عمران خان صاحب! سنا پڑوسی کیا کہہ رہے ہیں؟

0 3,012

ہندوستان کے سیاست دانوں اور میڈیا میں ان چہ مگویوں اور قیاس آرائیوں کا سیلاب آیا ہوا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ہندوستان او ر پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے یا دونوں ملکوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوں گے؟

عام انتخابات کے بعد عمران خان نے اپنی فتح کی تقریر میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے تنازعات بات چیت کے ذریعہ حل کئے جانے چاہیں ۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے۔ لیکن ہندوستان کے میڈیا نے، جس پر آج کل نریندر مودی کی حکومت کا بھر پور تسلط ہے، اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان نے اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کی۔اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ نریندر مودی نے عمران خان کی انتخابی جیت پر دو روز کی تاخیر کے بعد مبارک باد پیش کرنے کے علاوہ عمران خان کی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کی خواہش کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔

کنول سبل ترکی، مصر، فرانس اور روس میں ہندوستان کے سفیر رہ چکے ہیں اور سن ۶۶ میں ہندوستان کی وزارت خارجہ کے سیکرٹری تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقسیم ہند کے زخموں، کشمیر کے تنازعہ، چار جنگوں، پاکستان میں جہادیوں کے بڑھتے ہوئے اثر اور ہندوستان کے تئیں پالیسی سازی کے عمل پر پاکستان کی فوج کے کنٹرول کے پیش نظر ، عمران خان کی انتخابی فتح سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے بلکہ تعلقات اور زیادہ دشوار گذار ہو جائیں گے۔ کنول سبل کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے اس لئے وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں فوج کے زیر اثر رہیں گے ۔
ہندوستان کے میڈیا کا کہنا ہے کہ عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لئے کہا ہے کہ اگر ہندوستان نے ایک قدم بڑھایا تو وہ ۲قدم آگے بڑھیں گے لیکن انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ وہ ہندوستان کے پہلے قدم سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟بھارتی میڈیا کی رائے ہے کہ افغانستان کے بارے میں عمران خان کی پالیسی کے نتیجہ میں افغانستان میں ہندوستان کے مفادات سے مزید تصادم ہوگا جن کا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر گہرا اثر مرتب ہوگا۔

بھارتیا جنتا پارٹی کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے سابق مشیر سد ھندرا گلکرنی نے گذشتہ سال عمران خان سے ملاقات کی تھی ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے بارے میں اپنے پیمان پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ مذاکرات کے راستے ہی ہم اپنے تمام تنازعات حل کر سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چار جنگیں لڑی ہیں لیکن یہ جنگیں ہمارے تنازعات حل نہیں کر سکی ہیں۔ گلگرنی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ انہیں نریندر مودی سے بہت زیادہ توقعات تھیں کہ وہ امن کے عمل کو بڑھائیں گے کیونکہ وہ ان کے نزدیک طاقت ور رہنما ہیں لیکن وہ توقعات پر پورے نہیں اترے۔ گلگرنی کا مزیدکہنا ہے کہ ہندوستان میں بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کی فوج ، ہندوستان سے امن کی خواہاں ہے ؟جس کے جواب میں یہ سوال اچھال دیاجاتا ہے کہ کیا ہندوستان کی فوج نے اس مسئلہ پر کسی سطح پر بھی پاکستانی فوج سے بات چیت کی ہے؟

گلگرنی کا کہنا ہے کہ ایک ماہ پہلے انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا ، اس دوران بہت سے لوگوں نے ان سے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج ہندوستان کے ساتھ امن چاہتی ہے اور بیشتر سیاست دان بھی یہی چاہتے ہیں لیکن جو بھی تصفیہ ہو وہ مساوی حاکمیت کے اصول پر با عزت تصفیہ ہونا چاہئے ۔

عمران خان کی انتخابی جیت کے پیچھے ، فوج کی مدد کا جو عام تاثر ہے اس کی وجہ سے ہندوستان میں سیاست دان اور میڈیا میں یہ رائے عام ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی پالیسی پر عمران خان کے ہاتھ بندھے رہیں گے اور ان کے لئے بڑی مشکل ہوگی کہ وہ اس سلسلہ میں آزادانہ حکمت عملی اختیار کریں۔ ہندوستانی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ عمران خان پاکستان کے منفرد سیاست دان ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے روائیتی سیاست دانوں کی طرح بڑے جاگیر دار خاندان سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ موروثی دولت کے بل پر مالی فائدےکے لئے وہ سیاست میں آئے ہیں ۔ ہندوستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ قیام پاکستان کے بعد 1958تک جب فوج نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کیاتھا، پاکستان کے چھ وزراء اعظم پس پردہ فوج کی سیاسی چالوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جن میں چندریگر تو صرف ایک ماہ انتیس روز وزیر اعظم رہے اور فوج کی ناراضگی کا نشانہ بنے۔ ملک فیروز خان نون کی وزارت اعظمی صرف نو ماہ بعدہی مارشل لاء کے نفاذ کیساتھ ڈھیر ہوگئی۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے سیاست دان اور میڈیا دوسرے مسائل کو اہمیت نہیں دیتا جو عمران خان کے لئے سنگین چیلنج ہیں جن میں ابتر اقتصادی صورت حال ، بے روزگاری ، دہشت گردی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں مشکلات شامل ہیں لیکن صرف کولہو کے بیل کی طرح پاکستان کی فوج کے ارد گرد اس کی رائے کی گردش جاری ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.