اپوزیشن پریشان کیوں ؟

2,248

آزمائش تو آپ دونوں کے لئے ہے۔ جہاں نظام انتخاب نے اپوزیشن کو دھوکہ دیا۔ وہیں تحریک انصاف کے لئے بھی وقت آزمائش ہے۔نظام انتخابات نے پچھلی کئی دھائیوں سے مسلط اشرافیہ اور کرپٹ مافیہ کو مکھن سے بال کی طرح اگر نکال پھینکا ہے تو وہیں تبدیلی کے علمبردار اور روائیتی سیاست سے بیزار عمران خان کو بھی مجبور اور بےبس بنا کر روائتی ہتھکنڈے استعمال کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ پھر اپوزیشن اتنا تلملا کیوں رہی ہے؟ بھئی آپ کا نظام، آپ کا گھر، آپ کی بیٹھک، آپ کی مجلس گاہ، پارلیمنٹ اور نظام تو قائم دائم ہیں۔ پھراتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں ؟ جیسے نظام ہی بدل گیا ہو!

وہی الیکٹیبلز ہیں، وہی وننگ ہارسز ہیں، وہی حکومت سازی کے ہتھکنڈے ہیں، وہی چہرے ہیں، وہی دولت کی ریل پیل ہے، صرف اقتدار چھن جانے کا اتنا غم کے چین سے بیٹھا بھی نہیں جا رہا۔
کوئی رات کو خواب میں اٹھ کر اپوزیشن اجلاس بلانے اور انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر رہا ھےتوکوئی نومنتخب حکومت کو سبق سکھانے کی باتیں کر رہا ہے، آخر خوف کس بات کا ہے؟
کہیں نظام کے بدلنے کے آثار تو نظر نہیں آ رہے؟

تاریخ میں پہلی بار مولانا فضل الرحمن صاحب کو اتنا پریشان دیکھا جا رہا ہے۔میاں شہباز شریف سے تو بات نہیں ہو پا رہی، البتہ پیپلزپارٹی اندر سے خوش اور بظاہر فکر مند دکھائی دیتی ہے۔
جماعت اسلامی والے اپنی حاضری لگوانے تک محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ اے۔این۔پی کا ہونا نہ ہونا برابر ھے۔

اب سوال یہ ہے کہ حضرت مولانا اس مایوس اپوزیشن سے مطلوبہ نتائج حاصل کر پائیں گے؟میں تواس لڑائی کو ذاتی لڑائی میں بدلتے دیکھ رہا ہوں اس اپوزیشن کی لڑائی کو شدت پسندی ،انتہاپسندی اور بل آخر دہشت گردی میں بدلتے دیکھ رہا ہوں۔ ا پوزیشن میں جان باقی نہیں رہی اور عوام اس میکسچر کا حصہ نہیں بنیں گے اور ایسے میں بل آخر اپنے چند شدت پسند فالورز کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش ہو گی۔ مگر بدنصیب بدقسمت اپوزیشن اپنے اس حربے سے بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پائے گی!

اس وقت پوری اپوزیشن میں سب سے زیادہ فکرمند مولانا فضل الرحمن نظر آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ھے ان سے کسی نے ایم این اے کی سیٹ نہیں بلکہ زندگی کی سانسیں مانگ لی ہوں اور وہ اپنی زندگی بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہوں۔ مولانا صاحب گزشتہ تین چار دہائیوں میں اللہ پاک نے آپ کو خوب مواقع عطا کیے، کھلی چھوٹ دی مگر آپ نے اپنے آپ کو پارلیمنٹ اور ایم این اے ہاسٹلز تک ہی محدود رکھا سالوں تک چیرمین کشمیر کمیٹی رہے مگر کشمیر لٹتا ہی رہا کبھی آپ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پراجاگرکرنے کی کوشش نہ کی۔

