 23 نشستیں ہیں، اگر ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کا اتحاد ہوجائے تو ممبران کی تعداد کُل ملا کر 26 ہوجائے گی اور اس طرح تحریک انصاف اپنا قائد حزب اختلاف نہیں لا سکے گی۔
تحریک انصاف کو سندھ بلخصوص کراچی میں ایم کیو ایم کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔اس بات میں شک نہیں کہ تحریک انصاف اس وقت سندھ میں ایم کیو ایم سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔لیکن ایم کیو ایم پاکستان کے پاس تجربہ کار قیادت ہے ۔اگر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف میں اختلافات رہے تو تحریک انصاف سندھ میں بھرپور اپوزیشن کا کردار اپنی اور عوامی خواہشات کے مطابق ادا نہیں کرسکے گی ۔جس سے تحریک انصاف کی سیاست کو سندھ میں شدید دھچکا پہنچے گا ۔جس کاتمام تر فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہوگا ۔

تحریک انصاف کو موجودہ صورت حال کو سمجھتے ہوئے ایم کیو ایم کے تحفظا ت کو دور کرنا ہوگا۔فردوس شمیم نقوی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا بیان واپس لیں تو یہ ان کے سیاسی مستقبل کیلئے بہتر ہوگا ۔تحریک انصاف کی قیادت کو ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے رابطہ کرنا ہوگا اور انہیں اس بات پر امادہ کرنا ہوگا کہ وہ وفاق میں عمران خان کی حمایت کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی قائد حزب اختلاف کیلئے تحریک انصاف کی حمایت کریں ۔متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کو بھی کراچی کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف سے تعلقات کو مظبوط کرنا ہوگا۔
اگر حزب اختلاف کی جماعتوں میں اتحاد نہ ہوا تو نقصان سندھ کے عوام کا ہوگا۔ایم کیو ایم پاکستان، جی ڈی اے اور تحریک انصاف کو اب سندھ کے عوام کے مستقبل کا سوچنا ہوگا۔سندھ کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.