کیا بیٹنگ ہمیشہ آپ کا حق رہے گا ؟

1,466

انتخابات 2018ء کے نتائج کی روشنی میں تحریک انصاف اکثریت کے ساتھ ملک کی آئندہ حکمراں جماعت کے طور پرابھر کرسامنے آئی ہے۔تحریک انصاف کوحکومت سازی کے مرحلہ میں دشواریوں کا سامنا تو ضرور ہے،لیکن بالآخر وہ حکومت کی تشکیل کے لیے ممکنہ تعداد پوری کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔آئندہ حکومت کو سخت معاشی مسائل کاسامنا کرنا پڑے گااور اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ متوقع وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرنے حکومت سازی کے عمل سے قبل ہی ملکی معاشی مسائل کے حوالے سے عوام کو آگاہ کردیا ہے۔ گزشتہ 5سال میں ملکی خزانے کی جوبے قدری دیکھنے میں سامنے آئی اور روپے کو جس طرح بھارت،افغانستان اور بنگلہ دیشی کرنسی سے نیچے جاتے دیکھا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پستی کی شکاراس ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرنا تحریک انصاف کے لیے آسان نہ ہوگا اور نہ ہی مسند اقتداران کے لیے پھولوں کی سیج ہوگی۔ حکومت سازی سے قبل ہی آئندہ حکومت کے ساتھ تعاون کے حوالے سے امریکہ کاسخت مؤقف،آئی ایم ایف سے معاونت پر نظرثانی کی ڈیمانڈاور سی پیک بارے تحفظات بھی یہ عندیا دیتے ہیں کہ آنے والی حکومت کوامریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کومستحکم کرنا بھی ایک بڑاچیلنج ہوگا۔ گزشتہ حکومت کی جانب سے خارجہ محاذ پر پہ درپہ سفارتی ناکامیوں کے باعث بیرونی عالمی قوتوں کو بھی اس بار رام کرنا بھی تحریک انصاف کی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔ درحقیقت پاکستان اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے، اسے اب کی بار ایک قومی حکومت کی ضرورت تھی، جوکہ سیاسی محاذ آرائی سے بالاترہوکرملکی معاشی عدم استحکام اورعوامی مسائل کے خاتمے کے لیے کام کرتی، لیکن اس وقت صورتحال اس کے برعکس ہے۔ تحریک انصاف کہ جس کو22سال تک مسلسل جدوجہداور تبدیلی کے نعرے کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کاموقع ملا ہے،اس کو ملکی تاریخ کی مضبوط ترین اپوزیشن کاسامنا ہوگا۔ اپوزیشن کی جانب سے ایک ناقابل یقین سیاسی اتحاد قائم کرلیاگیا ہے،جس میں وہ تمام جماعتیں سیاسی حلیف بن چکی ہیں کہ جو گزشتہ 4 دہائیوں سے اقتدار کے مزے لوٹ چکی ہیں۔اس اپوزیشن اتحاد کی جانب سے آئندہ حکومت کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہربھرپوراحتجاج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔یعنی کہ ملکی خزانے سے اربوں روپے خرچ کرکے انتخابات کروانے کے نتیجہ میں تشکیل پانے والی پارلیمنٹ عوامی ایجنڈے پرعمل پیراہونے کی بجائے سیاسی میدان جنگ میں تبدیل کردی جائے گی۔ شائد کروڑوں پاکستانیوں کی نظر میں حقیقتاًنئی پارلیمان کی حلف برداری کا دن عمران خان کی کامیابی اورنئے پاکستان کی تشکیل کاسورج لے کر طلوع ہوگا،لیکن بحیثیت ایک حقیقت پسند صحافی میرے لیے یہ بیان کرنا مشکل نہ ہے کہ یہ سیاسی محاذآرائی کا پہلا دن ہوگا کہ جس کے بعد تحریک انصاف کو آئے روزنئے سے نئے مصائب کاسامنا کرنا پڑے گا۔
اگر انتخابی میں عمل میں کسی بھی قسم کی دھاندلی کی گئی ہے تولازم ہے کہ تحریک انصاف تواتنے اثر ورسوخ والی کبھی بھی نہیں رہی کہ وہ الیکشن کمیشن پربراہ راست اثرانداز ہوکرمرضی کے نتائج حاصل کرسکے،البتہ اگر کوئی تیسرا فریق اس اپوزیشن الائنس کی ناکامی کاسبب بناء ہے تو اس کو بے نقاب کرنا اور دھاندلی کے ثبوت فراہم کرنا ناکامہونے والی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن پارلیمان کی بے توقیری کرتے ہوئے قبل از حلف پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کی باتیں اور عوامی ووٹ کے تقدس کوپس پشت ڈالتے ہوئے اگر آپ صرف اس بات پر اختلاف کرتے کسی تیسری فریق کو اقتدار میں آنے سے روکیں گے کہ “ہمیشہ بیٹنگ کرنا “صرف ہم دوکھلاڑیوں کاحق ہے، تویہ سراسر جمہوری عمل کے ساتھ زیادتی ہے۔جمہوری ریاست میں ہمیشہ نئے آنے والے کے لیے راستہ اور دل کھلے رکھنے چاہئیں تاکہ عوام اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی کاراستہ چن سکیں۔ لہذااپوزیشن الائنس سے گزارش ہے کہ آپ بے شک ایمپائر کی انگلی کی تلاش جاری رکھیں، لیکن سیاسی میدان میں میچ فکسنگ سے اجتناب کریں،کیوں کہ لازم ہی نہیں کہ بیٹ اور گیند ہمیشہ دوکھلاڑیوں کے ہاتھ میں ہی گھومتا رہے۔”

(عمیرلطیف، 2008ء سے میڈیا ایڈیٹوریل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ جنگ گروپ سے وابستہ رہے ہیں،نیز عالمی مضوعات پر رپورٹس اورتحقیقاتی رپورٹنگ بھی کرتے رہے ہیں۔ان دنوں دنیا میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.