آپ سالانہ دیوبند کانفرنس کروانے میں تو پیش پیش رہے مگر کبھی اس معیار کی کشمیر کانفرنس کی آپ کو توفیق نہ ملی، کہ چلو ایک کانفرنس کے ذریعے ہی کشمیر کے مسائل کو اجاگر کر دیتے۔آپ نے اپنے خاندان کے لئے اقتدار تک پہنچنے کی راہ تو ہموار کی مگر اسلام کو اسمبلی تک پہنچانے کے لئے کبھی آپ کی کوئی جاندار آواز سنائی نہ دی۔آپ دیوبند کانفرنسیں تو کرواتے رہے، مگر جب لال مسجد سے ریاست کے خلاف آواز اٹھی تو آپ نے اپنے ان بچوں کو سمجھانے کی کوشش نہ کی چلو اگر سمجھانے کا وقت نہیں ملا تو جب وہ بلکل ریاست کے سامنے آ گئے اور ایک جنگ کا ماحول بن گیا تو جانتے ہوئے بھی کہ ریاست سے ایک محدود سا گروہ لڑ نہیں سکتا لیکن آپ اپنے ہی مکتبہ فکر کے بچوں کو جو آپ کو ایک روحانی سرپرست کے طور پر دیکھتے تھے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر لندن جا بیٹھے۔

مولانا آپ نے نہ تو ملک کی اور نہ ہی اپنے مکتبہ فکر کی کوئی خدمت کی اگر آپ کی وجہ سے آپ کے مکتبہ فکر کے طالب علم کو محکمہ اوقاف کی طرف سے نوکری مل گئی تو وہ اتنی بڑی خدمت نہیں جس پر آپ کی لال مسجد پر مجرمانہ خاموشی کو لوگ بھول جائیں۔ آپ کو آج غشی کے جو دورے پڑھ رہے ہیں۔ یہ وہ گرہیں ہیں جو آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے لگائی ہیں۔ آپ سن لیجیئے آگے چل کر کچھ ہی عرصہ میں آپ کے اپوزیشن کے ساتھی بھی آپ کو چھوڑ جائیں گے اور آپ ڈیرا اسماعیل خان کی کسی ڈسپنسری میں اپنے دل کے ٹیسٹ کرواتے پھر رہے ہونگے۔ مگر وہاں سے آپ کے دل کو مزید بےقراری ملے گی کیونکہ آپ نے کئی سال تک اپنے والد مفتی محمود کا نام بیچا اورمسلک کا نام فروخت کیا۔آپ نے اسلام کے نام پر اسلام آباد کی طلب میں تمام حدود کو پارکیا۔ لیکن اگر کچھ نہیں کیا تو اسلام اور مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔

آپ کی ناک کے نیچے طالبانائیزیشن پروان چڑھتی رہی آپ نے اس کے نتائج کا ادراک نہ کیا، افغانستان میں ملا عمر کی اسلامی ریاست پامال ہوئی وہاں شدت پسندی پروان چڑھتی رہی آپ نے اثرو رسوخ ہونے کے باوجود کردار ادا نہ کیا۔ عالم کفر افغانستان کے راستے پاکستان کے سر پر آ بیٹھا آپ کی غفلت و لاپروائی نے پاکستان کو کئی سال تک مسلسل آزمائشوں سے دو چار رکھا۔ اس سب کے باوجود مولانا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اپوزیشن کو لیڈ کر کے پھر سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جائیں گے؟

چھوڑیے مولانا صاحب چھوڑیے بس کیجیئے اب مزید اس سے آگے شرمندگی ذلت اور پشیمانی کے سوا کچھ نہیں آپ کا دور گزر گیا اب آرام فرمایئے

محمد جاوید قریشی ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ لیبریونین سے وابستہ ہیں اور سوشل ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    بصد معزرت مثال کچھ دائرہ آداب سے ماورا ہے لیکن کوئی ہتر تمثیل نگاہ ئے ذہن سے سر دست اوجھل ہے۔ کتا اپنا ہی پالا ہوا کیوں نہ ہو ذرا اسے وہ ۂڈی چھین کر دیکھ لو کہ کس قسم کا حشر برپا کرتا ہے اور پھر وہ ہڈی جس پر گوشت بھی ہو۔ ایک بار پھر بصد معزرت ان دھتکارے ہوئے پولیٹیشنز کی حالت اسی سگ جیسی ہے جسے نہ صرف ہڈی چھن گئی بلکہ وہ ہڈی جس پر اچھا خاصہ عوام کا گوشت بھی اٹیچ تھا۔ فضل رحمان تو کسی نہایت خونخوار سگ سے بھی بد تر مظاہرہ کر رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.